دور حاضر ،تعلیم اور ہمارا نوجوان

تعلیم کی اہمیت اور ضرورت سے ہم سب اچھی طرح آگاہ ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ معاشرے کی بقا اور توازن معیاری تعلیم اور نظام تعلیم۔ سے ہے۔ لیکن انسانی فطرت ہے وہ کوئی بھی کام تبھی کرتا ہے جس میں وہ فائدہ دیکھتا ہے اور اپنی سمجھ کے مطابق نفع سمجھتا ہے اگر اس میں کسی دوسرے کا نقصان نہیں ہو رہا ہو تو کچھ غلط نہیں ہے۔ اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو بہت سے لوگوں نے پڑھ لکھ کے اپنے اور اپنے لوگوں کے لیے ایک معیاری زندگی بنائی ہے۔
لیکن آج کے نوجوان کے مسائل اور وسائل یکسر بدل گئے ہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اتنے سال کی محنت اور اتنے اچھے گریڈز بھی اس کو ایک اچھی زندگی نہیں دے رہے تو وہ یہی سوچتا ہے کہ شاید وقت ضائع کیا ہے۔ بنیادی مسئلہ ہمارا یہ ہے کہ ہمارا یہ ہے کہ ہم نے اپنے نوجوان کی تربیت پہ کام کرنے کی بجائے نمبر لینے پہ زور دیا ہے۔ آج کا نوجوان ہر چیز کا موازنہ کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک ہی وقت میں دو بندوں کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے ایک وہ جو روایتی تعلیم اور نمبرز لیتا رہا اور ایک وہ جو دنیا کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کرتا رہا۔
ایک اور بڑا مسئلہ جسے شاید مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا وہ ہے ادراک۔ گلوبل ولیج میں رہتا ہوا نوجوان کیسے آنکھیں بند کر سکتا ہے کہ دنیا میں یا اسی کے معاشرے میں ایک اچھی اور لگژری زندگی کے کیا لوازمات ہیں اور جب اسے نظر آتا ہے کہ یا تو کسی کے پاس ہی سب کچھ ہے یا کسی کے پاس حسرت اور ڈگری میں لپٹے ہوئے خواب ہیں تو وہ اس نظام سے کیسے متاثر ہو گا جہاں اکثریت پڑھے لکھے مزدوروں کی ہو۔ معاشرتی طبقات میں بڑھتا ہوا فاصلہ ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کرے گا۔
مڈل کلاس اوزون کی تہہ کی طرح گھٹتی چلی جا رہی ہے اور توقعات اور نمائش۔ زندگی میڈیا کی وجہ سے عروج پہ ہے۔ جسے جتنا کم پتا ہے وہ اتنا پرسکون ہے اور وہ آج بھی صبر شکر پہ یقین کی دولت سے نوازا ہوا ہے ورنہ آج کے جوان کو صبر شکر ایک جھوٹی تسلی لگتی ہے۔ جتنا exposure ہو اتنی خواہشات ہوں گی یہ حقیقت ہے۔ رابرٹ موگابے زمبابوے کے صدر تھے انھوں نے اپنے پڑھے لکھے طبقے میں بڑھتی مایوسی پہ کہا تھا کہ ”آپ کیسے ایک بچے کو کہ سکتے ہیں کہ پڑھو گے تو اچھی زندگی ملے گی جب وہ بچہ آس پاس میں صرف چند ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کو امیر دیکھتا ہے۔
“ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی تربیت ہو۔ زندگی کے بارے میں صرف سب اچھا ہو گا کا سبق دینے کی بجائے مشکلات کا سامنا کرنا سکھایا جائے۔ سکلز دی جائیں جو ڈگری کی قید سے آزادی دیں کمانے کے لیے۔ یہ بتایا جائے کہ پیسے کیسے کمانے اور کیسے خرچ کرنے ہیں۔ دنیا میں کس شعبے میں کیا ڈیمانڈ ہے ویسے تیار کریں۔ جس شعبے میں جتنی کھپت ہے نوجوان کو پتہ ہونا چاہیے۔ ورنہ پڑھے لکھے غریبوں کے ایک ہجوم کا سامنا ہو گا جو اپنی ڈگری کے زعم میں کوئی دوسرا کام کرنا بے عزتی سمجھتا ہے۔ اسے یہ بتایا جائے آج کا معاشرہ ڈگری پہ نہیں آپ کی وضع قطع سے جانچتا ہے آپ کو۔ پڑھو لکھو لیکن یہ پڑھائی ایسی ہو کہ آپ کو معاشی، معاشرتی، فکری اور سماجی طور پر ایک آزاد انسان بنائے۔


Well done dear feeling proud 😘