پھٹا ہوا دامن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 بس ایک لمحے کی تو بات تھی اچانک کیٹ واک کے دوران نہ جانے کیسے زرینہ کا پاؤں اُس کی چار انچ لمبی سینڈل کی ہیل میں الجھا اور پھر وہ لاکھ چاہنے کے باوجود خود کو بیلنس نہ کر سکی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے ریمپ سے سیدھا شائقین میں جا گری۔ زرینہ کو کیا پتہ تھا کہ اچانک یہ ایک چھوٹا سا کڑا لمحہ صدیوں کی تاریخ خود میں سمیٹ کر اسے زرینہ سے زلیخا میں بدل دے گا۔

ابھی کچھ ہی دیر پہلے کی تو بات تھی کیٹ واک پر جانے سے قبل زرینہ خود کو ڈریسنگ مرر میں کتنے پیار سے تک رہی تھی۔ پہلے پہل تو اس نے مسکرا کر اپنے خوبصورت شانوں کو تھوڑا سا پیچھے کیا تھا اور پھر دھیمے سے سا نسوں کو ادھورا روک کر اپنے جواں سینے کو تھوڑا اور نمایاں کیا تھا اور پھر پیٹ کے مسلز کو آہستہ سے اندر کھینچ کر نازک سی کمر کی کمان پر اپنے حسین بل کھاتے بدن کو کسی تیر کی طرح یوں تان لیا تھا کہ خود زرینہ کو پل بھر میں ایسے لگنے لگا تھا جیسے اس کی اپنی نگاہیں اس کے جسم کے قاتل زاویوں میں الجھ کر واپسی کے سارے راستے بھولتی جا رہی ہے اور پھر اپنے باڈی پاسچر سے مطمئن ہو کر زرینہ نے اپنے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی تھی۔ اس نے اپنے لوز کرل ہیر اسٹائل کو چاروں سمتوں سے گھوم کر دیکھا تھا اور پھر مسکارے سے جڑی ہوئی لمبی لمبی پلکوں کے دریچوں کو اپنی نیلی نشہ ور آنکھوں پر کچھ اس طرح سے دھیمے سے کھولا تھا کہ آئی لڈز پر سجے ہوئے تمام تر آئی شیڈز ستاروں کی طرح چمکنے لگے تھے اور پھر اپنے سرخی مائل تمتماتے گالوں میں بننے والے چھوٹے چھوٹے ڈمپل کے اردگرد بلوشن اور لپ گلوز کا ایک اور کوڈ اپنے ہونٹوں پر پھیر کر انہیں پھر سے سجا لیا تھا۔

جب فیشن شو کے ڈور پر کھڑے ڈریس ڈیزائنر یوسف نے آنکھ کے خفیف اشارے سے تمام ماڈل گرلز کو ریمپ پر جانے کا اشارہ کیا تھا تو وہ بھی دھڑکتے دل کے ساتھ قطار میں شامل ہو گئی تھی۔ مگر اس سے قبل کہ وہ کیٹ واک شروع کرتی، یوسف نے ہاتھ کے اشارے سے اسے لمحے بھر کے لیے روکا تھا اور اس کو سر سے پاؤں تک اس طرح سے بغور دیکھا تھا جیسے کوئی زیرک سیلز مین اپنے مال کی دل چاہی قیمت لگا کر بازار میں خوب سجا سنوار کر امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے۔ رنگ برنگی جھالروں میں بٹے ہوئے بلاؤز اور اسکرٹ کی وجہ سے زرینہ کا جواں بدن ویسے ہی نیم برہنہ ہو کر قیا مت ڈھا رہا تھا مگر شاید یوسف کی نظر میں اس کے کپڑوں میں بہتری کی ابھی تھوڑی سی گنجائش باقی تھی۔ اس آخری لمحے میں جب زرینہ ریمپ پر جانے کے لیے بے قرار ہو رہی تھی کہ نہ جانے یوسف کے دل میں کیا خیال آیا کہ اس نے زرینہ کے بلاؤز اور اسکرٹ سے کچھ جھالریں اور کم کر دیں اور پھر فیشن شو کا ڈور زرینہ کے لیے کھول دیا تھا۔

ریمپ پر آتے ہی زرینہ نے سرسری سی نگاہ فیشن شو کے شائقین پر ڈالی اور پھر جونہی اس نے کیٹ واک شروع کی اسے محسوس ہوا جیسے اس کے کمانی دار جسم کے سر کش زہر آلود تیر ایک ایک کر کے شائقین کے دلوں کو زخمی کر رہے ہیں۔ ان کے بے بس خون آلود دل سے کراہنے والی آرزوئیں، زرینہ کے دل کو ایک انجانے احساس سے روشناس کر ر ہی تھیں۔ کیمروں کی فلش لائیٹ اور ریمپ کے چاروں طرف لگے رنگ برنگی بجلی کے قمقمے اس کے ہوش ربا حسن کے سامنے ماند پڑتے جا رہے تھے۔ جوں جوں زرینہ واک کر کے ریمپ کے کارنر کی طرف بڑھنے لگی اسے یقین ہوتا جا رہا تھا جیسے فیشن شو میں بیٹھے ہوئے شائقین کی نظریں اس کے نیم برہنہ بدن پر لپٹی جھالروں سے ٹکرا کر واپس لوٹنے کے بجائے اس کے بدن کے زاویوں میں الجھتی جا رہی ہے۔ کچھ لمحوں کے لیے تو اسے یہ بھی عجیب و غریب خیال بھی آیا جیسے ڈریس ڈیزاینر یوسف کی فیشن شو کے تمام شائقین کے ساتھ کچھ نہ کچھ ملی بھگت ہے اور اس نے شاید جان بوجھ کر کیٹ واک سے قبل اس کے بلاؤز اور اسکرٹ کی جھالریں کم کی تھی۔ اور پھر اچانک زرینہ کو یوں لگا تھا جیسے شائقین میں بیٹھے ہر ایک شخص کی شکل ڈریس ڈیزاینر یوسف کی جیسی ہو گئی ہے اور ریمپ پر چلنے والی ہر ایک ماڈل گرل زرینہ کے سراپے میں ڈھل گئی ہے جن کے لباس کے دامن اس کی طرح چاک ہیں۔ اسے یوں بھی لگا جیسے یہ فیشن شو دراصل لباس کے ایڈورٹائز منٹ کی جگہ انسانی جسموں کی نمائش کا بازار ہے، شاید صدیوں پہلے کا بازار مصر، جہاں کبھی یوسف کو بیچا گیا تھا۔ اس عجیب و غریب خیال کے آتے ہی زرینہ کو محسوس ہوا جیسے اس کا دل تاریخ کے گہرے سمندر میں ڈوبتا جا رہا ہے مگر۔ فیشن شو کے شائقین سمجھے جیسے زرینہ کا پاؤں اچانک اپنی سینڈل کی ہیل میں پھنس گیا ہے اور وہ لاکھ چاہتے ہوئے اپنا بیلنس قائم نہیں کرپا رہی ہے اور بالآخر ریمپ سے قلابازیاں کھاتے ہوئے ان کے درمیاں گرتی چلی گئی۔

زرینہ کو کیا پتہ تھا کہ اچانک یہ ایک چھوٹا سا کڑا لمحہ صدیوں کی تاریخ خود میں سمیٹ کر اسے زرینہ سے زلیخا میں بدل دے گا۔ اس چھوٹے سے لمحے میں جب زرینہ اوروں کے لیے بے ہوش ہو کر ریمپ سے شائقین میں گری تھی، اسی لمحے تو زرینہ، زلیخا میں بدل کر بازار مصر پہنچ گئی تھی اور یوسف کا دامن پیچھے سے پکڑ کر چیخ رہی تھی کہ میں نے تمھارا دامن تو پیچھے سے پھاڑا تھا! دیکھو تمھاری خود کی خاطر کی گئی جرح سے، میرا دامن ہمیشہ کے لیے پیچھے آگے دونوں ہی طرف سے پھٹ گیا ہے۔

 

Latest posts by ڈاکٹر بلند اقبال (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments