کرکٹ میچ پر عمران خان کا تبصرہ اور پاک بھارت تعلقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوبئی میں ٹی ۔20 کے ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد دونوں ملکوں میں ظاہر کئے گئے جذبات کے بعد یہ بحث اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ کیا ایٹمی صلاحیت کے حامل یہ دو ممالک جہاں دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ رہتاہے ، کبھی نارمل قوموں کی طرح ایک دوسرے سے تعلقات استوار کرسکیں گے؟ کھیل کی روح خیر سگالی سے عبارت ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کو دشمنی نبھانے، بڑھانے اور اچھالنے کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔

کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں کبھی کسی کا پلہ بھاری رہتا ہے تو کبھی دوسرا جیت جاتا ہے لیکن سیاسی سطح پر دونوں ملکوں میں جو ماحول پیدا کیاگیا ہے، اس کی وجہ سے کرکٹ خیر سگالی یا نفرتوں کی خلیج پاٹنے کی بجائے ، فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ بھارت میں نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت کے دور میں جہاں دیگر شعبوں میں پاکستان دشمنی کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اور اندرون ملک مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتوں کو اجتماعی غم و غصہ کا نشانہ بنانے کا ماحول بنایا گیا ہے ، کرکٹ کو بھی خاص طور سے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت نے سیاسی فیصلہ کے ذرریعے اپنے قومی کرکٹ بورڈ کو مجبور کیا ہے کہ وہ کسی سطح پر پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے کسی مقابلہ میں شریک نہ ہو ۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے پلیٹ فارم پر ہونے والے مقابلوں میں بھارتی ٹیم کی شرکت اور شیڈول کے مطابق پاکستان سے مقابلہ کرنا ایک ایسی مجبوری ہے جسے بھارت کے انتہا پسند عناصر اور حکمران بھی ٹالنے میں ناکام ہیں۔ تاہم جس طرح بے پایاں نفرت سے علاقائی سیاست کو آلودہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اور دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے حالیہ مقابلے کے بعد جیسے نفرت وعناد کا شدید مظاہرہ دیکھنے میں آیاہے، اس کی روشنی میں یہ بھی بعید نہیں کہ چند برس بعد دونوں ملکوں کے درمیان دیگر مقابلوں کی طرح کرکٹ کا بھی کوئی میچ نہ ہوسکے۔

برصغیر میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے حالانکہ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے مقابلے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے۔ کمرشل لحاظ سے بھی یہ میچ نہایت منفعت بخش ثابت ہوتے ہیں ۔ اگر نئی دہلی اور اسلام آباد کی سیاسی قیادت ہوشمندی کا مظاہرہ کرے تو ایسے مواقع کو فاصلے اور دوریاں پیدا کرنے کی بجائے اعتماد سازی اور خیر سگالی کے فروغ کے لئے بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ابھی تک یہ ماحول موجود نہیں ہے۔ میچ سے پہلے ہی دونوں طرف سے سیاسی لیڈر نفرت انگیز اور ایک دوسرے کے بارے میں ہتک آمیز بیانات داغنا شروع کرتے ہیں اور میچ میں فتح یا ناکامی کے بعد یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دوبئی میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی فتح کے بعد یہی ماحول دیکھنے میں آیا ہے۔ کسی فتح پر خوشی کا اظہار قطعی بری بات نہیں ہے اور نہ ہی شکست کے بعد ملول ہونا اور اپنی کمزوریوں کا اندازہ کرنا کوئی غلط طریقہ ہے ۔ ایسے میں ایک دوسرے کے ساتھ معمول کے چٹکلے اور فقرے بازی بھی اسی وقت لطف دیتی ہے اگر باہمی احترام ملحوظ خاطر رہے۔ دوبئی میں ہونے والے میچ سے پہلے، دوران اور بعد میں یہ ماحول نہیں دیکھا جاسکا۔

پاکستان میں ایک طبقے نے اسے مذہبی رنگ دے کر کفر و اسلام کی جنگ بنا دیا اور پاکستان کی جیت کے بعد اس بات پر خوش و اطمینان کا اظہار نہیں کیا کہ پاکستان ٹیم نے ہوشمندی سے عمدہ کرکٹ پیش کی اور انتہائی دباؤ والے میچ میں بھی اپنے دیرینہ مدمقابل کو بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے شکست سے دوچار کیا۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی کی توصیف اور بہتر گیم پلاننگ کی تعریف کرنے کی بجائے ، یہ نعرے بازی کی گئی کہ پاکستانی ٹیم نے اللہ کی نصرت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی طرح اس جیت کی بنیاد پر ہر سماجی سطح کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر سیاسی انتہاپسندانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہتک آمیز فقرے کس کر یامیمز بنا کر نفرت اور شدید حقارت کا اظہار کیا۔ کچھ ایسا ہی طرز عمل بھارت میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں معاشرے میں پھیلائی گئی مسلم نفرت کی بنیاد پر بھارتی ٹیم کے واحد مسلمان کھلاڑی محمد شامی کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے خلاف سوشل میڈیا پر پر نفرت کا طوفان دیکھنے میں آیا۔ گویا بھارت یہ مقابلہ صرف ایک مسلمان کھلاڑی کی کسی ’سازش‘ کے نتیجہ میں ہار گیا اور اگر وہ میچ میں نہ ہوتا تو بھارتی ٹیم آسانی سے جیت جاتی۔ یہاں ہارنے والی بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کی وسیع القلبی کی تعریف کرنا بھی اہم ہے جنہوں نے میچ ختم ہوتے ہی پاکستانی کھلاڑیوں کو مبارک باد دی اور بعد میں پریس کانفرنس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستانی ٹیم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، اس لئے وہ جیت گئے۔ کھیل کی یہی سپرٹ دو قوموں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس ماحول میں ملک کے وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب میں ایک انویسٹ منٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شان دار فتح کا حوالہ دینا ضروری سمجھا۔ اور کہا کہ’ میں جانتا ہوں کہ گزشتہ شب کرکٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں بھارت کی زبردست شکست کے بعد ، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بات کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے‘۔ اس کے بعد پاکستانی وزیر اعظم نے تفصیل سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں حائل اس مشکل کا ذکر کیا لیکن کرکٹ میچ میں پاکستان کی فتح کا حوالہ دے کر بظاہر بھارتی قیادت اور عوام کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ عمران خان خود عالمی شہرت یافتہ کرکٹ کھلاڑی رہے ہیں اور اس حیثیت میں حاصل ہونے والی عوامی تائید کا ذکر کرتے ہوئے وہ بھارت میں اپنی مقبولیت کا حوالہ بھی دیتے رہتے ہیں۔ بلکہ حال ہی میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ دلچسپ بیان بھی دیاتھا کہ ’عمران خان بھارت میں اس قدر مقبول ہیں کہ وہ اگر نئی دہلی میں جلسہ کریں تو اس میں مودی کے جلسے سے زیادہ لوگ شریک ہوں گے‘۔ اس تعلی سے قطع نظر ایک وزیر اعظم کی طرف سے کسی دوسرے ملک میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کرکٹ کے ایک میچ میں فتح کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ استہزائیہ انداز گفتگو سفارتی پرٹوکول، بنیادی اخلاقی اقدار اور بین الملکی تعلقات کی نزاکت کے حوالے سے افسوسناک رویہ تھا۔

یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ کرکٹ کھلاڑی ہونے کی وجہ سے وہ اس فتح پر جذبات سے مغلوب تھے ، اسی لئے فی البدیہہ تقریر میں غلط انداز میں اس کا اظہار ہؤا۔ تاہم یہ نشاندہی ضروری ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کو کسی بھی پلیٹ فارم پر بات کرتے ہوئے، ذاتی پسند و ناپسند سے بلند ہو کر قومی مفاد کی بنیاد پر بات کرنا چاہئے۔ اس سیمینار میں عمران خان کی تقریر کا بنیادی مقصد سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دینا تھا۔ انہیں ادراک ہونا چاہئے تھا کہ کوئی بھی سرمایہ کار اسی وقت پاکستان آئے گا جب وہاں امن قائم ہوگا اور مستقبل میں اس خطہ کے کسی بڑے تنازعہ کا شکار ہونے کا امکان نہیں ہوگا۔ پاکستانی لیڈروں کو بھارت کے علاوہ افغانستان کے حوالے سے درپیش خطرات اور اندیشوں کے ماحول میں نہایت چابک دستی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ حکومت اپنی پالیسی سے تنازعات بڑھانے کی بجائے ، انہیں کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آنے والے وقت میں پاکستان میں حالات بہتر ہوں گے اور کسی سرمایہ دار کو پاکستان آتے ہوئے وسوسے کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

اس یقین دہانی کے برعکس ہمارے ملک کا وزیر اعظم یہ تاثر دے رہا ہے کہ ایک میچ میں فتح یا شکست کے بعد پاکستان اور بھارت کے لیڈر وسیع تر مفادات کے لئے کام کرنے کی بجائے، یا تو ایک میچ میں فتح کو بہت بڑی کامیابی سمجھ کر سیاسی مشکلات کو حل کرنا ضروری نہیں سمجھتے یا پھر شکست کے زخم چاٹتے ہوئے ہمسایہ ملک معاملات کو اس ایک شکست کے تناظرمیں ہی دیکھے گا۔ ہوسکتا ہے پاکستان اور بھارت کی حد تک لوگ اس تبصرے سے ’محظوظ‘ ہوں یا اس کی ’تکلیف‘ محسوس کریں لیکن عالمی پلیٹ فارم پر جمع کئے گئے سرمایہ کار تو یہی سمجھیں گے کہ جب ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کسی ملک کا لیڈر ہمسایہ ملک سے تعلقات کی بحالی کو ایک میچ کی فتح شکست سے مشروط کررہا ہے تو اس خطے میں امن کا امکان نہیں ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان نے اس سیمینار سے خطاب میں پاکستان کے شاندار ماضی کا ذکر کیا اور پھر بالواسطہ طور سے سیاسی قائدین کو پاکستان کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ سعودی اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو عمران خان کا پیغام یہ تھا کہ ’آخر ہمارے بھی اچھے دن آئیں گے۔ اس لئے جو آج سرمایہ لائے گا ، وہ فائدے میں رہے گا‘۔ اس مضحکہ خیز دلیل کو سن کر نہ جانے کون سا سرمایہ دار پاکستان کا رخ کرنے پر آمادہ ہوگا۔ وزیر اعظم کو اپنی زبان پر قابو نہیں ہے اور نہ ہی وہ یہ ادراک کر پارہے ہیں کہ ان کے کمزور بیانات سے پاکستان کی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ملک میں میڈیا مینیجمنٹ کے ذریعے عمران خان کو مسیحا اور مستقبل کا معمار ثابت کرنے کی ہزار کوشش کر لی جائے لیکن ان ہتھکنڈوں سے دگرگوں معاشی حالات میں بہتری کا کوئی امکان پیدا نہیں ہوسکتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2024 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments