انتقام، نظر اندازی یا درگذر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہفتے پہلے ثمر اشتیاق، غزالہ محسن رضوی اور میرے درمیان فیس بک پر ایک دلچسپ مکالمہ ہوا۔ میرے خیال میں اس مضمون میں سیکھنے کے لیے کچھ اہم باتیں موجود ہیں۔ یہ بلاگ اس گفتگو پر مبنی ہے۔ اس کے لیے تمام افراد سے اجازت لے لی گئی ہے۔
ثمر اشتیاق: کسی کو معاف کرنا وہ بھی جب اس نے معافی مانگی بھی نہ ہو میرے نزدیک بہت بہادری کا کام ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے لیے یہ بے وقوفی ہو۔
غزالہ محسن رضوی: معاف کرنا پیاری ،اس پوسٹ پہ ری ایکٹ کرنا ہمارے لیئے مشکل ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہےکہ ہم لوگوں کو اجازت دے دیں کہ وہ ہمیں قالین سمجھ کر روندتے ہوئے گزر جائیں؟ پھر عزت نفس کا کیا ہوگا؟ چھوٹی موٹی باتوں کو در گزر کیا جا سکتا ہے پر جہاں بات عزت نفس پر آ جائے اس شخص کو نہ کبھی معاف کرو اور نہ اس بات کو بھولو۔ یہ زندگی کا وہ سبق ہے جو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیئے تاکہ کوئی دوسرا آپ کا استحصال نہ کر سکے۔
لبنیٰ مرزا: معاف کردنیا یا بھلا دینا دو مختلف باتیں ہیں۔ اس کے علاوہ معاف کردینے کا یہ مطلب نہیں کہ تعلق دوبارہ سے استوار کرلیا جائے۔
ثمر اشتیاق: دوسرے لوگوں کو معافی ہم خود اپنے ذہنی سکون کے لیے دیتے ہیں۔ اگر کسی نے جان بوجھ کر پلان کر کے بھی ہمیں تکلیف پہنچائی ہے تب بھی اُسے معاف کرکے ہم اپنی تکلیف کو کم کرسکتے ہیں۔ اور دوسرا معاف کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اُس منفی تجربے کے زریعے ملنے والے سبق کو بھی بُھلادیا جائے۔ منفی تجربے سے ملنے والے سبق کو یاد رکھنا اور آگے زندگی میں اس تجربے کی بنیاد پر زیادہ سمجھداری سے فیصلے کرنا ضروری ہے تاکہ کوئ ہماری محبت کو فار گرانٹڈ لے کر نقصان نہ پہنچاسکے۔
غزالہ محسن رضوی: آپ دونوں ہم سے زیادہ سمجھدار ہیں مگر افسوس کہ آپ نے ہمارے تبصرے کو غور سے نہیں پڑھا۔ اتنا تو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ بھولنا اور معاف کرنا دو علیحدہ جہتیں ہیں۔ انسان اپنی یادداشت کھرچ کر مٹا نہیں سکتا البتہ آگے ضرور بڑھ جاتا ہے۔ جن باتوں سے انسان کو تکلیف پہنچتی ہے وہ ہمیشہ یاد رہتی ہیں اور یہ اصولِ فطرت ہے۔ اسی کو سامنے رکھتے ہوئے کسی شاعر نے یہ لکھا ہے۔
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مُجھ سے حافظہ میرا
اور فطرت سے جُدا ہونے کا دعویٰ کم از کم ہمیں تو بالکُل نہیں۔ وقت بہت سی باتوں کے درد کو کم کر دیتا ہے مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔ میرا آپ دونوں سے یہ سوال ہے کہ کیا ہم اپنےکسی پیارے کے قاتل کو معاف کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! وہ جو خوں بہا وصول کر لیتے ہیں وہ بھی کُلی طور پر اُسے معاف نہیں کرتے، اُن کا رُواں رُواں اُس کو بد دُعائیں دیتا رہتا ہے۔ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انسان دیانتداری سے اپنی غلطی کو تسلیم کرے اور اپنے ذہنی سکون کے لیئے اپنے آپ کو اپنی غلطی پر معاف کر کے آگے بڑھ جائے۔ حساس انسان کے لیئے عزتِ نفس کا قتلِ بھی قتلِ عمد کے برابر ہوتا ہے۔ یہ وہ قتل ہے جس کا خوں بہا بھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری کتاب میں ایسے لوگوں کے لیئے معافی کا کوئی شبد بھی موجود نہیں! ہم تو بس اُن پہ پیر رکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے کا ہمیں کوئی شوق نہیں۔ اور یہ ہی ہم نے کہنے کی کوشش کی تھی۔ یا ہم سمجھا نہیں پائے یا آپ سمجھ نہیں پائیں۔ بہرحال ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہے اور متفق نہ ہوتے ہوئے بھی دوستوں کی رائے کا احترام ہم پہ واجب ہے۔

ghazala mohsin rizvi

ثمر اشتیاق: غزالہ ، میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔ آپ کے پاس بہت تجربہ ہے زندگی کو برتنے کا۔ ہم تو ابھی طفل مکتب ہیں۔ میں ہمیشہ آپ کی صحبت میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھتی ہوں۔ خاص کر محبت میں شدت اور گرمائش۔ اپنے پیارے کے قاتل کو معاف کرنا واقعی ایک انتہائ سنگین درجے کا قصہ ہے جس میں معاف کرنا مشکل ہے۔بہرحال بات اس طرح کے پس منظر میں نہیں ہورہی ہے۔ بات ہورہی ہے کہ جب حالات یا اپنی عادت سے مجبور ہوکر لوگ غلط انتخابات بناتے ہیں اور جن کا اثر ہم پر پڑ سکتا ہے۔ اس میں وقتی طور سے ہمیں شدید دُکھ بھی ہوتا ہے۔ رشتوں میں ٹھکراؤ سے اپنا آپ غیر اہم لگتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہم ہمت جماکرکے رشتے میں بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور معاف کردیں اور دوبارہ سے رشتے کو چانچ کر اپنی باونڈری متعین کریں تو ہماری ذہنی صحت کے لئیے اچھا ہوتا ہے۔دنیا نہ اسے گرا سکتی ہے اور نہ بڑھا سکتی ہے۔ اور جہاں عزت نفس کی بات ہے تو وہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔ ہاں اگر کوئ میرے ساتھ بدسلوکی کرے تو میں ایسے شخص کو بدقسمت سمجھ کر اُس کی نادانی پر معاف کرکے تھوڑا فاصلہ رکھتی ہوں بس۔
لبنیٰ مرزا : یہ بہت دلچسپ گفتگو چل رہی ہے اور اس کو میں اپنے اگلے بلاگ کے لیے چرا لوں گی۔
آج میں نے ڈیلی اوم کی ای میل میں ایک اچھا پیغام پڑھا جس سے اس گفتگو میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ پیغام اپنی زندگی کی کہانی خود لکھنے سے متعلق تھا جس میں اس بات کی نشاندگی کی گئی تھی کہ ہم سب انسان زمین پر اپنی زندگیوں کے مختلف مقامات اور درجات سے گذر رہے ہیں۔ ہم سب کی اپنی ایک کہانی ہے۔ ہماری زندگی مختلف تعلقات اور واقعات سے بھری ہوئی ہے جن سے ہماری شخصیت بنتی ہے اور ان سے ہم دنیا کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ اس بات کا انحصار ہمارے اپنے اوپر ہے کہ ہم ان افراد اور واقعات کو کس پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ ہمارے تجربات ہمیں ایک منفی انسان بنا سکتے ہیں جو خود کو بے چارہ ، مجبور اور شکار محسوس کرے یا پھر ان تجربات کو ہم اپنی مسلسل نشونما اور طاقت بڑھانے میں استعمال کرسکتے ہیں۔ ہمارے ماضی میں جو بھی ہوچکا ہو، اس کے بارے میں وہی کہانی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو ہم خود کو بتائیں۔ یہیں ہماری طاقت پوشیدہ ہے جس سے ہم اپنی زندگی کو مختلف بنا سکتے ہیں۔ یہ کام ایک مرتبہ کرکے رک جانے والا نہیں ہے بلکہ کرتے رہنے والا ہے۔ اگر آپ اپنے ماضی کے بارے میں پرسکون ہیں اور اس بارے میں اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہیں کہ زندگی میں جو بھی سامنے آئے گا اس کا مقابلہ کرسکیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنے حالات پر کامیابی سے قابو پالیا ہے۔ لیکن اگر آپ میں احساس جرم یا ندامت موجود ہے اور زندگی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو گذرے ہوئے اور حالیہ حالات اور واقعات کے بارے میں خود کو ایک نئی کہانی سنانے کی ضرورت ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی کہانی میں کون سے کردار شامل ہیں یا انہوں نے کیا کیا، وہ صرف آپ ہی ہیں جو یہ طے کرسکتے ہیں کہ آپ اپنے لیے ان افراد کے اعمال کو کیا معنی پہناتے ہیں۔ وہ صرف آپ ہی ہیں جو یہ طے کرسکتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں کیا کردار ادا کریں گے۔ اپنی کہانی کی ذمہ داری لے کر آپ خود کو سیکھنے، آگے بڑھنے، معاف کردینے ، رحمدلی کا مظاہرہ کرنے اور ایک روشن اور خوش مستقبل کی جانب گامزن کرسکتے ہیں۔
آج سے آپ ایک ایسی زندگی کا چناؤ کرسکتے ہیں جو آپ کو سہارا دے۔ اپنی زندگی کو تخلیقیت اور استقامت کا ثبوت بنائیں۔ خود کو اپنی کہانی میں کوئی بھی کردار دینے میں خود سے ہمدردی سے پیش آئیں اور جو سبق آپ کو سیکھنا چاہیے اس تک پہنچنے کے لیے غلطی کرنے کے مواقع دینے کے لیے خود کو سخاوت دکھائیں۔ اگر آپ یہ یاد رکھیں کہ آپ اپنی کہانی کے خود لکھاری ہیں تو پھر آپ ایک شاہکار
تخلیق کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

غزالہ محسن رضوی: زندگی میں ہر رشتہ کُچھ لو اور کُچھ دو کی بنیاد پہ قائم ہے۔ جہاں پہ یہ بیلنس خراب ہوتا ہے وہاں رشتوں میں دراڑ آ جاتی ہے۔ ہر رشتے میں سمجھوتے کی ایک حد ہوتی ہے جہاں پہ کوئی بھی اس لائن کو کراس کرتا ہے وہ رشتہ مر ہو جاتا ہے۔ اور مُردہ اجسام میں سے بدبو آتی ہے اسی لیئے تو اُن کو دفن کیا جاتا ہے۔ وہ نام اپنی زندگی میں سے کھرچ دینا چاہیئے جس میں سے بدبُو آئے۔ یہی ہماری زندگی کا اصول ہے اور یہ ہم نے بڑی مشکل سے سیکھا ہے۔ جسم میں گینگرین ہو جائے تو وہ حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔ پر انسان بہت ڈھیٹ جاندار ہے پھر بھی زندہ رہتا ہے۔ اُس عضو کے بغیر جینا سیکھ لیتا ہے۔ جب یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی۔ ہر کسی کو اپنی زندگی کی کہانی خود ہی لکھنی ہوتی ہے چاہے وہ ہنس کے لکھے یا رو کے! جب زندگی کے کرداروں کے ماسک اُتر جاتے ہیں آنکھ کی نمی خود بخود خُشک ہو جاتی ہے۔ ہم آج کل اسی موضوع پر کام کر رہے ہیں۔
لبنیٰ مرزا: یہ آخری پیراگراف اس گفتگو کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن لکھنے والے کی حیثیت سے آخری جملے ہم خود چن سکتے ہیں اور یہی اس مضمون کا پیغام ہے۔ جب ہم کسی ذیابیطس کے مریض کے جسم میں زخم دیکھتے ہیں تو اس مریض کی ذیابیطس کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی نیوروپیتھی کا علاج کرتے ہیں، زخم کی مرہم پٹی کرتے ہیں، اینٹی بایوٹکس دیتے ہیں لیکن جب وہ زخم ناسور بن جائیں جن سے مریض کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو تو اس کی سرجری کرنی ہوتی ہے۔
انسان سماجی جانور ہیں اور مل جل کر ہی سماج اور خاندان ترتیب دیتے ہیں۔ ایک بیمار رشتے کو اگر مرہم پٹی سے بہتر نہ کیا جاسکے تو فاصلہ بہتر ہے۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کی جائے کہ ہم خود اپنی زندگی میں خوش رہیں۔ اور یہی ہماری کامیابی ہے۔

samar ishtiaq

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments