صبح بخیر زندگی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جس بستی میں رہتا ہوں، اس کے گردا گرد گنجان آباد محلے ہیں اور ان محلوں میں جا بہ جا مساجد۔ آپ جانتے ہیں کہ لوئر مڈل کلاس آبادیوں کی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال بے دریغ ہوا کرتا ہے۔ چندا مانگنے سے لے کر مذہبی تہواروں کی رسومات تک، سبھی لاؤڈ سپیکر پر طے پاتی ہیں۔ ایک آدھ مسجد میں تو کبھی یہ اعلان بھی سننے کو ملتا ہے کہ جماعت کھڑی ہونے میں دو تین منٹ باقی ہیں، اہل محلہ مسجد تشریف لائیں۔ ساتھ میں آخرت کے مناظر دکھا کر و عیدیں سنائی جاتی ہیں۔ شاید باجماعت نماز کے لئے درکار کورم پورا نہیں ہوتا ہو گا۔ بہ ہر حال! میں کوئی باقاعدہ نمازی نہ سہی لیکن رات کو کتنی ہی تاخیر سے بستر پر کیوں نہ جاؤں، فجر کے وقت آنکھ ایک بار ضرور کھلتی ہے۔

اذانیں ہو چکی ہوتی ہیں، کسی کسی مسجد کے سپیکروں سے تسبیح و تہلیل کا شور لپک رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک قریبی مسجد ایسی بھی ہے جہاں سے روز صبح ایک سریلا کلام سننے کو ملتا ہے۔

مٹی دیا باویا توں مٹی وچ جانا اے
اک دن موت آکے گھیرا تینوں پانا اے
عملاں دا کٹھا کوئی کر لے سامان توں
اک دن چھڈ جانا بندیا جہاں توں
جیہڑے دن تیرا دانہ پانی مک جانا اے

آپ اندازہ تو فرمائیے، اک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے، لوگ اٹھ کر تیاری کر رہے ہیں کہ خالق کے حضور سجدہ کریں جس نے اک نیا دن، اک نیا موقع عطا کیا۔ اور پھر دانہ پانی کی تلاش میں روانہ ہوں مگر مسجد سے، جو رائے عامہ تشکیل دینے کا بنیادی ادارہ ہے، اسے دانہ پانی ختم ہو جانے، مرجانے، مٹی میں مل جانے کی یاد دہانی کروائی جا رہی ہے۔ دن کے آغاز کے ساتھ ہی بجائے اسے حوصلے کی اور امید کی تھپکی دے کر کار زار حیات میں بھجوانے کے، موت یاد دلائی جا رہی ہے۔

میں سوچتا ہوں جب قرآن تو یہ کہے کہ نماز کے بعد زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو لیکن میناروں میں نصب لاؤڈ سپیکروں سے ہمہ وقت ایک ہی پیغام لپکتا ہو کہ یہ دنیا کچھ حیثیت نہیں رکھتی، اگلی دنیا کی فکر و تیاری کرو تو ”صبح بخیر زندگی“ جیسی کتابیں اور عارف انیس جیسے خطیب غنیمت بلکہ نعمت ہیں جو مایوس انسانوں کے دلوں میں امید کے دیے جلاتے ہیں۔ جینے کا حوصلہ دیتے ہیں اور زندگی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر چلنے کا طریقہ سمجھاتے ہیں۔ اگلی دنیا سے کس کو انکار ہے مگر اس دنیا کی بھی اپنی ایک قدرو اہمیت ہے۔ قدرت کے کارخانے میں کچھ بھی بے کار نہیں۔

یہ 2021 ءہے چناں چہ عارف انیس سے شناسائی کہ 32 برس تکمیل پاتے ہیں۔ ہم اس وقت عمر کے اس حصہ میں تھے جب زندگی کا کوئی واضح گول سامنے نہیں ہوتا، بس جو دل میں آیا کرنے لگے، سو ہم بھی نوائے وقت کے بچوں کے ایڈیشن میں کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ (میں تو یہ کام مشہور ہونے کے لئے کرتا تھا، خواجہ مظہر صدیقی اور عارف انیس کا پتہ نہیں ) تاہم اس نوعمری میں بھی وادی سون کے اس فرزند کی آنکھوں میں مستقبل کے سپنوں کی ایک منفرد سی چمک تھی۔

یہ جب مصافحہ کرتا تو مقابل کا ہاتھ پوری طرح اپنے ہاتھ میں لپیٹ کر خوب دباتا۔ تب ہمیں سمجھ نہ آتی اور ہم اس عمل کو فقط گرم جوشی کا نام دیتے۔ اب خیال آتا ہے کہ مصافحے کا یہ آہنی انداز دراصل اس کے اندر کے مضبوط ارادوں اور آہنی عزم کے حامل انسان کا پرتو تھا۔ ایسا انسان جس کے اندر سوچنے اور پھر فیصلہ کرنے کی صلاحیت بہ درجہ اتم موجود ہو اور پھر ایسے فیصلے کی روشنی میں طے کردہ مقاصد کو پا لینے کی بے مثال شکتی بھی رکھتا ہو۔

عارف انیس سفر کا دل دادہ ہے، چلتے رہنے کا رسیا۔ وہ کہتا ہے آپ خواہ ایک ہی قدم روزانہ آگے بڑھیں مگر چلیں ضرور۔ یہی ایک قدم آپ کو قدم بہ قدم کامیابی کی طرف لے جائے گا۔ یہ تو خیر سیکھنے کے سفر کا ذکر ہے تاہم علم و آگہی کی تلاش میں عارف انیس نے عملی سفر بھی بہت کیا ہے اور مثل کے عین مطابق اس سفر نے عارف انیس کو ظفر مند بھی خوب کیا۔ میں اس پہاڑوں کے بیٹے پر قبضہ تو نہیں جما سکتا لیکن یہ فخر ضرور رکھتا ہوں 7۔ ارب سے زائد انسانوں کے میزبان اس نیلے سیارے زمین پر ”گلوبل مین آف دا ایئر“ ، ”برین آف دی ایئر“ قرار دیے جانے والے اور دنیا کے 100 با اثر ترین مسلمانوں میں سے ایک عارف انیس ایک زمانے میں دبستان ملتان کا حصہ رہا ہے اور اسی شہر کی دھول اڑاتی گلیوں میں اس کے ساتھ قدم بہ قدم چلا ہوں۔

”صبح بخیر زندگی“ کو پڑھتے ہوئے دو قسم کے احساسات کا شکار ہوا۔ عارف انیس کا لکھا طویل دیباچہ پڑھتے ہوئے میں نے خود کو ایک بہت ہی تنگ ’تاریک اور کسی قدر بدبودار کنویں کا مینڈک پایا۔ مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ پرسنل ڈویلپمنٹ بھی باقاعدہ انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور دنیا میں لوگ سیکھنے کے لئے کس قدر خرچ کرتے ہیں۔ کسی کو اپنے درمیاں لا کر بولتے ہوئے سننا کس قدر مہنگا ہے۔ میں تو اس سماج کا باسی ہوں جہاں آج بھی تقریبات میں لوگ اپنی خطابت کے موتی مفت لٹانے کے لئے منتظمین کو سفارشیں کرواتے اور بعض اوقات مالی خدمت بھی کیا کرتے ہیں۔ مجھے لگا، میں اور میرا سماج بہت ہی پس ماندہ اور قابل رحم ہیں۔

مگر پھر جوں جوں میں اس کتاب میں آگے بڑھتا گیا، اس کی تحریریں میرے اندر اینٹ اینٹ چنائی کر کے حوصلے کی اور امید کی دیوار استوار کرتی گئیں۔ جس معاشرے میں سارے شاعر، ادیب، خطیب دکھ کا اور محرومی کا رونا روتے ہیں، اپنے کامپلیکسز کو سیلیبریٹ کرتے ہیں، وہاں یہ کتاب اور اس کی بہت زیادہ پڑھی جانے والی تحریریں امید جگاتی ہیں، زندہ رہنے کی امنگ پیدا کرتی ہیں اور اگر آپ مجھے مرشدی وجاہت مسعود سے کچھ لفظ مستعار لینے کی اجازت دیں تو عرض کروں کہ جوں جوں میں نے ان تحریروں کو پڑھا موت کو پچھاڑ کر زندگی کا جشن منانے اور سانس کی گت پر رقص کرنے کی امنگ اپنے اندر محسوس کی۔

عارف انیس آپ کے لئے ڈھیروں محبتیں اور ان گنت دعائیں۔ آپ میرا، اس سماج کا ، پاکستان کا بلکہ جنوبی ایشاء کا مان ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments