اب پپی جپھی نہیں چلے گی: مفتی پیمرا کا فتویٰ
گزشتہ دنوں پیمرا نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی روشنی میں (گلے لگنا, پیار کرنے کے مناظر بیڈ سین, یعنی لوی ڈوی کی تمام اقسام اس کے علاوہ بے ہودہ اور بولڈ ڈریسنگ) اب ٹی وی ڈراموں میں نہیں دکھائی جائیں گی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ ہمارے کلچر کی (ٹرو پکچر) صحیح عکاسی نہیں ہے , یہ سب کچھ (ان ڈیسینٹ) غیر مہذب ہے اور ان فحش مناظر کا ہمارے کلچر سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ بولڈ ڈریسنگ سے بے حیائی کو فروغ ملتا ہے اور ایکسٹرا میریٹل تعلقات کا رجحان پیدا ہونے لگتا ہے. اس کے پیچھے منطق یہ ہے کہ ان فحش مناظر کو دیکھ کر لوگوں کے ذہنوں میں گندے خیالات ابھرتے ہیں اور ہمارا کھوکھلا اخلاقی نظام تباہ ہوتا ہے, سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے کیا ایسا کرنے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو پائیں گے؟
کافی عرصے سے پاکستان میں اکثر پورن سائٹس بین ہیں مگر ہم پھر بھی نمبر ون پر جا رہے ہیں. وی پی این اور ٹورینٹ سائٹس کے دور میں بھلا ایسے کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ پہلے دور میں اکا دکا ٹی وی ہوتے تھے اور لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا مگر آج تو موبائل کی صورت میں ہر کسی کے پاس اپنی اپنی سکرین ہے اب آپ ہر ایک کے سر پر کیمرہ لگانے سے تو رہے بلکہ کیمرے سے تو پھر بھی لوگ ڈر جاتے ہیں مگر خدا سے بالکل نہیں, اگر ایسا ممکن ہوتا تو دعوت اسلامی کے امیر الیاس قادری کو قفل مدینہ اور مدنی تکیہ جیسی چیزیں مارکیٹ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی, پڑھنے والوں کے تجسس کو دور کرتا چلوں کہ قفل مدینہ چمڑے کی ایک عینک ہے جسے آنکھوں پر پہننے سے آپ کو نظر آنا بند ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح ایک مال بردار جانور جیسے گدھا اور گھوڑا ان کی آنکھوں پر بلنکر چڑھا دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ ادھر ادھر کے مناظر دیکھ کر بدھک نہ جائیں ,اس کو لگانے کے پیچھے منطق یہ ہے کہ جب آپ بس یا ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوں تو اس عینک کی بدولت آپ حسین و جمیل لڑکیوں کو دیکھنے سے باز رہیں گے اور آنکھوں کے گناہ سے محفوظ رہیں گے اب رہا مدنی تکیہ جسے آپ نے اس وقت استعمال کرنا ہے جب آپ کسی موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھں تو درمیان میں یہ تکیہ رکھ لیں تاکہ آپ کے عضائے تناسل موٹرسائیکل ڈرائیور کی پشت سے ٹچ نہ ہوں اور آپ گناہ بے لذت سے محفوظ رہ سکیں,
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنے سے کوئی بہتری نظر أی؟ ذہنوں اور نظروں پر تالے لگانے سے کوئی قوم اخلاقی طور پر اعلی نہیں بن سکتی, ایران اور سعودی عرب کو دیکھ لیجئے کیا وہاں پابندیوں سے کوئی بہتری آئی بلکہ جیسے ہی سعودی عرب نے جبری سپرنگ سے ہاتھ اٹھایا تو سینما گھروں کی رونق دیکھنے والی ہے اور اب تو سنا ہے کہ بار وغیرہ بھی کافی کھل چکے ہیں. پیمرا کے اس نوٹیفکیشن کے مطابق وہ تمام سرگرمیاں دکھانا منع ہوں گی جس سے بے راہ روی پھیلے اور معاشرتی اخلاقی قدریں پامال ہوں لیکن کیا ٹی وی سکرین سے یہ سب کچھ ہٹانے کے بعد پارسائی کو عروج حاصل ہوجائے گا ؟یہ سب باتیں دن میں خواب دیکھنے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی , جبلی خواہشات پر پہرے بٹھانے سے ہم ڈی سینٹ نہیں ہوجائیں گے بلکہ زندگی کی حقیقتوں پر بات کرکے ہی بہتری لائی جاسکتی ہے, اس طرح کی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو ذہنی طور پر خود کو اوپر نہیں اٹھا سکتے۔ ذہنی پستی کے ساتھ جب ہم زندگی سے جڑی ہوئی حقیقتوں کو دیکھیں گے تو دو گلے ملنے والے بندے ہمیں (گے) نظر آئیں گے, دو گلے ملنے والی لڑکیاں ہمیں (لیسبین) نظر آئیں گی , یونیورسٹی فیلوز میل اور فیمیل گلے ملتے ہوئے ہمیں دو جنسی بھوک مٹانے والے نظر آئیں گے, شوٹ اور بولڈ ڈریس پہنے لڑکیاں ہمیں سیکس ورکر نظر آئیں گی اور خوشبو لگا کر بازار میں شاپنگ کرنے والی خاتون ہمیں فاحشہ نظر آئے گی.
ٹی وی ڈراموں میں زندگی کی ان حقیقتوں کو ہی فلمایا جاتا ہے تاکہ ہر کوئی اپنی اپنی سطح پر ان حقائق پر غور کرے کیونکہ ہم بند معاشرے کی پیداوار ہیں اور تھوڑا سا بولڈ سین دیکھ کر انجوائے کرنے کے باوجود اخلاقی بھاشن دینے میں بھی کوئی ہمارا ثانی نہیں ہے, یاد کریں وہ وقت جب ہمارے علماء نے فتوی دیا تھا کہ کرکٹ میچ ٹی وی پر نہیں دکھانا چاہئے کیونکہ بولر گیند کو اپنے عضوے تناسل کے قریب سے رگڑتا ہے جس کی وجہ سے خواتین کے اندر بےراہ روی پھیلتی ہے تو غور کیجیے جناب یہ کس قسم کا رویہ ہے؟ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کے تعلیمی مراکز میں خواتین کو ایک ڈریس کوڈ دیا گیا تھا جس میں تلقین کی گئی تھی کہ خواتین تعلیمی اداروں میں جینز یا ٹائٹ ڈریس پہن کر نہ آئیں کیونکہ مرد بہک جاتے ہیں اور یہ بھی ہماری پست ذہنی ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین بولڈ ڈریسنگ ہمیں لبھانے کے لیے کرتی ہیں ان کے شارٹ ڈریس کا مطلب یہ نکالتے ہیں کہ وہ (دستیاب) ہیں انتہائی فضول اور احمقانہ سوچ کی عکاسی ہے, جس طرح مرد خوش لباسی سے معاشرے میں اچھا نظر آنا چاہتا ہے بالکل اسی طرح عورت بھی معاشرے میں اچھا نظر آنا چاہتی ہے .
ہماری پست ذہنی کا تو یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں مشہور جرنلسٹ عاصمہ شیرازی نے یہ ٹویٹ کر دیا کہ جادو ٹونے اور جنتر منتر سے حکومتیں نہیں چلائی جا سکتی۔ بس پھر کیا تھا ٹویٹر پر ٹرینڈ چلتا رہا کہ یہ حجاب میں لپٹی ہوئی طوائف ہے یہ ہمارے معاشرے کی ذہنیت ہے جو عورت کو طوائف سے زیادہ درجہ دینا پسند نہیں کرتے ایسی قوم پر کھوکھلی اخلاقیات کا انبار کیا اثر کرے گا جو برقع اور حجاب میں لپٹی خاتون کو بھی معاف نہیں کرتا , پیار محبت اور گلے ملنے کے سوفٹ مناظر سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ ان ڈراموں کے فارمیٹ سے آگہی پھیلتی ہے کہ ایکسٹرا میریٹل تعلقات کیوں بنتے ہیں؟ اس سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں سوال پیدا ہوتے ہیں, ڈرامے میں دکھائی جانے والی سرگرمیوں کا انسان کی نجی زندگی سے گہرا تعلق ہوتا ہے باقی کا ہوم ورک والدین کے لئے ہے کہ وہ کیسے اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کی کیسے تشفی کرتے ہیں.
یہ کہنا کہ ٹی وی ڈرامے ایک ذرق برق زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں جس کا حقیقی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا تو جناب مبالغہ آرائی تو شوبزنس کا حصہ ہوتی ہے یونانی تھیٹر کلچر کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے اسٹیج پر کردار نگاری کے دوران حد سے زیادہ غلو سے کام لیا جاتا تھا شیطان کو شیطان دکھانے اور اعلی کو حد درجہ تک اعلی دکھانے میں انتہائی مبالغہ آمیزی کی جاتی تھی. اسی مبالغہ آمیزی کے کرشموں کی بدولت مولوی کا منبر, شاعر کا کلام اور یوٹیوبر کی ویڈیوز میں رنگ آمیزی شامل ہو جاتی ہے, سارا چکر ہی سینٹر اوف اٹینشن کا ہوتا ہے شہرت کے پیڈسٹل تک پہنچنے کی ہر کسی کی تمنا ہوتی ہے عوامی داد حاصل کرنے کا نشہ ہی انسان کو یہ اللے تللے کرنے پر مجبور کرتا ہے, باقی گلے ملنا, سوفٹ قسم کے بیڈ سین اور پیار کے بول یہ سب زندگی کے حقیقی رنگ ہیں اس لیے ہمیں زندگی کا سامنا کرنے کا ہنر سیکھنا چاہیے


