خواتین کے باریک کپڑے اور پورن سائٹ سرچنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن معاشروں میں بہت کچھ حرام و ممنوع ہوتا ہے وہاں پر ”کلوزڈ ڈور“ سرگرمیوں کا چلن بہت عام ہو جاتا ہے منافقانہ رویے پنپنے لگتے ہیں، فطری خواہشات کو مختلف حیلے بہانوں سے دبانے سے معاشرے میں فرسٹریشن لیول بہت بڑھ جاتا ہے، ایسے معاشروں میں جلوت میں لوگ پارسا بن جاتے ہیں اور خلوت میں وہ تمام حرام زدگیاں کرتے ہیں جن سے انہیں جنسی تسکین حاصل ہوتی ہے، بعض لوگ خود کو خود تسکینی تک محدود کر لیتے ہیں اور بعض عادی ہو کر جارح بن جاتے ہیں اور اپنا گند معاشرے میں ریپ کی صورت میں پھیلا دیتے ہیں۔

یہ منافقانہ چلن ہر اس معاشرے کا المیہ ہوتا ہے جہاں پر انسانی جسم سے جڑی ہوئی بنیادی خواہشات پر بات کرنا ممنوع اور بے شرمی سمجھا جاتا ہے اور بدقسمتی سے ہم بھی اسی سماج کا حصہ ہیں۔ میں ایک دوست سے پورن سائٹس سرچنگ پر تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ کیوں ہمارا ملک اور پورن سائٹس دیکھنے میں اول نمبر پر ہے؟ میرے اس بھولے بھالے دوست کی گفتگو کا یہ نچوڑ تھا

”یہ سب انڈین فلموں کا کیا دھرا ہے جس میں جنسی کشش شدت کی حد تک دکھائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خواتین نے باریک لباس پہننے شروع کر دیے جس سے جنسی بے راہ روی پھیلی اور لوگوں کی غالب اکثریت دین سے دور ہٹ چکی ہے اور اسی وجہ سے پورن سائٹس سر چنگ عروج پر جا رہی ہے“

اس پر میرا یہ موقف تھا کہ ہمیں دین سے دور کرنے میں کون بنیادی کردار ادا کر رہا ہے ہم جس ملک کا حصہ ہیں وہاں پر تو حج کے بعد دوسرا بڑا تبلیغی اجتماع ہوتا ہے جہاں پر لاکھوں تزکیہ نفس کے لیے جاتے ہیں، چھوٹے سے چھوٹے محلہ میں بھی ہر مکتب فکر کی کم از کم 4، 4 عبادت گاہیں موجود ہیں اور عبادت و ریاضت میں ہم خود کفیل ہیں، مولانا طارق جمیل کی تقریر کے مجمع میں لاکھوں کا اجتماع ہوتا ہے جس میں ہر طبقہ فکر کی غالب اکثریت موجود ہوتی ہے مگر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس سارے تسلسل میں کچھ تو مسنگ ہے جسے ہم سمجھ نہیں پا رہے یا سمجھنا نہیں چاہتے اور ”کلوزڈ ڈور“ سب کچھ چل وہی رہا ہے جسے ہم نے ممنوع و حرام کر رکھا ہے۔

میرے دوست کے موقف کو تو چھوڑیے مگر اگر ہم غور کریں تو ہمارے معاشرے کی غالب اکثریت بالکل اسی طرح سے سوچتی ہے، سوشل میڈیا کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں اسی میڈیا پر آپ ایسے چند چہرے دیکھ سکتے ہیں جو اپنا سارا ملبہ خواتین پر ڈال کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہوتے ہیں پارساؤں کے اس لشکر میں سرفہرست انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور خلیل الرحمن قمر جیسے لوگ شامل ہیں جن کا مقصد ہی معاشرے کو یہ بتانا ہے کہ خواتین کی وجہ سے بھی حیائی پھیل رہی ہے اور مرد تو سارے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔

ہم اب جس دنیا کا حصہ ہیں وہاں پر ”فری ول“ کی بہت اہمیت ہے اب مرد اور عورت کو ایک فرد جانا جاتا ہے مگر ہمارے منافق سماج کا وہی منافقانہ چلن ہے، مرد کو تو اپنے لباس کا انتخاب کرنے کی پوری آزادی ہے مگر کیا خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لباس کا خود تعین کر سکے؟ جس دن وہ ایسا کرنے کی جرات کرے تو اسے ہزاروں سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر اس معاملے میں مرد کی خصوصی ڈسکاونٹ حاصل ہے یہ سب کچھ اسے ہی جچتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ عضو تناسل لگا ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ٹائٹ کپڑے پہننے سے مرد بہک جاتے ہیں اور جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے اور ان کا جانور باہر آنے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ان مردوں کی اپنی ماں، بہن یا بیٹی کسی بھی طرح کا لباس پہنتی ہیں تو کیا ان کو دیکھ کر بھی ان کے اندر جنسی ابال آتا ہے؟ کیونکہ جنسی اعضا تو سب خواتین کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، یہ کیسا جنسی ابال ہے جو دوسروں کی خواتین کو دیکھ کر طاری ہوتا ہے؟ اگر جنسی ابال کا تعلق خواتین کے لباس سے ہے تو پھر ہزاروں معصوم بچیاں کیوں اس درندگی کا شکار ہوتی ہیں؟

کیا انہوں نے بھی کوئی شارٹ ڈریس پہنا ہوتا ہے؟ قصور کی پانچ سالہ بچی زینب نے کون سا بھڑکیلا لباس پہنا ہوا تھا جس سے ایک درندے نے اپنی ہوس پوری کی؟ قبر میں لیٹی خاتون نے آخر کون سا لباس پہنا ہوتا ہے جو قبر میں بھی محفوظ نہیں ہے؟ مدرسوں میں پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں نے کون سا بھڑکیلا لباس پہنا ہوتا ہے جو مولویوں کی ہوس کا شکار بن جاتے ہیں؟ اب تو ایسی خبریں بھی سامنے ہیں کہ باپ بیٹی کو نہیں چھوڑتا اور بھائی بہن کو، کیا انہوں نے بھی شارٹ ڈریس پہنے ہوتے ہیں؟

اگر جنسی بے راہ روی جیسے مسائل کی وجہ عورت کا لباس ہے تو مغرب میں تو خواتین انتہائی مختصر لباس پہنتی ہیں وہاں پر ریپ کی شرح انتہائی کم کیوں ہے؟ ساحلوں پر خواتین ننگی پڑی ہوتی ہیں مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیا وہاں مرد نہیں ہیں؟ اس جنسی وحشی پن کی بنیادی وجہ ہمارے بے جان اخلاقی ضابطے ہیں جس کی وجہ سے فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر سیکس کرنے کے لئے شادی کا انتظار کرنا پڑتا ہے مگر شادی سے پہلے ہی اس جنسی بھوک سے نبٹنے کے لیے کسی بھی قسم کی سکولنگ نہیں کی جاتی اور اس پر گفتگو کرنا تو بے شرمی کے زمرے میں آتا ہے، اس بنیادی ضرورت کو سمجھے بغیر کوئی چارہ نہیں اور بہترین حال سیکس ایجوکیشن ہے تاکہ ہمارے بچے جنسی درندوں سے محفوظ رہیں، کتنے والدین ہیں جو اپنے بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی سمجھ بوجھ دیتے ہیں؟ اگر بچوں کو بچپن سے ان کے پرائیویٹ پارٹس کی اہمیت بتائی جائے گی تو وہ اپنی اگلی زندگی میں محفوظ رہیں گے۔ خواتین کے حوالے سے اس تعفن زدہ معاشرے کی منطق بھی بڑی عجیب ہوتی ہے مثلاً

”گوشت کا لوتھڑا کھلا پڑا ہو گا تو کتے حملہ آور ہوں گے“ اور
”کینڈی اگر کھلی پڑی ہو گی تو مکھیاں اور کیڑے حملہ آور ہوں گے“

تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت ایک چیز کا نام ہے؟ عورت کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ ایک جیتی جاگتی انسان ہے، ماں، بہن اور بیٹی سے پہلے وہ ایک انسان ہے، ہر انسان کو سانس لینے سے لے کر زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار ہوتا ہے مگر ایک خاتون کی زندگی کے سب سے اہم فیصلے پہلے والد لیتا ہے، پھر معاشرتی ستم کا شکار اس کی والدہ لیتی ہے اور سب سے آخر میں اس کی زندگی کے اہم فیصلے شوہر لیتا ہے اور آخر کار وہ بوڑھی ہو کر مر جاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورت کی خود کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی؟ وہ ان معاشرتی دائروں میں ہی فٹبال بنی رہتی ہے۔ مرد پر یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر مردوں کے معاشرے میں عورت محفوظ نہیں ہے تو پھر قصور عورت کا نہیں ہے بلکہ مرد ذمہ دار ہے، اگر تھوڑی سی جلد یعنی کھال نظر آنے سے آپ جانور بن جاتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی تربیت کا سوچنا چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments