افغانستان میں عالمی قوتوں اورعلاقائی ممالک کے مفادات کا پس منظر


 

افغانستان کی عبوری انتظامیہ کو ابھی تک کسی بھی ملک نے باقاعدہ تسلیم نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال اور اہم آہنگی میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تواتر سے مختلف ممالک میں اجلاس ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے عبوری انتظامیہ کے اعلان کرنے کے بعد سب سے پہلا اجلاس پاکستان کی دعوت پر 8 ستمبر2021 کو منعقد ہوا تھا، اس ورچوئل اجلاس میں چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اجلا س میں افغانستان کی ابھرتی نئی صورت حال پر پڑوسی ممالک نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ 27 اکتوبر کو ایران میں روس فارمیٹ اجلاس کے بعد دوسرا وزرائے خارجہ کی سطح پر تہران کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، لیکن اس اجلاس میں افغان طالبان کو باقاعدہ شرکت کی دعوت نہیں دی گئی، جس کے باعث افغان طالبان نے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے واضح کہہ دیا کہ وہ شرکت نہیں کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 8 ستمبر کے وزرائے خارجہ کے ورچوئل اجلاس میں بھی افغان طالبان کو دعوت نہیں دی گئی تھی تاہم اس وقت مریکا و نیٹو انخلا کے بعد بھی افغانستان میں امن و اماں اور غیر ملکیوں سمیت امریکی و اتحادیوں کے سہولت کاروں (پرائیوٹ کنٹریکٹرز) کے انخلا کا عمل درپیش تھا۔ پاکستان پر امریکا کے نان نیٹو اتحادی ہونے کے باعث دباؤ زیادہ رہا اور افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں افغان امن مذاکراتی عمل میں ریاست سے کئی مطالبات اور توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔ پاکستان کے لئے افغانستان میں امن کی اہمیت اس لئے دوسروں سے زیادہ رہی ہے کیونکہ بھارت نے افغان بے امنی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھا کر کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کی اور انہیں افغان سرزمین سے ملک کے خلاف استعمال کیا۔ یہ کوئی پوشیدہ معاملہ نہیں رہا کیونکہ بھارتی وزیراعظم سے لے کر کئی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں نے کئی عوامی جلسوں میں کھل کر اس امر کا اعتراف کیا کہ وہ نام نہاد علیحدگی پسندوں اور کالعدم تنظیموں کو فنڈنگ کرتا ہے اور مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش) کی جس طرح مغربی پاکستان سے سقوط کرایا گیا، وہ پاکستان کے مزید حصوں کا سقوط کے لئے ہر حربے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
پاکستان کا افغانستان میں اپنی مملکت کے خلاف عملی اقدامات اور سرزمین کے تحفظ کے لئے ہر ممکن لائحہ عمل کو اختیار کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاک۔ افغان بارڈر 2600کلو میٹر پر محیط ہے اور ماضی میں کبھی بارڈر منجمنٹ کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی تھی کیونکہ کابل، پاکستان مخالفت میں بھارت کی ایما پر اور اشاروں پر اتنی سرگرم نہ تھاجتنا دو دہائیوں میں امریکا کی حاشیہ بردار سابق کابل انتظامیہ رہی۔ پاکستان کو مشرقی سرحدوں کے ساتھ اب شمالی مغربی سرحدوں کی بھی باقاعدہ حفاظت کرنا پڑ رہی ہے، کیونکہ ملک دشمن عناصر قوم پرستی، صوبائیت اور فرقہ وارنہ سطح پر پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب کرانے اور داخلی طور پر سیاسی، مذہبی اور شدت پسندی کے ذریعے انتشار پھیلانے کی سازشوں میں ملوث پائے گئے، جس کے ثبوت حکومت پاکستان نے عالمی برادری کو بھی دیئے لیکن بھارت کے ساتھ مسلم اکثریتی ممالک کے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک کے فروعی مفادات بھی وابستہ ہیں اس لئے ان کی جانب سے غیر جانبدارانہ اقدامات نہ کئے جانے پر پاکستان کو اپنی بقا و سلامتی کے لئے خود پر انحصار زیادہ کرنا پڑتا ہے۔افغانستان کے حکومتی اثاثوں کو جب امریکہ نے منجمد کیا تو یہ واضح پالیسی سامنے آچکی تھی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغان عبوری حکومت کو کسی طور تسلیم نہیں کریں گے بلکہ اقتصادی طور پر کمزور سے کمزور کیا جائے گا تاکہ امریکہ کو جو سبکی و شرمندگی کا سامنا اپنی عوام اور پوری دنیا میں ہوا ہے اس کا ‘سبق’ سیکھایا جاسکے۔ افغانستان میں امن صرف پاکستان کے ساتھ ہی نہیں جڑا بلکہ اس کا براہ راست تعلق ایران، چین اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد آزاد ہونے والی مشرق وسطیٰ کی مسلم اکثریتی ممالک تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو بھی  یکساں چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان کا اثر براہ راست افغانستان میں مستحکم اور پائدار حکومت کے قیام سے وابستہ ہے۔
آذر بائیجان وسط ایشیاکا اہم ترین ملک ہے، جس کے آرمینیا کے ساتھ کشیدہ تعلقات ہیں اور نگوارباخ کے معاملے پر جنگ اور کئی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔ آذربائیجان کی کل سرحدیں 2648 کلو میٹر طویل ہیں، جس میں سے آرمینیا کے ساتھ1007، ایران کے ساتھ 756 کلومیٹر، روس کے ساتھ390 اور ترکی ساتھ 15کلو میٹر سرحد شامل ہے۔ آذر بائیجان کے نسل ایران میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایران میں آذری نہایت اثر رسوخ کے حامل سمجھے جاتے ہیں، ان کی کل تعداد ایران میں آذر بائیجان سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ آذری ترک نسل کے لوگوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے جب کہ آذربائیجان کی اپنی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔ایرانی روحانی پیشوا و اعلیٰ ترین رہنما علی خامنہ ای کا تعلق بھی والد کی طرف سے آذری نسل سے بتایا جاتا ہے۔  ایران میں آرمینیائی نسل کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ ایران میں آرمینیائی نسل ایک خاموش اور کمزور قوت ہے۔ایران آذربائیجان کی کھلی حمایت کرتا ہے کیونکہ انہیں یہ خدشات ہیں کہ اس کے روایتی حریف آذربائیجان کے مغربی صوبوں کو توڑ نا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے ایران، روس او ترکی کے کردار پر تشویش کا اظہار بھی کرتا ہے۔ ایران نگورنوکاراباخ میں شام اور لیبیا سے آنے والے جنگجوؤں پر خدشات رکھتا ہے کہ انہیں ایران کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آرمینیا اور آذربائیجان سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد وجود میں آئے تھے لیکن ان کے درمیان نگورنو کارباخ کے تنازع کی وجہ سے ماسکو اور انقرہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ بھی ہیں،دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایران میں آذر ی نسل زیادہ تعداد میں ہے اور آرمینیائی کم، لیکن کاراباخ میں آذری نسل کم اور آرمنیائی زیادہ ہیں۔ ایران عظیم مشرق وسطیٰ میں خاص اثر و نفوذ رکھتا ہے، اس لئے اس کے مفادات کو براہ راست نقصان پہنچانے کے لئے ایران میں آذری اور آرمینیائی نسل کے درمیان تصادم اور سرحدوں پر جھڑپوں کا خدشہ برقرار ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایسے گروپ افغانستان میں رہ کر مضبوط ہوکر ان کے خلاف استعمال ہوں۔خیال رہے کہ آرمینیا کی تین ملین آبادی کا 95 فیصد آبادی مسیحیت کی پیروکار ہے۔جب کہ آذربائیجان میں 95 فیصد عوام کے مذہب کا تعلق اہل تشیع سے ہے۔
افغانستان کی جغرافیائی سرحد 5529 کلومیٹر طویل ہے جس میں چین۔ افغانستان کی 76 کلو میٹرسرحدیں شمال مشرق میں ملتی ہیں جب کہ تاجکستان۔ چین 414 کلومیٹر، پاکستان۔چین 523 کلومیٹر  اور بھارت۔ چین 3380 کلومیٹر سرحدبھی شامل ہے۔مجموعی طور پر چین کی 22117 کلومیٹر دنیا کی سب سے طویل ترین بین الاقوامی (تسلیم شدہ ممالک) سرحدیں 14ممالک سے ملتی ہیں۔چین کو جہاں امریکا اور یورپ سمیت مغربی ممالک کے مقابل ون بیلٹ ون روڈ پر عالمی معیشت میں اجارہ دار بننے کا سامنا ہے تو اپنے ملک کی طویل ترین سرحدوں پر مخالف قوتوں کی جانب سے جنگجوؤں کی جانب سے بے امنی کے بھی خطرات لاحق رہتے ہیں۔ بالخصوص افغانستان کے ماضی میں کردار کے پیش نظر چین بھی نہیں چاہتا کہ یہاں کوئی ایسے جنگجو گروپ پروان چڑھیں یا مستحکم ہوں جو چینی مفادات کو نقصان پہنچاسکے۔ چین کو بھارت اور امریکہ سے خدشات ہیں کہ وہ چینی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ چین کے دیرینہ تعلقات بھی مغربی قوتوں کے مفاد میں نہیں اس لئے افغانستان میں دونوں ممالک کی موجودگی کوبرداشت کرنا بھارت، امریکہ سمیت کئی عالمی قوتوں کے لئے ناقابل قبول عمل بنتا رہا ہے۔
ازبکستان کی حکومت 8ستمبر کو افغان طالبان کی عبوری انتظامیہ کا خیر مقدم کرچکی ہے۔ افغانستان ازبکستان سے بجلی درآمد کرنے کے علاوہ مزار شریف اور ہراتان کے تجارتی مراکز بھی افغانستان کی سب سے اہم اقتصادی راہدریاں ہیں، جو ازبکستان سے ملتی ہیں۔افغانستان ازبکستان سے 300 میگاواٹ بجلی درآمد کرتا ہے۔پاکستان اور ازبکستان ان پہلے ممالک میں شامل تھے جنہوں نے سابقہ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کو امدادی کھیپ بھیج کرافغان طالبان کے ساتھ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا۔ 12 ستمبر کو ازبکستان نے 1300 ٹن خوراک کی کھیپ مزار شریف بھیجی،ازبکستان کو اب وسطی ایشیا کی معاشی طاقتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جو کہ عالمی بینک کے مطابق 2021 میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے روس سے آگے ہے۔ شوکت مرزیویف نے، جنہوں نے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ازبکستان کے دروازے کھولے، سیاست پر معیشت کو ترجیح دی۔ اس وجہ سے ملک کے عہدیدار، افغان طالبان کابینہ کی تشکیل پر کوئی تبصرہ کیے بغیر افغانستان کے ساتھ تعلقات اور تجارت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک میں سے ایک کے طور پر تیزی دکھا رہے ہیں۔ازبکستان کو بھی افغانستان میں موجود شدت پسند جنگجو تحریک اسلامی ازبکستا ن کی جانب سے شدت پسندی کے خطرات ہیں، اس گروہ نے افغانستان میں موجود داعش میں شمولیت اختیار کی۔جو مبینہ طور پر تخار، قندوز اور بدخشاں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
افغانستان اور تاجکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور افغان طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تند و تلخ بیانات کا تبادلہ ہوچکا ہے، گو کہ افغانستان میں تاجک نسل کے بڑی تعداد موجود ہے لیکن تاریخی طور پر افغانستان میں رہنے والے تاجک نسل، تاجکستان حکومت کے بجائے افغانستان کی سرزمین کے دفاع اور سالمیت پر یقین رکھتے ہیں۔ روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان الیکسی زیتسوف نے تاجک۔ افغان تنازع پر کہا  کہ ‘ہم تاجک افغان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتے ہیں جن میں دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آرہے ہیں۔تاجکستان کی حکومت نے افغان عبوری حکومت میں دیگر دھڑوں کی نمائندگی میں کمی اور خطے کے استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ تاجکستان میں روس کا اپنا ایک فوجی اڈہ ہے اور اسے یہ تشویش لاحق ہے کہ علاقے میں موجود عسکریت پسند یا پھر منشیات کے اسمگلر کہیں اس غیر مستحکم صورت حال کا فائدہ نہ اٹھا لیں۔
ازبکستان کی طرح ترکمانستان نے بھی گذشتہ ایک سال کے دوران طالبان کے ساتھ ‘سفارتی’ رابطہ قائم رکھا لیکن تاشقند کے برعکس، اشک آباد نے ہمیشہ ان رابطوں کو زیادہ اجاگر نہیں کیا۔افغانستان میں جلد سے جلد امن کے قیام میں ترکمانستان کے اقتصادی مفادات ہیں، جس میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، اور بھارت کے درمیان (TAPI) گیس پائپ لائن بھی شامل ہے۔ اس سے اشک آباد کو اپنی قدرتی گیس کی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔کرغزستان میں حکام نے ابھی تک افغان طالبان کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کی لیکن ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں تحریک کے لیے لڑنے والوں میں مبینہ طور کرغز شہری بھی ہیں۔ کرغزستان میں بھی افغان طالبان کے ہمدردوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر میڈیا میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔افغان حکومت کی اس یقین دہانی کے باوجود کہ وہ وسطی ایشیائی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، پورے خطے میں سکیورٹی اور پناہ گزینوں کی نقل مکانی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔قازقستان کے صدر ٹوکایف نے حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان میں چھوٹ جانے والے امریکی ہتھیار جن پر اب افغان طالبان کا قبضہ ہے علاقائی سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہیں۔
روس میں منعقد اجلاس میں دس ممالک شریک ہوئے۔ ماسکو فارمیٹ کے مطابق اس اجلاس میں افغان طالبان، چین، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے نمائندے شریک تھے لیکن امریکہ نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ جی سیون ممالک کا اجلاس بھی منعقد ہوچکا ہے جس میں امریکہ اور برطانیہ نے افغانستان کے معاملات پر غور کیا گیا۔ اب ایران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر دوسرا اجلاس منعقد ہونے جارہاہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ سرکاری سطح پر افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں، جب کہ کئی ممالک کے سفرا اور اعلیٰ حکام افغان طالبان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ان تمام معاملات کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو باقاعدہ تسلیم کئے جانے میں روس اور چین کے کردار کو اہم سمجھا جارہا ہے کہ جب تک روس اور چین آگے بڑھ کر باقاعدہ افغان عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اُس وقت تک افغانستان کو کئی دیرینہ مسائل کا سامنا رہے گا۔
ماسکو فارمیٹ کے تحت کانفرنس اور دیگر عالمی و علاقائی سطح پر قائم فورمز میں اہم ممالک کے درمیان ہونے والے تبادلہ خیال سے یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ افغان طالبان کو نسلی بنیادوں پر کثیر الجہتی حکومت، جس میں ان کی جماعت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ سرفہرست ہے۔ انسانی حقو ق بالخصوص خواتین کی تعلیم وغیرہ کے حوالے سے دیگر اقدامات پر افغان طالبان کو مغربی اقدار کے مطابق فیصلے کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے۔  افغانستان میں تحریک امارات اسلامی کی حکومت کے بجائے نسلی بنیادوں پر اجتماعی حکومت کا مطالبہ جس طرح کیا جارہا ہے اس پر افغان گروہ میں اتفاق رائے پیدا  ہونا ممکن نظر نہیں آرہاکیونکہ جن کے خلاف وہ 20  برس لڑے ہوں انہیں اب حکومت میں اپنے کندھوں کے ساتھ کندھا ملانے کا مطلب افغان طالبان کے نظریاتی حکومت کا خاتمہ قرار دیا جائے گا، جس سے افغان طالبان میں زبردست پھوٹ پیدا ہوسکتی ہے اور ملک بھر میں بدترین خانہ جنگی جگہ لے سکتی ہے۔ اس وقت افغان طالبان نے پورے افغانستان میں پرتشدد واقعات کا قریباََ خاتمہ کردیا ہے داعش کے تواتر سے جمعہ کی نماز کے بعد اہل تشیع کی مساجد میں خود کش حملے ہوئے ہیں لیکن مجموعی طور پر افغانستان میں امن قائم ہے۔ عالمی برداری اگر ان حالات میں افغان حکومت کے گرد مزید شکنجہ کستی ہے تو اس سے معاملات مزید الجھ جائیں گے اور افغانستان ایک بار پھر بے امنی کے راستے پر چل نکلے گا، جس کے بعد کھربوں ڈالرز کی امداد بھی دی جائے تو اس کا فائدہ امن پسند ممالک کو کم ازکم نہیں ہوگا۔

Facebook Comments HS