سمتِ صحیح

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دورجدید میں دنیا کے تمام ممالک ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں کوشاں ہیں۔ ہر اِک کی خواہش ہے کہ وہ کسی بھی طرح ترقی کی منزلیں طے کرے۔ اور مزید آگے بڑھ کر منزل تک جا پہنچے۔ ترقی کے اس سفر میں ہر ملک کا منفرد انداز رہا۔ کچھ ممالک تعمیر کر کے، کچھ تخریب کر کے آگے نِکلے۔ کسی نے کمزور ممالک میں لڑائی جھگڑے لگاکر اسلحہ بھیجا،تو کسی نے امن دلا کر وہاں کے وسائل لوٹنے کیلئے پڑاؤ ڈالا۔ کوئی مذہبی ،علاقائی اور سیاسی اختلافات میں کودکر دوسروں کو فائدہ پہنچاتا رہا۔ تو کسی نے شراکت داری کےزریعے سونے کی چڑیاں سمجھ کے شکار کیا۔ غرض ہر کسی نے حسبِ توفیق اپناکام کِیا۔
ترقی کے اس دوڑ دھوپ میں وطن عزیز بھی تگ ودوکرتا رہا۔ اس کیلئے مختلف ادوار میں جمہوری و فوجی حکومتیں بھی بدلتی رہیں۔ اور کھبی بڑے ممالک کے ساتھ مل کر اس سفر کو جاری و ساری رکھا گیا۔ لیکن ستر پچہتر سال گزرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ مثبت نتائج نہ مل سکے۔
اس کی بہت سی وجوہات بھی ہیں۔ یہاں کسی نے ابھی تک ذمہ داری قبول ہی نہیں کِی۔
اس وقت ملک وقوم کی اُمید نوجوان ہیں۔ جبکہ یہ اُمید کی کرن بھی تاریک ہوتی جا رہی ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو صحیح سمت اورراستے کا ہی تعین ہی نہیں۔ اور نہ ہی اِنہیں صحیح سمت بتائی جاتی ہے۔ اسی لئے ابھی تک صحیح سمت کا تعین بھی نہیں ہو پایا۔ اِنہیں یا تو گُنجان راستوں پر چھوڑ دیا گیا، یا پھر لاحاصل مقاصد کے پیچھے دوڑا دیا گیا یا مقدر اورنصیب کے چکر میں چکرایاگیا جوبچے کُچے تھے انہیں فضول لغزشوں میں انڈیلا گیا۔
قوم کے نوجوانوں کی تعلیم وتربیت بھی عجیب بوجھ اور تجارت بنی ہوئی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام (سکول،کالج اوریونیورسٹیاں) آزادی کے بعد بھی اب تک غلامانہ ہی ہے۔ انگریز ایسے گرداب میں جھونک کرگیا۔ کہ اب تک اُسی گرداب میں گول چکر کاٹ رہےہیں۔
اور اس کی بڑی وجہ تعلیمی نظام کا اک بڑا حصہ مافیا کے ہاتھوں میں ہونا ہے۔ تعلیمی ادارے تعلیم کے بجائے روپے پیسے کی کمائی کیلئے اندسٹری کا کام کرتی ہیں۔
پاکستان بنےچوہتر سال گزر گئے۔ آج تک ہمارا تعلیمی نظام ایسےلوگوں کوپیدا نہ کر سکا۔
جو ملک میں آئے ہوئے مشکلات کا حل پیش کرسکیں۔ ہم تقریباہر چیز اور ہر معاملےمیں بیرونی ممالک کےرحم وکرم پرہیں ۔
چاہئے وہ میڈیکل ہو۔ انجیئرنگ ہو۔ معاشی ہویاکہ زرعی، آج بھی
بیرونی ممالک سے پڑھے لکھے لوگو کوترجیح حاصل ہے۔
”جان ڈیوی،،نے تعلیم کی تعریف یوں کی کہ”تعلیم تجربے کی اس تنظیم نو کا نام ہے، جس سے تجربے کے معنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جس کے طفیل بعد میں پیش آنے والے تجربے کا رُخ معین کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ ”
اب آپ خود امریکی جان ڈیوی کی تعریف اور پاکستان کی تعلیمی نظام کو دیکھ لیں۔
یہاں اسکولوں اور کالجوں میں بیالوجی ،کیمسٹری اور فزکس تو پڑھائے جاتے ہیں ،لیکن تجربے کیلئے لیب یا لیب میں موجود تجرباتی آلات نہیں ہوتے۔
اسی طرح یونیورسٹی میں اکثر اساتذہ جو مضمون پڑھاتے ہیں ۔ خود اس کام میں اُن کا کوئی حصہ ہی نہیں ہوتا۔ یعنی پریکٹیکل ایکسپرٹ نہیں ہوتے۔
ہمارے آئی ۔ ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے ٹیچر طلباء کو فری لانسنگ کے زریعے مہینے میں پانچ لاکھ روپے کمانے کے خواب تو دکھاتا ہے۔ مگر خود پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ہے۔
بزنس پڑھانے والے ٹیچر طلباء کو دنیا کے عظیم کاروباری فارمولے تو سکھاتے ہیں ،لیکن خود کا کوئی بزنس نہیں ہوتا،اور نہ ہی تجربہ۔
قانون پڑھانے والے ٹیچر طلباء کو فوجداری اور دیوانی مقدمات کی گھتیاں سُلجانے کے ماہر تو بناتے ہیں،مگر خود عدالت میں کوئی کیس لڑا نہیں ہوگا۔ اسی طرح موکل کو لاجواب کرنے کے گُربھی سکھاتے ہیں،مگر کبھی بار کونسل کا اندرونی ہال دیکھ چکے ہوتے اور نہ ہی عدالت سے کوئی کیس جیت چکے ہوتے۔
یہی حال صحافت پڑھانے والوں کا بھی ہوتا ہے۔ جرنلزم کے اساتذہ خود کسی ٹی ۔ وی یا اخبار کا حصہ نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی فیلڈ رپورٹنگ کا تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن طلباء کو کتابی جرنلزم کے آداب بتاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام سے فارغ التحصیل طلباء نوکریوں کیلئے ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ M.philاور P.hDپاس ڈگریاں ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں۔ جو اپنی مشکلات حل نہیں کر سکتے۔ وہ ملک و قوم کا بیڑا کیسے اُٹھا سکتے ہیں؟ تجربہ کار اور گرانڈ پہ موجودہ صورت حال سے واقف استاد ہی طلباء کو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق تیار سپاہی بنا سکتا ہے۔ جو کسی بھی قسم حالات کے مطابق اپنے لئے اور دوسروں کیلئے راستہ نکال سکتا ہے۔
خیر اب ہمیں بغیر وقت ضائع کئے اپنی صحیح سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ تاکہ ترقی کی اس دوڑ میں ملک و قوم کو دنیا کے خوشحال اور ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل کر سکیں۔ اور یہ تب ہی ممکن ہو گا۔ جب ہم ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کر کے اور اُن سے سبق سیکھ کر مستقبل میں محنت کو اپنا شعار بنا کر چلنا شروع کریں گے۔ اسی طرح شخصی مفاد کو چھوڑ کے قومی مفاد کو مقدم رکھیں گے۔ تسلسل اور خلوص کے ساتھ اِک نیا عزم لے کر منزل سے آگے منزل کی تلاش میں نکلیں گے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments