اماں نامہ ایک بلیک کامیڈی نامہ

بیس بائیس سال قبل جب میں نے پطرس بخاری کو پڑھا تھا تو میرے ہونٹوں کا ذائقہ ہی بدل گیا تھا۔ کئی دنوں تک میں مسکراہٹ اور ظریفانہ سرشاری کے مدار میں گھومتا رہا اور اس سے باہر نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پطرسی مدار میں اپنا گردشی چکر مکمل کرنے کے بعد مجھے وہاں سے جانا پڑے گا۔
ان ہی چکروں چکر میں، میں یوسفی مدار میں داخل ہو گیا مگر اس مدار کی تو کائنات ہی مختلف تھی جس نے مجھے مسکراہٹوں، لطافتوں اور گدگدی کے کئی زمانے دکھا دیے جن کا عکس آج بھی میری آنکھوں کے پردے پر جھلملاتا ہے۔ ڈاکٹر محسن مگھیانہ کا مزاح میرے لئے بیماریوں کا نسخہ ثابت ہوا، گل نوخیز اختر نے تو مجھے اداس رہنے ہی نہیں دیا۔ یہ تو بات ہو گئی ظریفانہ میدان کے بڑے شہ سواروں کی کہ جن کا اردو ادب میں تعارف ہی مزاح نگار کے طور پر ہوتا ہے مگر اماں نامہ کی بات یکسر مختلف ہے جن کی حیران کن طور پر مصنفہ ایک خاتون ہیں۔
جب تک ”اماں نامہ“ کے اوراق میں میرے ہاتھوں کا لمس نہیں گھلا تھا تب تک میں اس کتاب کو حامد سراج مرحوم کی کتاب ”میا“ کی طرح ممتا کے روشن ہالے کی ایک محبت بھری سنجیدہ داستان سمجھتا رہا تھا جس نے مجھے مدتوں اپنے اندر قید کر کے رکھا بلکہ آج بھی میا اور حامد سراج دونوں میرے اندر محو سفر ہیں۔ تو بات ہو رہی تھی اماں نامہ کی، جب محترمہ نشاط یاسمین خان نے مجھے اماں نامہ بھیجنے کی خوشخبری سنائی، تب سے میا کی دنیا میرے اندر انگڑائیاں لے کر بیدار ہو گئی مگر جب ”اماں نامہ“ میرے ہاتھوں کے حصار میں داخل ہوئی تو حیرت نے میرا استقبال کیا اور یہی حیرت ہی اس کتاب سے میرا پہلا تعارف بنا۔
کیونکہ یہ کتاب ممتا کے شیرے میں لتھڑی ہوئی میا جیسی کتاب ہرگز نہیں تھی بلکہ مزاح کے کئی موسموں پر مشتمل تھی۔ ایک خاتون ادیبہ کا مزاح نگار کے طور پر تعارف مجھے حیرت کی نئی منزلوں کی طرف لے گیا اور جب اسی حیرت کے اڑن کھٹولے پر بیٹھ کے میں اماں نامہ کی دنیا میں اترا تو مزید کئی حیرتیں یوں چمٹ گئیں جیسے خانہ بدوش کسی خالی جگہ کو دیکھ کے چمٹ جاتے ہیں۔
اماں نامہ میں کیا کچھ نہیں تھا؟ ہنسنا چاہو تو اماں نامے کے اوراق سے حسب ذائقہ ہنسی اٹھا کر ہونٹوں پر سجا لو، سنجیدہ ہونا چاہو تو اس میں موجزن سنجیدگی آپ سے گفتگو شروع کر دے۔ لطف لینا چاہو تو اس کا لطیف نثری انداز آپ کو لطافت کے نئے مزے چکھا دے، رونا چاہو تو اماں نامہ کی سطروں میں موجود مسکراہٹ کے مورچوں کے پیچھے گھات لگائے آنسو آپ کی آنکھوں کو شکار کر لیں، انشائیہ کا سواد چاہو تو اماں نامہ اس کا ذائقہ بھی آپ کے اندر گھول دے، صرف اتنا ہی نہیں افسانے کا چسکا بھی اماں نامہ کی سطروں میں تیرتا ہوا ملے اور دلچسپ واقعات کا بہاؤ بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جائے۔
غرض ”اماں نامہ“ محض ایک کتاب نہیں بلکہ میری نظر میں ایک ”بلیک کامیڈی نامہ“ ہے جس میں سلجھے ہوئے اسلوب اور انداز بیان کی ندرتوں کے ساتھ اتنا سنجیدہ، میچور اور تہذیبی رچاؤ کے ساتھ مزاح آج تک پڑھنے کو نہیں ملا جو ہلکی ہلکی آنچ کے ساتھ آپ کی کھوئی ہوئی مسکراہٹ بھی آپ کو لا دے اور سنجیدگی کی رجم جھم بھی آپ کے اندر شروع ہو جائے۔
اماں نامہ میں موجود مزے مزے کے کردار آپ سے بوریت یوں چھین لیتے ہیں جیسے راہ چلتے آپ سے کوئی موبائل فون چھین لے۔ مزاحیہ لطافت سے لیس ایسے دلچسپ کردار اور وہ بھی ایک خاتون کی طرف سے، یوں سمجھئے آپ کو مسکراہٹ کا شکار ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اماں نامہ کی اماں تو مجال ہے جو آپ کو آخر تک چھوڑ دیں، اوپر سے ہیلپنگ ورب بن کر ارجمند بانو بھی آپ کے ساتھ چپکی رہتی ہیں اور آپ کے خشک ہونٹوں کو ہنسی کے قطروں سے تر کر کے ہی رہتی ہیں، مرزا صاحب ہوں یا عبدالقدوس یا پھر ابا نامہ کے چچا جان ہوں، ایسے بیسیوں کرداروں کو گھوٹ کر نشاط یاسمین صاحبہ نے مزاح کی ایک خوبصورت دنیا ترتیب دی ہے بلکہ ان کرداروں میں کہیں کہیں چچا چھکن کی آمیزش بھی ملتی ہے اور مدر ٹریسا بھی جھانکنے لگتی ہیں۔ زندگی کے جذبوں سے بھرپور رنگی برنگی کردار اماں نامہ کی دنیا میں آپ کا استقبال کرنے کے کو بے چین رہتے ہیں، یقین نہ آئے تو اماں نامہ پڑھ کر دیکھ لیجیے۔

