بجلی کے جھٹکوں سے علاج: تین مناظر

پہلا منظر: جگّو ایک ہینڈسم، بہادر اور رحم دل نوجوان ہے۔ معاشرے کو کرپٹ عناصر اور قبضہ مافیا سے پاک کرنے کی کوشش میں وہ شدید تشدد کا نشانہ بنتا ہے اور بالآخر ذہنی امراض کے مرکز تک جا پہنچتا ہے جہاں درپردہ جرائم پیشہ افراد کا راج ہے۔ سین شروع ہوتا ہے۔ بیہوش جگّو کو کئی وارڈ بوائے سٹریچر پر ڈال کر ٹریٹمنٹ روم میں لے جاتے ہیں۔ ماہر نفسیات اس کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیتا ہے ۔ پھر دو بڑے بڑے ہیڈ فون کانوں پر لگا کر بجلی کی رو دماغ سے گزار دی جاتی ہے۔ جگّو کو تشنج کا دورہ پڑتا ہے۔ ٹریٹمنٹ کے بعد جب اس کے منہ سے کپڑا نکالا جاتا ہے تو کیمرہ عین چہرے پر فوکس ہوجاتا ہے۔ جگّو کے منہ سے سفید رنگ کا جھاگ جاری ہے۔ پس منظر میں المیہ موسیقی بج رہی ہے۔ اگلے مناظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جگّو کی یادداشت ایسے ختم ہوگئی ہے جیسے سلیٹ پر چاک سے لکھی عبارت کو گیلے کپڑے سے پونچھ دیا گیا ہو۔
ہندوستانی فلم انگار 1992
دوسرا منظر: رینڈل میک مرفی چھوٹے موٹے جرائم کرتا ہے لیکن اس دفعہ وہ پندرہ سالہ بچی سے جسمانی تعلق قائم کرنے کے جرم میں حوالات کی ہوا کھا رہا ہے۔ جیل سے بچنے کے لئے چکر چلا کر وہ ذہنی امراض کے مرکز میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جہاں ایک خرانٹ نرس کی آمریت قائم ہے۔ آج رینڈل کا دماغ ٹھکانے لگانے کے لئے خصوصی ٹریٹمنٹ دی جائے گی۔ اس کے ہاتھ ہتھکڑیوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ چھ ہٹے کٹے افراد اسے پکڑ کر سٹریچر پر لٹا دیتے ہیں۔ ایک نرس اس کے منہ میں مہیب شکل کا آلہ گھسا دیتی ہے اور ماتھے کے دونوں طرف ہیڈ فون نما چیز پہنا دیتی ہے۔ ڈاکٹر سب لوگوں کو دیکھتا ہے اور مشین کا سوئچ گھما دیتا ہے۔ کرنٹ سر میں گزرنے سے رینڈل کا بدن تشنج کے شدید دورے کی زد میں آجاتا ہے۔ تمام افراد مل کر اسے سنبھال نہیں پاتے۔ کیمرہ اس کے منہ پر فوکس رہتا ہے جہاں جھٹکوں کے دوران پھنسے آلہ کو بتیسی کچل ڈالتی ہے۔
ھالی وڈ کی فلم ون فلیو اوور دی ککو نیسٹ 1975ء
یہ اور ان جیسی سینکڑوں فلموں، ڈراموں، افسانوں اور ناولوں اور سنی سنائی باتوں نے بجلی کے جھٹکے سے نفسیاتی علاج کی بابت عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے اور انہیں راسخ کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
بجلی کے جھٹکوں سے علاج (الیکٹرو کنوَلسِوتھراپی)
1920ء کی دہائی میں نیورولوجسٹ اور ماہرین نفسیات اتفاقیہ طور پر ایک انوکھے نتیجے پر پہنچے کہ مرگی کا دورہ کئی نفسیاتی امراض میں شفاء بخش ثابت ہوتا ہے اس مشاہدے کی بنیاد پر مرگی جیسی کیفیت طاری کرنے کے لئے کئی طریقے آزمائے گئے مثلا” انسولین نامی ھارمون دے کرخون میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک گرا کر تشنج پیدا کیا گیا، کافور کے انجیکشن لگائے گئے اور بعدازاں میٹرازول نامی دوا استعمال ہوتی رہی بالآخر 1938 میں دو اطالوی اطباء اوگو کارلیتی اور اوچو بِنی نے پہلی مرتبہ مرگی کا دورہ پیدا کرنے کے لئے بجلی کے کرنٹ کا کامیابی سے استعمال کیا۔ چنانچہ یہ طریقہءعلاج اس وقت سے ہی مستعمل ہے۔ متعارف ہونے کے تیس سال بعد تک یہ علاج بغیر انیستھیسیا کے کیا جاتا تھا لیکن برطانیہ میں ہونے والے طبی غفلت کے ایک تاریخی مقدمے نے اس کی شکل تبدیل کردی۔ ہوا یوں کہ ایک مریض کو تشنج کا اتنا شدید دورہ پڑا کہ اس کے دونوں کولہوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ گوکہ عدالت نے اس مریض کی شکایت یہ کہہ کر خارج کردی کہ اطباء کی ذمہ دار رائے میں جو فعل درست ہو اس کے خلاف غفلت کا مقدمہ نہیں بن سکتا لیکن پھر اسی مقدمے کی روشنی میں ای سی ٹی کا نظام تبدیل ہوتا گیا اور مریض کو مکمل بیہوش کرنا اور عضلات شَل کرنے والی ادویات کا استعمال لازمی قرار پایا۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ دو مختلف مہارت رکھنے والے طبیب یعنی نفسیات اور انیستھیسیا کے ماہرین بیک وقت مریض کی نگہداشت کے ذمہ دار بن گئے۔ دوسری طرف کرنٹ دوڑانے والی مشینوں میں بھی جدت آئی۔ اب تشنج کے زبردست دورے کے بجائے محض پیروں کی ہلکی سی جنبش اور دماغ کی ای ای جی پر مرگی نما تشکیل نمودار ہونے کو کافی سمجھا جاتا ہے۔
کون سے مریضوں کو بجلی کے جھٹکے دئے جاتے ہیں
برطانیہ کے رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس کے مطابق یہ علاج جن کیفیات میں کارگر ہوتا ہے ان میں شدید ڈپریشن کے مریض جن پر ادویات کارگر نہ ہورہی ہوں، مینیا یعنی جنون، بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور کیٹاٹونیا کے مریض جو باہر کی دنیا سے پوری طرح کٹ کر کھانا پینا، بات کرنا سب چھوڑ چکے ہوں شامل ہیں۔ بچے کو جنم دینے کے بعد ماؤں میں شدید ڈپریشن جس میں ان پر سخت یاسیت اور گریہ طاری رہتے ہیں اور وہ اپنے آپ اور نومولود بچے سے قطعا” لاتعلق ہوجاتی ہیں علاوہ ازیں آمادہ بر خودکشی مریضوں کے لئے تو یہ علاج ایک نعمت سے کم نہیں۔
کن مریضوں کو بجلی کے جھٹکے نہیں دئے جاسکتے
ویسے تو دل کے دورہ یا فالج کے حملے کا شکار ہونے والوں کو ای سی ٹی کے لئے غیر مناسب سمجھا جاتا ہے لیکن ماہر نفسیات اور ماہر بیہوشی مل کر ہی تعین کرسکتے ہیں کہ کس مریض کو یہ ٹریٹمنٹ نہیں دی جاسکے گی۔
ترقی یافتہ ممالک میں ای سی ٹی کے اعداد و شمار
برطانیہ میں رائل کالج آف سائیکاٹرسٹ کے تحت ای سی ٹی ایکریڈیشن سروس کا ادارہ کام کرتا ہے جو نفسیاتی مراکز میں سہولیات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس طریقہء علاج سے مستفید ہونے والوں پر اس کے منفی اور مثبت نتائج کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کی نگرانی بھی کرتا ہے کہ کتنے مریضوں کو یہ علاج باقاعدہ تمام سائیڈ انفیکٹس بتانے اور ان کی تحریری اجازت لینے کے بعد کیا گیا جیسا اوپر ذکر ہوا ای سی ٹی کی وجہ سے برطانیہ میں طبی غفلت کی قانون سازی میں اہم موڑ آیا۔
ان اعداد وشمار پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جہاں امریکہ میں سالانہ ایک لاکھ ای سی ٹی دی جاتی ہیں وہیں برطانیہ میں اس ٹریٹمنٹ میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ 1980ء میں 27000 مریضوں جبکہ 1970ء میں پچاس ہزار مریضوں کو ای سی ٹی دی گئی۔ یہ تعداد گرتے گرتے 2017ء میں 2135 تک پہنچ گئی۔ ہمارے خیال میں اس انحطاط میں بہت بڑا کردار ذہنی صحت کی مَد میں بجٹ میں مسلسل کمی اور طبی غفلت سے جڑے نسبتا” نئے قوانین سے ہے جو ڈاکٹروں کو پابند بناتے ہیں کہ وہ ہر علاج سے پہلے مریض کو ممکنہ نقصانات اور پیچیدگیوں سے ضرور متنبہ کریں اور مریض کی مکمل آگاہی کے بعد اس کی اجازت کے بعد ہی علاج فراہم کریں۔
وہ مریض جو ان معلومات کو سمجھنے سے قاصر ہوں یا جن کے لئے علاج ناگزیر ہو ان کو عدالتی کارروائی کرکے سیکشن کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان یا دنیا کے بہت سارے پسماندہ ممالک کی طرح یہ ممکن نہیں کہ مریض کی جگہ اس کا شوہر، باپ، چچا یا ماموں علاج کے اجازت نامے پر انگوٹھا لگا دے۔
کتنے مریضوں کو اس علاج سے فائدہ پہنچا
برطانیہ کے جس ادارے کا ہم نے اوپر تذکرہ کیا اس کے مطابق کم وبیش پچاس فیصد مریضوں کی علامات میں بہت زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ یہ تعداد شاید کم لگے لیکن اگر اس کا موازنہ نفسیاتی ادویات کے مسلسل استعمال کے نتائج سے کیا جائے تو ایک مختلف تاثر ابھرتا ہے۔
بھارت کی صورتحال
ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے بھارت میں نفسیاتی مریضوں کو ایک بہت لمبے عرصے تک بغیر انیستھیسیا بجلی کے جھٹکے دئے جاتے رہے۔ صورتحال اتنی خراب ہوگئی کہ اطباء اور مریضوں کے حقوق کی انجمنوں نے ایک وقت اس طریقہء علاج پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 2011ء میں بھارت کی پارلیمان نے مینٹل ہیلتھ کیئر بل پاس کیا جس کی رو سے بلا انیستھیسیا ای سی ٹی ایک جرم بن چکا ہے۔
ای سی ٹی کے سائیڈ افیکٹس
سردرد، غنودگی، کنفیوژن، متلی، جسم میں درد، بھوک نہ لگنا، نسیاں بالخصوص ٹریٹمنٹ سے فورا” پہلے کی باتیں بھول جانا، تشنج کا طویل دورہ، اصل مرض میں کوئی کمی نہ آنا شامل ہیں۔ ایک مختصر تعداد میں مریض لمبے عرصے کے لئے یادداشت کھو بھی سکتے ہیں۔
اطباء کا فرض ہوتا ہے کہ وہ علاج کے فوائد اور نقصانات ترازو کے پلڑوں میں رکھیں اور وہ ترازو مریض کو بھی دکھائیں۔
تیسرا منظر
مہینے یا دو مہینے میں ایک دفعہ مجھے اسپتال سے باہر واقع نفسیاتی مرکز میں جا کر ای سی ٹی کے مریضوں کو انیستھیسیا دینا ہوتا ہے۔ مجھے اس صبح کا انتظار رہتا ہے۔ یہ مقام آفاق کی وہ کارگہ شیشہ گری ہے جہاں سب سے زیادہ نازک کام سرانجام دیا جاتا ہے۔ نفسیاتی مرکز میں جگہ جگہ شفاف چھتوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے باغیچے بنا کر ان میں گارڈن فرنیچر رکھا گیا ہے تاکہ نیچے بیٹھنے والوں کے چہروں پر سورج کی روشنی تابندگی، امید اور زندگی بن کر پھیلتی رہے۔ یہیں ای سی ٹی روم ہے جس میں ایک مختصر لیکن تمام سہولیات سے مزین آپریشن تھیٹر اور ریکوری ہے۔ ساتھ میں ایک بیٹھنے کا کمرہ ہے جس کی پوری دیوار دراصل دلکش منظر بدلتی سینری ہے۔ جب مریض کے اوسان بحال ہوتے ہیں تو سینری بند ہوجاتی ہے اور دوسری طرف موجود چھوٹا سا جدید کچن عیاں ہوجاتا ہے یہاں ہمہ وقت چائے کافی، ڈبل روٹی، جام اور مکھن مریضوں اور اسٹاف کے لئے موجود ہوتا ہے۔ ای سی ٹی کے دس میں سے چھ مریض اپنے گھروں سے آتے ہیں اور ٹریٹمنٹ کے بعد ہلکا پھلکا ناشتہ کرکے واپس گھر چلے جاتے ہیں۔ نفسیاتی مرکز میں داخل مریض وہ ہوتے ہیں جن کو شدید بیماری لاحق ہو۔ کچھ کیٹاٹونیا میں باہر کی دنیا سے رابطہ توڑ چکے ہوتے ہیں، کچھ خودکشی پرمائل دائمی افسردگی کے شکار اور کچھ نئی مائیں جن پر نا سمجھ میں آنے والی یاسیت طاری ہوتی ہے جو انہیں خود سے اور اپنے بچے سے بیگانہ کررہی ہوتی ہے۔
یہیں ماہرین نفسیات اور مریضوں سے حاصل شدہ کچھ معلومات آپ کی خدمت میں پیش کی گئی ہیں۔

