زندگی اور موت کے درمیاں

ہال تالیوں سے گونج رہا تھا- یہ تقریب ایک نامور سائنس داں اور انجینئر کے اعزاز میں منعقد تھی جسے اعلی ایوارڈ دیا جانا تھا- ایوارڈ دینے کے بعد منتظمین نے اس سائنس داں سے گزارش کی کہ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیں، یہاں تک کا سفر کیسا رہا، کیسے طے کیا اور زندگی میں کوئی ایسا شخص جس کی وجہ سے آپ اس مقام تک پہنچے-
سائنس داں نے مائک تھاما اور کچھ دیر خاموش رہا- ہال میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی اور وہاں موجود تمام لوگ اس کی تقریر کے منتظر تھے- اس نے کہنا شروع کیا-
” میں آپ سب لوگوں کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اس ایوارڈ سے نوازا- میں سب سے پہلے اپنے والدین کا اور اپنی شریک حیات کا شکریہ ادا کروں گا جو اس وقت یہاں موجود ہیں جن کی انتھک قربانیاں میں کبھی نہیں بھولوں گا لیکن جس ایک شخص کی وجہ سے میں آج اس مقام تک پہنچا ہوں، وہ میرےوالدین اور بیوی نہیں ہیں بلکہ ان کے برابر میں بیٹھا ہوا میرا دوست ہے جس کے لئے میری یہ بات کسی اچنبھے سے کم نہیں ہو گی – میرا یہ دوست اور میرے گھر والے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنے دوست کو اپنے والدین اور بیوی پر کیوں ترجیح دے رہا ہوں- ان کی حیرانی بجا ہے کیوں کہ کسی کو بھی اس واقعہ کا علم نہیں ہے جو واقعہ میں آپ کو ابھی بتانے لگا ہوں”- ہال میں موجود تمام لوگ اور بالخصوص اس کا دوست بڑی دلچسپی اور حیرت سے اس کی تقریر سن رہے تھے- اس نے پھر کہنا شروع کیا-
” میں بچپن میں انتہائی شرمیلا تھا- خود اعتمادی کا فقدان تھا اور میری شکل بھی واجبی سی تھی- میرا کوئی دوست بننا بھی پسند نہیں کرتا تھا- میرے اسکول کے لڑکے میرا مذاق اڑاتے تھے اور فقرے کستے تھے- ان لڑکوں کا یہ رویہ کئ سالوں سے جاری تھا- میں نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار رہنا لگا اور مجھے زندگی سے نفرت سی ہونے لگی- ایک دن ان ہی لڑکوں نے اسکول سے چھٹی کے بعد میرا کسی بات پر مذاق اڑایا اور مجھے دھکے دئیے- میں، میرا بستہ اور میرا چشمہ دور جا گرے- وہ لڑکے ہنستے ہوئے اپنے رستے چلے گئے- میں رونے لگا اور روتے روتے ایک فیصلہ کیا اور اپنا چشمہ تلاش کرنے لگا- اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا- میرا یہ دوست میرا چشمہ لئے کھڑا تھا-
میرے اس دوست نے پھر میرا بستہ اٹھایا اور مجھ سے باتیں کرنے لگا- یہ اسی اسکول میں پڑھتا تھا- اس دوست نے میری ہمت بندھائی اور کہا کہ مجھ سے دوستی کرو گے- اس سے پہلے میری طرف شاید ہی کسی نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا- مجھے پہلی مرتبہ زندگی حسین محسوس ہوئی اور پھر ہم دونوں باتیں کرتے ہوئے اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل پڑے- وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری دوستی اور گہری ہوتی چلی گئی اور آج ہم دونوں یہاں موجود ہیں – یہاں تک کی کہانی شاید میرے اس دوست کو یاد ہو لیکن میرے اس دوست کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ اگر وہ اس دن میرا ہاتھ نہیں تھامتا، مجھے دلاسا نہیں دیتا اور مجھ سے دوستی نہیں کرتا تو اس دن میں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا”- ہال میں موجود تمام لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا اور سامنے بیٹھے ہوئے دوست کی آنکھیں بھر آئیں- اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کا ایک چھوٹا سا عمل کسی کی زندگی بچا سکتا ہے- ( ماخوذ)
جی ہاں! کبھی کبھی زندگی اور موت کے درمیان بہت کم فاصلہ ہوتا ہے- ہمارا ایک چھوٹا سا عمل، بات، جملہ کسی کے دکھ کا درماں بن سکتا ہے- انسان بولنا سیکھنا دو سال میں شروع کرتا ہے لیکن کون سا لفظ کہاں بولنا ہے، یہ سیکھنے میں ساری زندگی لگ جاتی ہے-

