اس قاتل بچے کا باپ کون ہے؟


چند روز قبل 24 اکتوبر کو وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب نے پریس کانفرنس میں قوم کو اس خوش خبری سے نوازا کہ ان کے اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ اور خود تحریک لبیک کے قائد سعد رضوی صاحب نے یہ خواہش کی تھی کہ شیخ رشید صاحب حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی کریں۔ اور یہ اعلان کیا کہ حکومت منگل یا بدھ تک ان کے خلاف مقدمات واپس لے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک ایک سیاسی جماعت ہے اور میں ایک سیاسی ورکر کی حیثیث سے تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے لئے تیار ہوں۔ مذہبی لوگوں سے ٹکرائو نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ناموس رسالت کے سپاہی ہیں۔ اور ختم نبوت کے بھی سپاہی ہیں۔ جس ملک کی حکومت نے شیخ رشید کو وزیر داخلہ بنایا ہو ، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ختم نبوت کی ناموس پر کوئی آنچ آ سکے۔ احتجاج ان کا حق ہے۔ حکومت کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ جوڈو کراٹے کرے۔

تین روز بعد 27 اکتوبر کو شیخ رشید صاحب نے ایک اور پریس کانفرنس کی اور اس میں کہا کہ تحریک لبیک والوں نے سادھوکی میں کلاشنکوفوں سے پولیس والوں پر فائرنگ کی اور پولیس والے نہتے تھے۔ ان کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں۔ اور یہ اعتراف بھی کیا کہ پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ پولیس کے تین جوان شہید ہو گئے۔ ستر زخمی ہیں اور ان میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ ہم ناموس رسالت کے بھی سپاہی ہیں اور ختم نبوت کے بھی سپاہی ہیں۔ تحریک لبیک والوں کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ نہ ہو کہ تحریک لبیک پر بین الاقوامی پابندی لگ جائے۔ اور یہ دہشت گردوں کی عالمی تنظیموں میں شمار ہونے لگ جائیں۔ پھر ان کے مقدمات ہمارے بس میں نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں رینجرز تعینات کئے جا رہے ہیں۔

اسی روز وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں فرمایا تحریک لبیک کوئی مذہبی پارٹی نہیں ہے یہ ایک عسکریت پسند گروہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم یہ تفصیل سامنے رکھ چکے ہیں کہ کس طرح ہندوستان کے اکا ئونٹس تحریک لبیک کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اور ان کو سوشل میڈیا مدد بھی ہندوستان سے مل رہی ہے۔ اگر ہم تشدد کا اختیار پرائیویٹ گروپوں میں بانٹنا شروع کر دیں گے تو پھر ریاست ختم ہو جائے گی۔ اس تنظیم کی لیڈر شپ تو چاہتی ہے کہ سڑکوں پر خون بہے۔ پچھلی مرتبہ چھ پولیس والے شہید کئے گئے اور سات سو زخمی ہوئے۔ اب دو دنوں میں تین پولیس والے شہید ہو چکے ہیں۔ ہم کتنی دیر تک ان کا لحاظ کریں گے۔

ان پریس کانفرنسوں کو سن کر قدرتی طور پر دو سوال اُٹھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر حکومت کو علم تھا کہ اس تنظیم کو بھارتی اکائونٹس سے مالی مدد دی جا رہی ہے تو تین روز قبل تک انہیں مذہبی لوگ قرار دے کر وزیر داخلہ یہ اعلان کیوں کر رہے تھے کہ مذہبی لوگوں سے ٹکرائو نہیں ہونا چاہیے۔ اس صورت میں تو فوری طور پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے تھی اور ان کو روکنے کے لئے ہر ممکن طریقہ استعمال کرنا چاہیے تھا۔ نہ کہ اس قسم کے بیانات دے کر بھارت کے مدد یافتہ گروہ کے حوصلے اور بڑھائے جائیں۔ اور بھارت کی مدد یافتہ تنظیم نے اس خواہش کا اظہار کیوں کیا کہ خود وزیر داخلہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کی قیادت کریں؟ اگر آپ کے علم میں تھا کہ ان کو بھارت سے مدد مل رہی ہے تو اب تک ان کا لحاظ کیوں کر رہے تھے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں کہ اس جلوس کے پاس کلاشنکوف موجود تھیں اور اس سے قبل بھی وہ کئی پولیس والوں کو شہید کر چکے تھے، ان کے مقابلے پر نہتے پولیس والوں کو کیوں بھجوایا گیا ؟ اس حالت میں کہ وہ اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو اپنے دفاع کا سامان کیوں نہیں دیا گیا۔ اور خود وزیر داخلہ تسلیم کر رہے ہیں کہ پولیس والوں کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ایسا کیوں تھا؟

نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک تین پولیس والے شہید ہو چکے ہیں۔ کیا یہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ متذبذب حکومت نے نہتے پولیس والوں کو مذہبی انتہا پسندوں کے آگے ڈال دیا ہے کہ وہ ان کو اپنے مظالم کا نشانہ بنائیں۔ کیا ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ بد قسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہی تاریخ بار بار دہرائی گئی ہے۔

پاکستان بننے کے فوراََ بعد 1950 کی دہائی میں مجلس احرار نے ایک پُر تشدد مذہبی شورش شروع کی۔ اس کے آغاز سے ہی پولیس کا محکمہ بار بار یہ رپورٹیں حکومت کو بھجوا رہا تھا کہ حکومت اس تحریک کو قابو کرے ورنہ یہ شورش پاکستان کو نقصان پہنچائے گی۔ چنانچہ انور علی صاحب انسپکٹر جنرل پولیس نے حکومت کو یہ رپورٹ بھجوائی :

"یہ لوگ پاکستان کی بیخ کنی کر رہے ہیں۔ حکومت کو کمر ہمت باندھ کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ "[رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ص146]۔ لیکن بار بار کے انتباہ کے با وجود پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ صاحب پس پردہ اس تحریک کی حوصلہ افزائی کررہے تھے تا کہ اس ہتھیار کو اپنے سیاسی حریف وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کے خلاف استعمال کر سکیں۔ بلکہ محکمہ اسلامیات نام کے ایک سرکاری محکمہ سے ان کی مالی مدد بھی کی جا رہی تھی۔

 حکومت کی بے عملی کے نتیجہ میں نتیجہ یہ نکلا کہ مارچ 1953کے پہلے ہفتہ میں لاہور میں یہ شورش خطرناک رنگ اختیار کر گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ پولیس کو یہ اطلاع ملی کہ بلوائی دو پولیس افسران کو اغوا کر کے مسجد وزیر خان میں لے گئے ہیں۔ جب کچھ پولیس افسر ان کی بازیابی کے لئے ان کے پاس گئے تو بلوائیوں نے ان کو گھیر کے ان پر چھریوں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ ان میں سے ایک شہید ہونے والے پولیس افسر ڈی ایس پی فردوس علی شاہ صاحب کے جسم پر باون زخموں کے نشان تھے۔ اس کے بعد کسی پولیس افسر کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ بلوائیوں کے مرکز تک جا سکے[صفحہ 160]

 اور حکومت پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ آخر کار انسپکٹر جنرل کو یہ دھمکی بھی دینی پڑی کہ اگر حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ [صفحہ 167]۔ آخر کار انجام یہ ہوا کہ خون خرابہ بڑھتا گیا اورجب لاہور قابو سے باہر ہو گیا تو لاہور میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لاء لگانا پڑا۔ ان فسادات کے بارے میں تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے:

"احراریوں کا رویہ اس بچے کا سا تھا جس کو اس کا باپ کسی اجنبی کو پیٹنے پر سزا کی دھمکی دیتا ہے اور وہ بچہ یہ جان کر کہ اسے سزا نہ دی جائے گی اجنبی کو پھر پیٹنے لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد چونکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں اس لئے باپ محض پریشان ہو کر بیٹے کو مارتا ہے لیکن نرمی سے تاکہ اسے چوٹ نہ لگے۔۔۔۔

ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر احرار کے مسئلہ کو سیاسی مصالح سے الگ ہو کر محض قانون و انتظام کا مسئلہ قرار دیا جاتا تو صرف ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایک سپرڈنٹنٹ پولیس ان کے تدارک کے لئے کافی تھے۔۔۔ لیکن اگر جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ قانون و انتظام کو سیاسی اغراض کے ماتحت کر دیا جائے تو اللہ ہی علیم و خبیر ہے کہ کیا ہوگا۔ "

[صفحہ 422و425]

اس انتباہ کے با وجود پاکستان میں یہ تاریخ بار بار دہرائی گئی ہے۔ ایک بار پھر یہ ضدی بچہ سڑکوں پر سرگرم عمل ہے۔ اور تین پولیس والے شہید بھی ہو چکے ہیں۔ اور کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مرتبہ اس بچے کے "باپ” کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟

Facebook Comments HS