خواہش نا تکمیل
آخر کار لمحۂ وصل نصیب ہو ہی گیا۔ اس بھرپور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں کمیونیکیشن نے فاصلوں کو تہس نہس کر کے قربتوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں بات نہ کرنے کے بہانے تراشنا اسے خوب آتا تھا۔ میں نے کہا، ”نور، میں نے تمہاری کمی بہت محسوس کی۔“ فاختہ جیسی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے، اس نے انتہائی سادگی اور معصومیت سے کہا، ”کیوں؟“ اس کی اس ”کیوں“ پر بجائے غصہ یا شکوہ کرنے کے، اس ادائے سادگی پر قربان ہونے کو جی چاہتا تھا۔
میں نے کہا، ”یاد اس لئے کیا، کیونکہ میرے دماغ میں خلل ہے۔“ خلل ہے، اس نے کہا۔ ”جی ہاں“ میں نے کہا۔ اور کیا تمہیں پتہ ہے کہ اس خلل کا ذمہ دار کون ہے؟ ”کون ہے؟“ اس نے پوچھا۔ میرا جواب تھا ”تم ہو۔“ میں نے نور سے کہا، کچھ باتیں کہی نہیں جا سکتی، صرف محسوس کی جا سکتی ہیں۔ ”اچھا جی“ اس نے کہا۔ وہ میری اس جذباتی بے بسی اور الجھن سے خوب محظوظ ہوتی تھی۔
ہماری ان ہی باتوں کے دوران ہمارے سامنے ٹیبل پر کافی کے دو کپ آچکے تھے۔ مزاج اور کافی کے معاملے ہماری پسند مشترک تھی۔ ہماری گفت گو کے دوران اس کے فون نے اپنے ہونے کا احساس دلایا۔ مجھ سے توجہ ہٹا کر وہ فون سننے لگی۔ ڈاکٹر کے پیشے سے منسلک ہوتے ہوئے وہ کورونا کی چوتھی لہر کے خلاف اپنی ٹیم کے ہمراہ نبرد آزما تھی۔ صحیح معنوں میں وہ کورونا سے متاثر دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل تھی۔ اور شاید اسی لئے اس کا میرے لئے وقت نکالنا بعض اوقات انتہائی مشکل ہو جاتا۔ شاید وہ سمجھتی تھی کہ ”تندرست کو طبیب کی ضرورت نہیں بلکہ بیمار کو “ اور یہ بات تھی بھی حقیقت پر مبنی۔ شہر میں کئی ہسپتال تھے اور میں نے وہاں کئی بیماروں کو ہسپتالوں کے بستروں پر براجمان پایا تھا۔
فون کال سے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید اس کے ڈپارٹمنٹ میں کوئی ایمرجنسی ہے۔ کال ڈراپ کرنے کے بعد اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے اپنا کافی کپ اٹھایا اور بڑے بڑے گھونٹ لینے لگی۔ ”نور! کاش تمہارا کافی کپ اتنا بڑا ہو جائے کہ تمہیں اسے ختم کرتے کرتے گھنٹہ بھر لگ جائے۔“ اس نے کہا، کیوں؟ ایک سرد آہ بھر کے میں نے سچی محبت سے سرشار یہ جملہ ادا کیا، ”تاکہ تمہارے ساتھ یہ خوب صورت لمحے ذرا طویل ہوجائیں۔“
تمہاری اپنے پیشے کے ساتھ جنون کی حد تک لگاؤ کے باعث میں تم سے دور ہجر کے زیر اثر رہتا ہوں۔ ”مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے کہا،“ جمال، بقول تمہارے ان خطوط میں کیا ہوتا تھا جو تم مجھے بھیجتے تھے؟ ”اس کا یہ سوال لا علمی پر اس لئے مشتمل تھا کیونکہ اسے بھیجے گئے خطوط میں سے اس نے ایک بھی گھر والوں کے ڈر سے پڑھے بغیر شمشان گھاٹ پر کسی لاوارث مردہ جسم کے سپرد آتش کر دیا تھا۔ میرے خطوط کے موضوعات کے حوالے سے اس کا یہ عجیب سوال تھا۔
غصہ، حسرت اور اک خواہش نا تکمیل کی ملی جلی کیفیت تھی لیکن یہ کیسے ممکن تھا میں اپنی یہ کیفیت اس پر ظاہر کرتا۔ لہٰذا میں نے نور سے کہا،“ جہاں تک میرے خطوں کے موضوعات کا تعلق ہے تو اس میں کرک اینڈ واٹسن کا ڈی این اے ماڈل، نیوٹن کے قوانین حرکت اور ایٹم کے ذرات اور تابکاری شعاعوں کے ماحول پر اثرات کا جائزہ تھا، اور کیا ہونا تھا۔ ”مزید یہ کہ کیونکہ کہ ہم ترقی پذیر ملک ہیں اس لئے ہمیں سائنس کے موضوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خیر نور اگر تم نے میرے خطوں کو پڑھا ہوتا تو تمہیں ان چیزوں کا ادراک ہوتا، لیکن اب تو پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ ماضی کے گرد اب یادوں کے نقش مٹانے لگے ہیں۔ اس سے تو اچھا تھا کہ ماضی کی زندگی بخش یادیں ریکازوں (Fossils) کی صورت ذہن و دل پر نقش ہوجائیں اور تادیر زندہ و جاوید رہیں۔
نور سے میری دوستی اور وہ بھی پرانی دوستی یشوع ؔبن سیراخؔ کے اس قول سے تقویت پاتی تھی کہ، ”اپنے دوست کو ترک نہ کر کیونکہ بن اس کی مانند کوئی نہ ہو گا۔“ میں اس سے دور اسی کے بارے سوچتا رہتا اور اسے اپنی اس کیفیت سے آگاہ بھی کرتا تھا۔ لیکن میں نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کبھی بزبان نہ کیا۔ بلکہ اسے یاد کرنے، اسے پھول پیش کرنے اور دیر سے ملنے کا شکوہ کرنے سے اسے اپنے محسوسات سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
اور میں اس کے میل جول اور بات چیت سے یہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کے دل میں بھی میرے لئے جذبۂ محبت تھا۔ اس نے بھی کبھی ببانگ دہل مجھ سے محبت کا اظہار نہ کیا تھا لیکن اپنے منتظر رویوں سے اس بات کو مجھ پر آشکار کیا کرتی۔ ”اے مسٹر کہاں کھو گئے؟“ نور مجھے خیال و سوچ کے دائروں سے نکال کر واپس جیتی جاگتی دنیا میں واپس لے آئی۔ خیر میں نے خود کو حواس میں ظاہر کرتے ہوئے اس سے کورونا کی موجودہ صورت حال کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔
جیسے جیسے عوام ویکسین لگوا رہے تھے بے شک ان میں پھر سے جینے کے لئے ایک اعتماد پیدا ہو رہا تھا۔ عوام سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز پر میسر مختلف ویکسین سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ نور اپنے پیشے اور اس کے بارے علم میں کمال مہارت رکھتی تھی۔ جس کا اندازہ مجھے اس کی سوجھ بوجھ اور معلومات پر دسترس سے ہوتا تھا۔ اور شاید اسی لئے وہ اپنی پیشہ وارانہ گفت گو سے میری توجہ جذباتی محسوسات کی طرف سے تھوڑی دیر کے لئے ہٹانے میں کامیاب ہو جاتی۔
لیکن اس کے لئے دل میں روشن محبت کا الاؤ اپنی حدت کا احساس دلاتا رہتا۔ اس کے فون کا رنگر پھر بجنے لگا، شاید ہسپتال سے اسے لینے گاڑی آ چکی تھی۔ اس نے رخصت سے پہلے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اجازت لیتے ہوئے پھر ملاقات کا وعدہ کر کے اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے لمس کی اس غیر متوقع الوداعی اداء نے تو کچھ ایسا اثر کیا کہ ”روح تک پھیل گئی تاثیر مسیحائی کی“ ۔ میرے لئے ہمیشہ سے اس سے جدائی کے لمحات انتہائی کٹھن ہوتے۔
لمحۂ موجود کے اثرات بھی کوئی کم شدت کے نہ تھے۔ مجھے فرازؔ یاد آ گئے، ”اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں“ کے مصداق دوبارہ ملنے تک کے لمحات بے چینی سے عبارت تھے۔ مجھے ایسے لگا جیسے جسم سے روح جدا ہو گئی ہو۔ میں اسے خود سے جدا ہوتے کبھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ مجھے وہ گھڑی ایسے لگ رہی تھی جیسے سردیوں کے ایک روشن دن کے بعد آنگن میں شام اتر آئی ہوا۔ ”ایک اداس شام۔“ البتہ اس کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کا خوش گوار اثر تھا کہ نور سے ملنے کے بعد ذہن میں یہ الفاظ گونج رہے تھے، ”کیونکہ دیکھ جاڑا گزر گیا۔ بارش ہو چکی اور جاتی رہی۔ زمین پر پھولوں کی بہار ہے۔ گیت گانے کا وقت آ گیا، جمریوں کی آواز سنائی دینے لگی، انجیر کے درختوں میں پھل پکنے لگے اور تاکیں اپنی خوشبو دینے لگیں۔“


