موسمیات برائے فوٹوگرافی پاکستان
میرے ایک محترم دوست رئیس خٹک مرحوم کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا۔ ایک دن کہنے لگے محمد اظہر حفیظ بھائی اللہ آپ سے راضی ہوں ایک بات کہوں جی خٹک صاحب اپنے کام نمازوں کے مطابق ترتیب دیا کریں۔ اس سے نماز قضا نہیں ہوتی اور سب کام بھی ہو جاتے ہیں۔ بہت خوبصورت بات تھی۔
اسی بات، کو ذہن میں رکھتے ہوئے خیال آیا فوٹوگرافی کو بھی موسم کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ تو فوٹو بھی قضا نہیں ہوتی کتنی آسانی ہو جائے اور نئے آنے والے دوستوں کی راہنمائی بھی ہو جائے گی۔ عموماً ہم لوگ طلوع آفتاب کے بعد صبح کی روشنی کو اچھا سمجھتے ہیں اور غروب آفتاب سے پہلے کے کچھ وقت کو بھی تصویر کشی کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔
جنوری، فروری بہت اچھا موسم ہے اگر آپ سندھ اور چولستان کی منظر کشی کر نا چاہتے ہوں اور زیارت کوئٹہ جانا، چاہیں، پنجاب کے گاؤں دھند کی لپیٹ میں رہتے ہوئے بہت سے شاندار، مناظر، دکھا رہے ہوتے ہیں۔ اور لاہور، ملتان کا اسلامک آرکیٹیکچر کے کیا کہنے ہلکی اور گہری دھند میں ایسا نظر آتا ہے جیسے آپ محو خواب ہوں ان خوابوں کی عکس بندی کیجئیے اور ہمیں بھی دکھایے اپنے خواب۔
ساحل سمندر کراچی کا ہو یا گوادر کا کیا کہنے غروب آفتاب تو سمندر کا کیا کہنے تصویروں کے سمندر میں سب سے زیادہ تصاویر غروب آفتاب کی ہی ہوتی ہیں
مارچ، اپریل چولستان گرم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور آپ ہنزہ، سکردو میں بہار کی آمد کا مزہ لے سکتے ہیں، اسلام آباد بھی سر سبز ہو چکا ہوتا ہے
مئی جون، جولائی اگست، میں نیلم ویلی، شاردہ، کیل، اڑنگ کیل، رتی گلی، تاؤ بٹ، سکردو، گلگت، چترال کا رخ کر سکتے ہیں اور شندور، کا پولو میلہ بھی آپ کا انتظار کر رہا ہوتا، ہے اور کیلاش کی پریاں بھی فوٹوگرافرز کو خوش آمدید کہتی نظر آتی ہیں عطا آباد جھیل، بھی بہترین منظر، پیش کرتی نظر آتی ہے، فیری میڈوز، نانگا پربت آپ کو ، اپنا حسن اور حسین نظارے دکھانے کے لیے بیتاب رہتا ہے ۔
جائیے جیسے ہی وقت ملے اچھی نسل کے جاگرز اور پہاڑوں پر چڑھنے والے ہلکے اور مضبوط، جوتے خرید لیجیے ایک فولڈنگ چھڑی جو ، آپ کو چلنے میں مدد دے ساتھ ضرور رکھیں آکسیجن کی کمی میں اکثر پاؤں وہاں نہیں رکھا جاتا جہاں رکھا تھا چھڑی آپ کو سنبھلنے میں مدد دیتی ہے اور گرنے سے بچاتی ہے، پانی کی بوتل اور کچھ سنیکس، ببل اچھے ساتھی ہیں ساتھی سے یاد آیا ان کے لفافے اور ریپرز ساتھ ہی واپس لے آئیں تو کتنا اچھا ہو۔
تربیلا ڈیم، خان پور ڈیم راول ڈیم اور ساری جھیلیں ہمارا انتظار کرتی ہیں ان کی ریفلیکشنز، کی کیا بات ہے اور اگر آپ ساتھ کیمرہ سٹینڈ ہمراہ رکھ لیں تو ، کیا ہی بات ہے اب رات کا مزہ لیجیے اور تیار ہو جائے کہکشاں کی تصاویر، بنانے کے لیے جن بلندیوں پر آپ ہیں آپ با آسانی ان کہکشاؤں کو دیکھ سکتے ہیں اور عکس بند، کر سکتے ہیں، اور ہمیں بھی دکھا سکتے ہیں اپنے کارنامے اور اللہ کے کرشمے، دیوسائی کا ذکر نہیں کریں گے تو ناشکری ہوگی۔
ملتان میں آم پکنا شروع ہو جاتے ہیں ہر طرف آم عام ہو جاتے ہیں اور فروٹ منڈیاں بھی آپ کو دعوت فوٹوگرافی دیتی ہیں، کوئٹہ کا سیب، کوہاٹ کا امرود کیا کہنے بلوچستان کا انگور سندھ کا کیلا سبحان اللہ، سورۃ الرحمن سنائی دینے لگ جاتی ہے اور تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
ستمبر اکتوبر نومبر
اسلام آباد میں بھی موسم ٹھنڈا ہونے لگ جاتا، ہے اور شمالی علاقہ جات اور بلوچستان میں بھی موسم سرد ہوجاتا ہے کچھ جگہ لینڈ سلائیڈنگ بھی شروع ہوجاتی ہے احتیاط کیجئے سردی شروع ہوتی ہے اور خزاں عروج پر پتے زرد اور لال ہو رہے ہوتے ہیں اور پک کر گر رہے ہوتے ہیں کیا نظارہ ہے رب کی شان ہے درختوں کے رنگ اور موسم ایسا کہ جیسے پہلا عشق ہو۔ ہو بھی جائے تو یقین نہ آئے دوستوں سے تصدیق کرواتے پھرو، یار، یہی عشق ہوتا ہے نا،
بس تصویریں بناتے جاؤ اور دوستوں کو بتاتے جاؤ سب
اصل ہیں کوئی ٹریٹمنٹ نہیں کیا، اصل لگ رہی ہیں نا، آپ کے خواب ہیں تعبیر، بھی آپ کو ہی پتہ ہے کوئی کیسے بتائے کیسے سمجھائے دیوانے کو یہ سب سچ ہے
دسمبر
عشق کیجئے اور مزا کیجئے فوٹوگرافی کا ، گرم کپڑے برف باری پہاڑ مری گلیات، سوات، مینگورہ، مالم جبہ، ٹیکسلا، حسن ابدال اور بہت سے علاقے، لیکن یہ وقت گرم علاقے دیکھنے کے لیے بھی بہترین ہے، ٹھٹہ کی مسجد، ملتان ہنو کا شجہ، لاہور اندرون شہر، راولپنڈی راجہ بازار، سرد علاقوں سے پرندے بھی گرم علاقوں کا رخ کرتے ہیں نکل جائیں جھیلوں پر اور تصویر کشی کیجئے شکار نہیں، اور دیکھے میرے اللہ کی شان، نکلیے اور چل پڑیے، کنو، مالٹے، اچھے اچھے سنگترے اچھے سنگترے سے یاد آیا سفر میں اچھے سنگ والے ہی ترتے ہیں باقی ڈوب جاتے ہیں، ہمیشہ اچھی سنگ ساتھ رکھیئے اور سفر کا مزا لیجیے، سامان کم رکھیئے، موسم کے مطابق لباس اور منزل کے مطابق کیمرہ اور لینز رکھیے، اور مجھے دعاؤں میں یاد رکھیے۔


