ہمدرد نونہال سے جڑا بچپن
یہ تحریر آپ کے لئے ہے، نہ آپ کے لئے اور نہ ہی آپ کے لئے۔ یہ ان معدودے چند احباب کے لئے ہے جن کا بچپن ”ہمدرد نونہال“ کی ورق گردانی اور ہر ماہ نئے شمارے کا انتظار کرتے گزرا۔
ابھی کچھ دیر قبل معلوم ہوا کہ ”ہمدرد نونہال“ بھی گردش دوراں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ اب یہ ماہنامہ ایک پنتھ دو کاج کے مصداق اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں شائع ہونے لگا ہے۔ مطلب ایک جلد میں نصف حصہ اردو اور بقیہ انگریزی میں۔ یعنی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر۔ شاید یہ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ انگریزی کے بڑھتے رجحان کے سبب اردو پر فخر کرنے والے دوسرے گولے کی مخلوق تصور ہونے لگے ہیں۔ اثر اس کا یہ ہوا کہ ہم ہنس کی چال نقل کرنے کے چکر میں اپنی چال بھی بھول رہے ہیں۔ خیر یہ بھی ایک الگ بحث ہے۔ اس کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں اور نونہال کا تذکرہ آگے بڑھاتے ہیں۔
ہماری مسیں بھیگنے میں غالباً کچھ وقت باقی تھا کہ ہمدرد نونہال پہلے پیار کی صورت ہماری زندگی میں آن شامل ہوا۔ راقم کا ہمسایہ روزانہ اپنی چھت پر بیٹھ کر کچھ پڑھا کرتا تھا۔ ہماری دانست میں وہ پڑھائی میں دن رات ایک کر رہے تھے۔ بھلا ہو والد صاحب کا جن کی بدولت ہمیں پتا چلا کہ وہ ناول پڑھتے ہیں، کہ ایک دن انھوں نے اس نابغہ کو ڈانٹ کر کہا ”برخوردار! ناولوں کے بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دو ورنہ فیل ہو کر جوتے چٹخاتے پھرو گے“ ۔
ابھی تلک زمانہ ایسا تھا کہ بزرگ محلے کے بچوں کو بہ خاطر اصلاح جھاڑ جھپٹ کر دیا کرتے تھے۔ ناگہاں ہماری چھٹی حس جاگ اٹھی اور بالآخر ایک روز موقع پا کر ان کے پاس جا ٹپکے۔ مودبانہ درخواست کی کہ ہمیں بھی پڑھنے کے لئے چند ناول مستعار فرما دیں۔ آپ نے نظریں ناول سے ہٹا کر ہم پر جمائیں اور قدرے حیرت سے گویا ہوئے۔ ”لگتا ہے چچا جی سے جوتے کھائے زیادہ دن ہو گئے ہیں؟ بچہ ابھی آپ اپنے سکول کی کتابیں پڑھو۔“
وہ ہم پڑھتے ہیں۔ مگر اب ہمیں اخبار میں چھپنے والی کہانیوں اور عمرو عیار وغیرہ کے رسالوں سے بھی خوب دلچسپی ہے۔ لہذا آپ ہمیں یہ کتاب پڑھنے کے لئے دے دیں۔
انھوں نے ایک نظر کتاب پر ڈالی اور پھر ہماری طرف دیکھ کر قہقہہ لگایا۔ ”ابھی آپ کی عمر عمران سیریز پڑھنے کی نہیں لہٰذا نونہال پڑھنے پر اکتفا کرو۔“
وہ کیا ہے؟ ہمیں تو معلوم نہیں۔
ہممم۔ چلو میں آپ کو ایک شمارہ دیتا ہوں۔ پڑھ کر واپس لوٹا دینا۔
محترم اٹھ کر گئے اور ہمدرد نونہال کے ساتھ واپس پلٹے۔ ہمارے ہاتھ میں تھماتے ہوئے خاص تاکید کی۔
”دھیان رہے۔ کوئی صفحہ پھٹنے نہ پائے اور بھوک لگی ہو تو دال چاول خود کھانے ہیں اس رسالے کو نہیں کھلانے“
ہم نے تعظیماً کہا جی بالکل ٹھیک ہے۔ شکریہ کے ساتھ گھر کو لوٹے اور فوراً ورق گردانی شروع کردی۔ جہاں تک ہمیں یاد ہے یہ 80 ء کی دہائی کا شمارہ تھا۔ ہمارے لئے یہ ایک نئی سحر انگیز دنیا تھی۔ سبق آموز کہانیاں تصویروں کے ساتھ۔ لوٹ پوٹ کر دینے والے چٹکلے۔ کردار سازی کے بارے اقوال و حکایات۔ عظیم شخصیات کی زندگیوں بارے معلومات اور ان کے کارنامے۔ معلومات افزا کے سلسلے۔ خط و کتابت۔ جاگو جگاؤ کے نام سے شہید پاکستان حکیم سعید رح کی اجلی اجلی گفتگو۔ مرحوم مسعود احمد برکاتی کی بزرگانہ شفقت ”پہلی بات“ میں جھلکتی۔ علاوہ ازیں بہت سے دلچسپ سلسلے۔
کرشن چندر جیسے مہان لکھاری سے تعارف اسی شمارے کے ذریعے ہوا۔ اس پرانی جلد میں کرشن چندر جی کا بچوں کے لئے لکھا گیا ناول ”چالاک خرگوش“ قسط وار چھپ رہا تھا۔ اس کہانی کے ساتھ دیگر کہانیوں نے اپنے سحر میں ایسا جکڑا کہ نئے پرانے سبھی شمارے پڑھنے کی آرزو تلملا اٹھی۔ یہی وہ شبھ دن تھا کہ اس کے بعد نونہال سے ہماری دوستی قریب قریب دس برس جاری رہی۔
انہی ہمسایہ کی بدولت اس دوران ہمیں جو رسالے ملے ان میں سے ایک میں مرحوم احمد ندیم قاسمی جیسے عہد ساز ادیب کے قلم سے لکھی کہانی ”جلیبی / جلیبیاں“ بھی پڑھنے کو ملی۔ جس کی چاشنی آج تلک لاشعور میں محفوظ ہے۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے کیسے بڑے ادیبوں نے اپنے قلم سے نونہال کی آبیاری کی۔ رئیس امروہی، محشر بدایونی، کشور ناہید اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ جیسے اور دیگر معتبر ادباء نے اپنی تخلیقات سے نونہال کو چار چاند لگائے۔ ادارے اور انہی جیسے ادباء کی بدولت نونہال پاکستان کا مقبول ترین میگزین رہا ہے۔
ہمدرد نونہال کی ابتداء 1953 سے ہوئی جب شہید پاکستان حکیم محمد سعید رح نے بچوں میں اردو کے فروغ، علم کی جستجو کو جگانے اور تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا۔ 1998 میں ان کی شہادت کے بعد یہ سلسلہ ان کی دختر نیک اختر محترمہ سعدیہ راشد نے جاری رکھا۔
آہ! کیا حسین دن تھے۔ پرانے شماروں کی تلاش میں ہم نے کتنی ہی لائبریریاں چھانیں۔ جب ہم نے اپنی جیب سے نونہال خریدنا شروع کیا تو اس کی قیمت 15 روپے تھی۔ جیب اجازت نہ دیتی تھی کہ ہر ماہ یہ سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ بالآخر ایک روز طے پایا کہ محسن، رضوان اور ہم مل کر نونہال خریدیں گے اور باری باری پڑھیں گے۔ مگر محبت بہت خود غرض ہوتی ہے۔ رسالے کی ملکیت کو لے کر ہم میں اتفاق قائم نہ رہ سکا۔ لہذا چار و ناچار ہمیں اپنی زبان کے چٹخارے پر قابو پانا پڑا اور یوں ہر ماہ میگزین خریدتے رہے۔
نجانے کب ہم نے اپنی منتخب تحریریں نونہال میں چھپنے کے لئے ارسال کرنا شروع کیں، یاد نہیں۔ تاہم اپنا نام اور تحریر نونہال میں دیکھ کر شوق بڑھ چکا تھا۔ پھر کیا تھا۔ ہماری تحریریں شائع ہوئیں۔ ڈھیروں خون بڑھا اور پھولے نہ سماتے تھے۔ یکے بعد دیگرے محترمہ سعدیہ راشد نے ہماری تحریروں کو سراہتے ہوئے دو کتابیں بذریعہ ڈاک بھجوائیں اور 100 روپے کا انعام بھی دیا۔ یہ کتب آج بھی ہماری لائبریری کا حصہ ہیں۔
اب تو یاد بھی نہیں کہ نونہال سے رشتہ کب ٹوٹا۔ نونہال ویسا ہی رہا مگر شاید ہم بدل گئے تھے۔ ابھی کچھ دیر قبل نونہال کا جدید شمارہ دیکھا تو اپنا بچپن یاد آ گیا۔ موجودہ اور بیس برس پہلے کے نونہال میں فرق دیکھ کر کسی قدر دکھ ہوا۔ تازہ نونہال میں کمرشل ازم کا احساس زیادہ ہے۔ شاید دور حاضر میں پرنٹ میڈیا کے ذریعے بچوں کی دلچسپی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے اس لیے ادارے نے یہ تبدیلی ضروری جانی۔
علاوہ ازیں وہ کیا ہے نا کہ جب تلک ہم فرفر انگریزی نہیں بولیں گے تو ترقی کیسے کریں گے۔ اور ماں بولی میں ایسا ہے بھی کیا کہ جو اس پر فخر کریں۔


