نام نہاد ذہنی مریض اور لبرل بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک سات سالہ معصوم بچی جسے نا تو جرم کا مطلب معلوم ہے اور نا ہی وہ گناہ کے مفہوم سے آشنا ہے اپنے گھر سے باہر کھیل رہی ہے۔ ایک نام نہاد ”ذہنی مریض“ جو کئی دن سے اس معصوم گڑیا پر اپنی غلاظت بھری نظریں جمائے بیٹھا تھا اس کے قریب آتا ہے اور اسے پدرانہ شفقت سے چمکارتا ہے۔ بچی اس شفقت پر پھول کی مانند کھل اٹھتی ہے۔ ”ذہنی مریض“ کو معلوم ہوتا ہے کہ بچی کو اپنے جال میں پھانسنے کے لیے اس کے ساتھ پدرانہ شفقت کا مظاہرہ ضروری ہے بصورت دیگر بچی پریشان ہو کر شور شرابا کر سکتی ہے جس سے اس کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ چونکہ وہ بے چارہ ”ذہنی مریض“ کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا لہذا ایسی حکمت عملی اپناتا ہے کہ بچی جال میں بھی پھنس جاتی ہے اور خود اس پر کوئی آنچ بھی نہیں آنے پاتی۔ وہ بچی کو چاکلیٹس اور ٹافیاں دلانے کا لالچ دیتا ہے اور بچی ”انکل“ کے ساتھ چل پڑتی ہے۔

پھر بے چارے ”ذہنی مریض انکل“ بچی کو بڑی ہی شاطرانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے ایک ایسے ویران مقام پر لے جاتے ہیں جہاں درحقیقت پرندے کے پر مارنے کا بھی امکان موجود نہیں ہوتا۔ بچی اب بھی مطمئن ہوتی ہے کیونکہ اس ویران مقام پر آوارہ کتوں اور جن بھوتوں سے اسے بچانے کے لیے ”انکل“ جو موجود ہوتے ہیں۔

لیکن بچی کا یہ اطمینان دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ ”ذہنی مریض انکل“ اب اس کے جسم کے ان حصوں پر ہاتھ پھیر رہے ہوتے ہیں جنھیں کبھی اس کے والد نے بھی نہیں چھوا ہوتا حتی کہ اسے نہلاتے وقت اس کی والدہ بھی ان حصوں کو چھونے سے حتی الامکان گریز ہی کرتی ہیں۔ بچی بے چین ہو کر مزاحمت کرتی ہے مگر ”انکل“ اسے مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں بچی ”انکل“ کو اپنے دانتوں سے کاٹنے کی کوشش کرتی ہے مگر ”انکل“ اپنے فولادی ہاتھوں سے اس کے پھول سے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہیں جس کے باعث بچی کے ہونٹ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے خون جاری ہوجاتا ہے۔

بچی اب باقاعدہ خوف سے رو رہی ہوتی ہے۔ وہ چیخنا چاہتی ہے اپنے والدین کو پکارنا چاہتی ہے مگر ”انکل“ کا آہنی ہاتھ اس کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ بچی کا ننھا سا دل خوف اور دہشت سے پھٹا جا رہا ہوتا ہے مگر ”انکل“ کے ہاتھ اس کے معصوم وجود کی چیر پھاڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔ کافی دیر بعد جب ”انکل“ کے جذبات سرد پڑتے ہیں تو اس وقت تک بچی کے جسم کی بہت سی ہڈیاں اپنے جوڑوں سے سرک چکی ہوتی ہیں، اس کی کئی پسلیاں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں اس کے بدن کے مختلف حصوں سے خون رس رہا ہوتا ہے مگر سانس ابھی باقی ہوتی ہے۔

”انکل“ اگرچہ ہوتے تو ”ذہنی مریض“ ہیں مگر ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے بچی کو زندہ چھوڑ دیا تو وہ ضرور لوگوں کو ان کے کرتوت سے آگاہ کردے گی لہذا اپنے تحفظ کی خاطر ”بے چارے ذہنی مریض انکل“ بچی کا گلا گھونٹ کر اسے موت کی نیند سلا دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھ اپنے تحفظ کو مزید یقینی بنانے کے لیے اپنے ”ذہنی مرض“ کو سائڈ پر رکھتے ہوئے بچی کی لاش ایسی جگہ چھپاتے ہیں کہ اس پر جلد کسی کی نظر پڑنے کا امکان نہیں ہوتا۔ یہ سب کارروائی کرنے کے بعد یہ ”ذہنی مریض انکل“ پامال کرنے کی خاطر کسی اور ننھی کلی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا کہانی اگرچہ ہے تو فرضی مگر یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حدود میں نام نہاد ذہنی مریضوں کے ہاتھوں ننھی پریوں اور معصوم فرشتوں پر پے درپے روا رکھے جانے والے متعدد انسانیت سوز جنسی اور جسمانی مظالم کی سچی عکاس ہے۔ اس قسم کے واقعات بذات خود بڑے ہی کرب انگیز ہیں مگر یہاں ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے اردگرد ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو خود کو انسانیت پرست اور لبرل کہلوانا پسند کرتا ہے اور اسی انسانیت پرستی کی بنیاد پر وہ قاتلوں، عصمت دری کا ارتکاب کرنے والوں، ڈاکوؤں اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ غیر ضروری نرمی برتنے کا قائل ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود انسانیت کا پرچار کرنے والے بعض آزاد خیال افراد انسانیت کا جو بت تراشنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قابل پرستش ہرگز نہیں ہے۔ انسانیت کا جو تصور یہ لبرلز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے مطابق کسی بھی قسم کی سزا کا دیا جانا ایک غیر ضروری اور غیر انسانی فعل ہے جو کہ معاشرے پر کسی بھی قسم کے مثبت اثرات مرتب نہیں کر سکتا۔ با الفاظ دیگر ان لبرلز کے نزدیک جرم چاہے جتنی بھی سنگین نوعیت کا کیوں نا ہو اس کا ارتکاب کرنے والا ہمیشہ معصوم اور پاک دامن ہی ہوتا ہے کیونکہ برائی مجرم کی ذات میں نہیں بلکہ اس کے جرم میں پنہاں ہوتی ہے لہذا مخالفت مجرم کی نہیں بلکہ جرم کی ہونی چاہیے۔

بعض لبرلز دھڑلے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ڈاکا ڈالتا ہے تو محض اس لیے ڈالتا ہے کیونکہ وہ بے روزگاری کے باعث معاشی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ یہاں یہ انسانیت پسند ایک شخص کے مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہونے، لالچی، کام چور اور خودغرض ہونے جیسے تمام تر امکانات کو یکسر مسترد کر کے اسے دکھوں کا مارا بے چارہ، ذہنی مریض ثابت کرنے پر کمربستہ نظر آتے ہیں، لہذا اگر دوران واردات کوئی ڈاکو کسی کی محنت کی کمائی لوٹنے کے بعد اسے گولی مار کر قتل یا زخمی بھی کر دیتا ہے تو بھی ان لبرلز کے نزدیک ڈاکو کو قصور وار گردانا جانا غلط ہے کیونکہ قصور ڈاکو کا نہیں بلکہ معاشرے کا ہے جو اسے روزگار نا دے سکا اور اس کے معاشی مسائل حل نا کر سکا۔

ان لبرلز کے نزدیک کوئی بھی مجرم اپنی اخلاقی کمزوریوں کی بناء پر جرم کا ارتکاب نہیں کرتا بلکہ ہر جرم کے پیچھے مجرم کا کوئی نا کوئی گمراہ کن عقیدہ یا مجبوری کارفرما ہوتی ہے لہذا اگر معاشرے کی اصلاح مقصود ہوتو بجائے اس کے کہ مجرم کو اس کے جرم کی سزا دی جائے، معاشرے کی اصلاح کی خاطر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر بچوں میں جنسی تعلیم کو عام کیا جانا چاہیے اور جنسی خواہشات جو کہ انسان کی (خاص کر مرد کی) فطری خواہشات ہوتی ہیں ان پر مذاہب یا دیگر عقائد کی پیروی میں بند باندھنے سے گریز کیا جانا چاہیے، جسم فروشی کے پیشے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ جنسی خواہشات کی تکمیل آسان ہو سکے اور معاشرے سے جنسی فرسٹریشن کا خاتمہ ہو سکے۔ اسی طرح لوگوں کے معاشی مسائل کا خاطر خواہ حل تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ کوئی شخص چوری اور ڈاکا زنی جیسے جرائم کے ارتکاب پر مجبور نا ہو۔

یہ لبرلز مجرموں کے ساتھ محض انسانیت کے ناتے ہمدردانہ برتاؤ کے قائل ہیں ان کا ماننا ہے اگر ہم مجرم کو اس کے کیے کی سزا دیں گے اور معاف نہیں کریں گے تو ہم میں اور مجرم میں بھلا کیا فرق رہ جائے گا؟

اصلاح معاشرہ کی اہمیت سے انکار تو کسی صورت ممکن نہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لبرلز قتل ہونے والے ایک بے گناہ کی موت میں اور قتل جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد بطور سزا تختہ دار تک پہنچنے والے ایک مجرم کی موت میں فرق کرنے سے آخر کیونکر قاصر ہیں؟

دنیا میں لاتعداد افراد متعدد وجوہات کی بناء پر جنسی فرسٹریشن کا شکار ہیں مگر ہر شخص عصمت دری (خاص طور پر کم سن بچوں کی عصمت دری) جیسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب نہیں کرتا۔ تو کیا ایسے لوگ جو اگرچہ اپنی فرسٹریشن سے لڑ رہے ہیں مگر اس فرسٹریشن کے زیر اثر عصمت دری جیسے گھناونے جرائم کا ارتکاب نہیں کرر ہے وہ ان افراد سے بہتر نہیں ہیں جو کہ ان جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں؟

اگر ہم کسی ایسے نقطہ نظر کے حامل ہیں جس کے مطابق کوئی شخص محض کسی ذہنی مرض ہی کے باعث جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو ہمیں اپنے نظریے پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اکثر و بیشتر سنگین جرائم میں ملوث افراد جرم سے پہلے ایک فول پروف منصوبہ تشکیل دیتے ہیں جو کہ ظاہر ہے ایک ذہنی مریض کے بس کا روگ ہرگز نہیں ہے۔ حتی کہ کم سن بچیوں کو عصمت دری کے بعد موت کے گھاٹ اتار دینے والے متعدد سیریل کلرز کی گرفتاری ڈی این ٹیسٹ کی بنیاد پر ہی ممکن ہو سکی وگرنہ مجرم نے اپنے طور پر جائے واردات پر کوئی ثبوت نا چھوڑا تھا۔

باالفرض اگر ایسے فرد کو مجرم کے بجائے ”بیچارہ ذہنی مریض“ تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا یہ مناسب ہو گا کہ ایسے افراد کو ہمدردانہ برتاؤ کے نام پر آرام دہ ماحول میں رکھا جائے، سونے کے لیے آرام دہ بستر فراہم کیا جائے، اچھے اچھے کھانے کھلائے جائیں، ان کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں اور وہ بھی پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک بہت بڑی آبادی کو نا تو دو وقت کی روٹی میسر ہے اور نا ہی پینے کے لیے صاف پانی میسر ہے، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار بھی ہے اور بے گھر بھی ہے، بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ابتدائی تعلیم بھی میسر نہیں اور بیماروں کی ایک بہت بڑی تعداد علاج معالجے کی ناکافی سہولیات کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہے۔

کیا سفاک قاتلوں نے، عصمت دری کا ارتکاب کرنے والوں نے، ڈاکا زنی میں ملوث افراد نے معاشرے پر ان جرائم کا ارتکاب کر کے کوئی احسان عظیم کیا ہے جس کے صلے کے طور پر ان کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جن سے ملک کے لاکھوں بے گناہ محروم ہیں؟ اس صورت حال میں کیا ایک غریب شخص کو (جسے دن بھر محنت مزدوری کے بعد بھی اتنا معاوضہ نہیں ملتا کہ وہ دو وقت پیٹ بھر کر روٹی کھا سکے ) مفت خوراک اور سہولیات کے حصول کی خاطر ذہنی مرض کی آڑ میں کسی ایسے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کرنے کی ترغیب نہیں ملے گی؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments