ساری زندگی بھی بلا معاوضہ پڑھانا پڑا تو پڑھاتی رہوں گی


اللہ بچائی چھانیو کا تعلق فقیرکی ضلع سانگھڑ سے ہیں۔ پولیو کا شکار ہیں۔ بی۔ اے، بی۔ ایڈ ہیں۔ سولہ سال سے سرکاری سکول میں بلا معاوضہ پڑھا رہی ہیں۔

حکومت سندھ، انسانی حقوق کے کمیشن اور سکول کی طرف سے متعدد ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔ اللہ بچائی کو نعتیں لکھنے اور میلاد پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ سلائی، کڑھائی میں خاصی مہارت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ شام کے وقت بچوں کو مفت ٹیوشن بھی پڑھاتی ہیں۔

والد صاحب پیشے کے اعتبار سے کسان تھے۔ والد اور والدہ دونوں وفات پا چکے ہیں۔ خاندان دو بھائیوں اور سات بہنوں پر مشتمل ہے۔ اللہ بچائی کے سوا سب شادی شدہ ہیں۔

اللہ بچائی کا تعلق نہایت غریب خاندان سے ہے۔ نامناسب حالات کی وجہ سے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا لیکن ہار نہ مانی۔ چار سال کی عمر میں پولیو کا شکار ہوئیں۔ سرکاری ہسپتالوں اور حکیموں سے باوجود علاج کے خاص افاقہ نہ ہوا۔

سکول جانے کی عمر کو پہنچیں تو گھر کے قریبی سکول میں داخلہ کروا دیا گیا۔ اللہ بچائی رینگ رینگ کر سکول جاتیں۔ مالی حالات ایسے تھے کہ کتاب ہوتی تو کاپی خریدنے کے پیسے نہ ہوتے۔ نیا یونیفارم اور جوتے عرصے بعد ملا کرتے۔ پرائمری کے بعد مڈل سکول میں داخلہ لے لیا جو کہ گھر سے خاصے فاصلے پر تھا۔ میٹرک جس سکول سے کیا وہ گھر سے دس پندرہ کلومیٹر دور تھا۔ والد صاحب تانگے پر بٹھا دیا کرتے۔ سکول پہنچنے پر تانگے والا ویل چیئر پر بٹھا دیتا۔ ایف۔ اے شاہ پور کے ڈگری کالج سے کیا۔ اس وقت گھر والوں نے ایک عدد موٹر سائیکل خرید لیا تھا۔ ایف۔ اے کے بعد کمپیوٹر کا ایک سالہ کورس بھی ریگولر کیا۔ اس کے بعد بی۔ اے اور بی۔ ایڈ اوپن یونیورسٹی سے کیے۔

2005 ء میں اللہ بچائی کے گاؤں کے سکول میں ایک ٹیچر نوکری چھوڑ کر چلی گئی۔ بچیوں کی تعلیم کا حرج دیکھتے ہوئے اللہ بچائی نے اس سکول میں بلا معاوضہ پڑھانا شروع کر دیا۔ محکمہ تعلیم اور حکومت سندھ کا کوئی بھی نمائندہ جب کبھی سکول کا دورہ کرتا تو اللہ بچائی کی خوب تعریف کرتا۔ جرنل مشرف نے این۔ سی۔ ایچ۔ ڈی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو انسانی بہبود کے لئے کام کرتا تھا۔ ادارے نے اللہ بچائی کی قابلیت اور لگن دیکھتے ہوئے انھیں باقاعدہ تنخواہ دینا شروع کر دی۔ پچیس سو روپے کی یہ تنخواہ چار چار اور چھ چھ ماہ بعد اللہ بچائی کو ملا کرتی۔ اللہ بچائی نے ہمت نہ ہاری اور پڑھاتی رہیں۔

اللہ بچائی 2005 ء سے بغیر کسی عہدے اور معاوضے کے اسی سکول میں پڑھا رہیں۔ پکی نوکری کی بات کرتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہاں پکی نوکری نہیں ہے۔ مستقل ملازمت کے لئے آپ کو حیدر آباد یا کراچی شفٹ جانا ہو گا۔ وہاں نوکری کے حصول کے لئے مقابلے کے امتحانات ہوتے ہیں۔ اگر آپ پاس ہو جاتی ہیں تب ہی پکی نوکری مل سکتی ہے۔ غربت اور معذوری کی شکار اللہ بچائی کے لئے یہ سب کرنا ناممکن ہے۔

اللہ بچائی ویل چیئر اور زمین پر رینگ کر اپنے سارے کام خود ہی کر لیتی ہیں۔ گھر کی صفائی اور کھانا پکانے میں خاصی مہارت رکھتی ہیں۔ سکول سے گھر آنے کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ اللہ بچائی کے گاؤں میں بہت غربت ہے۔ ٹیوشن پڑھنے والے بچے فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لیے اللہ بچائی بچوں کو مفت میں ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ گاؤں کی خواتین کو قرآن پاک اور مفت دینی تعلیم دینے کا سلسلہ بھی عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے۔ جس سے اب تک بہت سی خواتین مستفید ہو چکی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل اللہ بچائی نے گاؤں سے غربت کے خاتمے کے لئے سلائی سینٹر بھی قائم کیا تھا۔ جس سے بہت سی خواتین ہنرمند ہو کر اپنا روزگار چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل ورک میں بھی پیش پیش رہتی ہیں۔ مختلف این۔ جی۔ اوز سے رابطے میں رہتی ہیں۔ این۔ جی۔ اوز کے تعاون سے مستحق خصوصی افراد کے لئے ویل چیئرز، سفید چھڑیاں اور سماعت کے آلات کا انتظام کرتی رہتی ہیں۔

فارغ اوقات میں اللہ بچائی تلاوت، نعتیں لکھنا اور پڑھنا پسند کرتی ہیں۔ گاؤں کی بیشتر میلاد کی تقاریب میں اللہ بچائی کو خاص طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔

اللہ بچائی کو سرکاری نوکری نہ ملنے کا دکھ تو ہے لیکن یہ مایوس نہیں ہیں۔ نوکری نہ بھی ملی تب بھی یہ اسی طرح بچوں کو پڑھاتی رہیں گیں اور کبھی خدا کی ناشکری نہیں کریں گی۔

اللہ بچائی مستقبل میں مزید پڑھنا چاہتی ہیں اور اپنے سکول میں پکی نوکری حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اللہ بچائی کہتی ہیں۔ سکول کالج دور ہونے کی وجہ سے ان کے گاؤں کی بیشتر لڑکیاں حصول تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ حکومت سندھ گاؤں میں جدید طرز کے سکول اور کالج تعمیر کروا دے تو پورے علاقے سے ناخواندگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

اللہ بچائی کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خصوصی افراد کے حوالے سے منفی سوچ اور رویے پائے جاتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خصوصی افراد شاید کسی کے گناہوں کا نتیجہ ہیں اور یہ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر خصوصی بچے کے اہل خانہ ہی اسے ناکارہ سمجھ لیں گے تو پھر وہ بچہ کس طرح معاشرے میں اپنا مقام بنا پائے گا۔ اس معاشرتی سوچ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS