بارہ ربیع اول اور عمران خان کی حکومت


12 تاریخ ماہ ربیع اول تاریخی حوالوں سے نبی پاک ﷺ کی یوم پیدائش تسلیم کی جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ درست تسلیم کیا جاتا ہے کہ نبی مکرم ﷺ کے ایام حیات میں ”یوم ولادت النبی“ نہیں منایا گیا، اور نہ ہی ریاست مدینہ و مکہ معظمہ میں آپ کی ولادت کی تقریبات منعقد کی گئیں ہوں۔ اگرچہ ہندو پاکستان اور بنگلہ دیش میں ”یوم ولادت النبی“ بڑے تزک و احترام سے منایا جاتا ہے، محافل میلاد برپا ہوتی ہیں، نعت خوانی اور اذکار و فضائل نبی ﷺ و سیرت پاک بیان کی جاتی ہیں، درود سلام ہوتا ہے۔ بڑے بڑے علماء کی شرکت ہوتی ہے مگر ڈیرہ اینٹ کی مسجد الگ، نبی ﷺ کی ایک سنت پر کوئی عمل کرنے کا روادار نہیں کہ:

”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو، آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔“ حتی کہ ایک دوسرے کی امامت میں نماز پڑھنے کے روادار نہیں۔ یہ کیسے داعی اسلام ہیں کہ نبی ﷺ کی دعوت سے سر مؤ انحراف کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ ہی ایک نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں اور جنتی ہیں!

نعت خواں دل گیر کلام پڑھتے ہیں، خطاب (مقررین) اپنے خطبات میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت پاک بیان کرتے ہیں، سب کچھ اچھا ہی کی گردان ہوتا ہے مگر حدیث خواں یہ بھول جاتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سادگی کی بھی تلقین کی ہے، بے جا نام و نمود، نمائش اور اصراف کی ممانعت فرمائی ہے، محبت و عقیدت نبی اکرم ﷺ اس قدر شدت (غلوکی حد تک) ظاہر کرتے ہیں حتی کہ محلہ کی مساجد وہ عمارتوں پر کیے جانے والے چراغاں کے لئے بجلی بھی چوری (کنڈے ڈال) کرنے سے دریغ نہیں کرتے، اور علماء حضرات اس کی نفی بھی نہیں کرتے، یہ ہے ”عید میلاد النبی ﷺ“!

ایسا عمل جس سے اداروں کا غیرمعمولی نقصان کرنا تو مقصود ہو لیکن اپنی جیب سے خرچ کرنا مقصود نہ ہو۔ کیا یہ سب کھیل نبی ﷺ سے عقیدت و محبت کی دلیل ہے؟ کبھی نعت خواں حضرات و سیرت بیان کرنے والے مقررین نے کبھی یہ بھی کہا ہو کہ یہ غلط ہے! دنیوی خوشنودی کے حصول کے لئے، نام و نمود، نمائش اور اصراف سے اجتناب کریں۔ منتظمین کو ایسا کیسے کہ سکتے ہیں چونکہ ان سے محنتانہ جو وصول کرنا ہے، یا وصول کرچکے ہیں۔

اس بار تو عمران خان کے احکامات پر سرکاری عمارتوں پر سرکاری خرچ پر چراغاں کیے جانے کی نوید ہے اور خود عمران خان اور بشری بی بی نے اپنے محل ”بنی غالہ“ پر چراغاں کا اہتمام کیا ہے۔

بشری بی بی اور عمران خانصاحب خود سادگی کی مثال قائم کرتے اور نبی اکرم ﷺ کے یوم پیدائش کی خوشی میں چراغاں پر خرچ کی جانے والی رقم سے کسی بیوہ کی یتیم بچی کا گھر آباد کرنے میں اس کی مالی اعانت کرتے تاکہ نہ صرف نبی پاک ﷺ کی روح مبارک بھی خوشی ہوتی اور سادگی کی بہترین مثال قائم ہوتی، بلکہ وہ قوم کے لئے بھی رہنمائی کا کام دیتی۔

نبی کے امتی ہونے کا مقصد کیا؟ کبھی ہم نے بحیثیت قوم سوچا، عمل کیا؟ یا ہمارے اکابرین و علماء نے دیانت داری سے ہمیں (مسلمانوں کو ) بتایا؟ کیا خود بھی عمل کیا؟ یا صرف چراغاں کر کے، یا نعت و قصیدہ خوانی کے بے ہنگام زور شور سے ثواب حاصل کرنے تک محدود رکھا!

شریک محافل میں سے کس نے سیرت نبوی ﷺ پر عمل کرنے کا عہد کیا؟ اور عملاً کسی بیوہ کی یتیم بچی کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے رخصت کرنے کی ترغیب ملی ہو تو اس نبی اکرم ﷺ کی روح بھی خوش ہوتی اور ان کی سنت پر عمل کی نشانی بھی؟

بشری بی بی اور عمران خانصاحب جو ریاست مدینہ قائم کرنے کے دعوی دار ہیں، اپنی پارٹی (تحریک انصاف) کے اراکین کو بھی سادگی کی روش اپنانے کا کہیں، بڑے بڑے ایوانوں میں رہنے کی بجائے اپنے سادہ گھروں میں رہیں تب ہی سادگی کی بات اچھی لگتی ہے، لوگ اس پر عمل پیرا بھی ہوں گے، ورنہ قدرت نے جو 2 کان دیے ہیں ان کا بھرپور استعمال ہوتا رہے گا۔ جائے شرم ہے ڈاکٹر عارف علوی، گورنر پنجاب غلام سرور، گورنر سندھ عمران اسماعیل، یہ لوگ کس منہ سے سیرت کی ابتدا کرتے ہیں اور سادگی کا درس دیتے ہیں۔

یہی نیکی، یہی تعلیم نبی ﷺ بھی ہے۔ عمران خان نے لاکھوں، اربوں کا اصراف کر کے عمارتوں پر چراغاں کیا کون سی ریاست مدینہ کی راہ ہموار کی؟ قوم کو اس پر غور کرنا چاہیے!

Facebook Comments HS