غلام قومیں


منڈیاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ کسی زمانے میں غلاموں کی منڈیاں بہت مشہور ہوا کرتی تھیں۔ ان منڈیوں میں غلاموں کی پھر کئی قسمیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں ترک غلام عام طور پر سبقت لے جاتے تھے۔ ان منڈیوں سے نکل کر ان غلاموں نے وفاداری اور مصمم ارادوں سے نہ صرف اپنی گردن کی زنجیریں توڑیں بلکہ ان زنجیروں میں جکڑٰی ہوئی کئی اداس نسلوں کو بھی آزاد کرایا۔ جب ہم غلاموں کے لوح و قلم پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی ایسے روشن ستارے جگمگاتے نظر آتے ہیں جو شہنشاہوں کے لوح و قلم پر بھی نہیں دکھتے۔ ان میں سے ایک غلام تو لوح محفوظ پر بھی جگمگا رہا ہے۔

غلامی کے اس سفر میں اکثر اوقات قومیں بھی غلام ہو جاتی ہیں۔ اور ایسی قومیں ہزارہا نفوس پر مشتمل ہونے کے باوجود بھی مردہ ہوتی ہیں۔ اور اس قوم میں ایک بھی حارث رض یا ایبک نہیں ہوتا۔ لاکھوں کروڑوں افراد پر مشتمل یہ قوم صرف ایک غلام جیسا جذبہ تک نہیں رکھتی جو اپنی آزادی یا وفاداری کے لیے لڑتا ہے اور یہ وفاداری اسے آزادی کے ساتھ ساتھ تخت و تاج سے بھی نوازتی ہے۔ وفاداری کسی اعلٰی ظرف سے ہو تو کوئی بھی مقام حاصل کرنے میں کبھی پیچھے نہیں دیکھا گیا۔

تقریباً رات کے دو بج رہے تھے میں ریلوے اسٹیشن کے سامنے والے پارک میں فوارے کے ساتھ ہی فرش پر دراز تھا۔ آسمان میں خوبصورتی سے جڑے ستاروں کی آنکھ مچولی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک جہاز آتا اور فضا کو چیرتا ہوا ستاروں کے جھرمٹ سے گزرتا ہوا دور آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا تو میں کسی دوسرے کے آنے کے انتظار میں لگ جاتا۔ جوں جوں رات ڈھلتی جا رہی تھی ٹریفک کا زور کم پڑتا جا رہا تھا۔ اب ہوا کی گاڑی نے پھیرے لگانے شروع کر دیے تھے شاید کہ اب اس کی باری تھی۔ ہوا کی اس بھنبھناہٹ میں شیشے کی بوتلوں کے کھڑکنے کی آواز دور سے آتی اور قریب سے ہوتے ہوئے گزر جاتی۔ اور ایک ایسی ہی آواز قریب سے قریب تر ہوتی ہوئی میرے سر تک آ پہنچی۔

صاحب جی مالش کروا لیں۔ سر میں تیل ڈلوا لیں۔

میرا کچھ جواب نہ پا کریہ نوجوان میرے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ اور چند ہی لمحوں میں وہ بھی زمین دراز ہو گیا۔ شاید وہ مجھ سے بھی کہیں زیادہ تھک گیا تھا۔

میرا ذوق تجسس اس جوان سے ہم کلام ہوا۔
بھائی آپ کا نام۔ ؟
طارق! فوراً اس نے جواب تھوک ڈالا۔
کہاں سے ہیں آپ؟ میں پھر سے مخاطب ہوا۔
تحصیل علی پور سے۔ اس نے جواب دیا۔
آپ کو کتنا بچ جاتا ہے مالش سے؟ میں نے پوچھا۔
اللہ کا شکر ہے بس گزارہ ہو رہا ہے۔
آپ کی تعلیم کیا ہے؟
میٹرک سائنس۔ اس نے جواب دیا۔
تو آپ آگے نہیں پڑھے؟ میں نے پوچھا۔
نہیں۔
کیوں؟
گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ ہر پاکستانی لاچار نوجوان کی طرح ٹھنڈی آہ بھر کر اس نے جواب دیا۔
تو کیا آپ اپنے گھر کے حالات سنوارنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ میں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے پوچھا۔
نہیں۔
تو پھر کیا؟
ایک خوشی کے لیے۔ اس نے جواب دیا۔
مجھے مزید تجسس ہوا تو میں نے جھٹ سے پوچھا کون سی خوشی؟
شادی۔ اس نے جواب دیا

یہ سب شادی کے لیے کر رہے ہو؟ میں نے قدرے حیرت سے پوچھتے ہوئے مزید کہا آپ کو پتہ ہے اسلام نے شادی کے لئے کوئی رقم جوڑنے کی شرط نہیں رکھی تو پھر آپ شادی کے لیے کیوں پیسے جوڑ رہے ہیں اور کتنے جوڑ رہے ہیں؟

پانچ تولے سونا، ایک علیحدہ گھر اور دو لاکھ روپے نقد۔ اس نے جواب دیا
اتنی بڑی رقم؟ میری آہ تک نکل گئی اور میں ششدر رہ گیا۔

ہاں صاحب جی! میرا ایک بڑا بھائی بھی تھا جس کا نکاح ماموں کی بیٹی سے ہوا ہوا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے جب شادی اور رخصتی کی بات آئی تو ماموں نے ان سے بھی یہی شرط رکھی۔ تاکہ میری بیٹی دوسرے گھر جا کر آرام سکون سے رہے۔ ہاں صاحب جی یہ ماموں کا نہیں پورے معاشرے کا رواج ہے یہی ریت ہے جو کئی پشتوں سے چلی آ رہی ہے۔

میرے ماں باپ بھی اپنے بیٹے کی خوشی دیکھنا چاہتے تھے مگر افسوس ان کے ہاتھ بھی خالی تھے تو بھائی نے اپنی خوشی کے حصول کے لیے ڈرائیور کی جاب کی اور پانچ سال تک گاڑی چلاتا رہا اور آخرکار ایک ایکسیڈنٹ میں اپنی جان دے بیٹھے اتنی بڑی رقم جمع کرتے کرتے وہ موت کو گلے لگا بیٹھے۔ اور سونا ’پیسہ اور مکان کے حصول میں سرگرداں وہ موت کا شکار ہو گئے۔ ان کی منگیتر نے اپنے ہونے والے شوہر کی موت پر اور معاشرے کے ان ملعون رسم و رواج سے دلبرداشتہ ہو کر گھر کی چھت سے چھلانگ لگا لی اور دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئی۔

اب مجھے بھی رسم و رواج کے اسی دریا کو پار کرنا ہے جسے عبور کرتے کرتے میرے بھائی سمیت نہ جانے کتنے ڈوب گئے۔ میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ ڈرائیونگ کرتا تھا مگر صاحب جی میری بوڑھی ماں نے مجھے دودھ کی قسم دے کر ڈرائیونگ سے روک دیا۔ اب صاحب جی میں نے ایک جائز خواہش کی تکمیل اور اپنے ماں باپ کی وہ خوشی جو بھائی نہ دے سکا اور اپنا گھر بسانے کے لیے تیل اور بوتل کا سہارا لیا۔

مگر اس بار اس کی آواز بھرا گئی تھی۔ ہونٹ و زبان لرز رہے تھے۔ دم گھٹ سا گیا تھا۔

ہاں یقیناً یہ بھی غلام در غلام تھا ایک غلام قوم کا۔ جسے رسم و رواج اور کلچر کی ان دیکھی مگر آہنی زنجیروں نے جکڑ رکھا تھا۔ ہائے افسوس یہ لوگ مان جاتے۔ اس معاشرے کو کاش عقل آ جاتی کہ ہم نے ایک کو موت اور دوسرے کو معذوری بانٹ دی۔ اب اس کے بے رحم جبڑوں میں اک اور جوڑا ہے جس کی ابھی سے روح تک چھلنی ہے۔

افسوس یہ معاشرہ ازل سے ہی ظالم و بے رحم ٹھہرا۔ یہاں جہالت کثرت کا من و سلوی ہے۔ یہاں لوگ گماں پر یقین لٹاتے ہیں۔ پرچھائیوں میں کردار ڈھونڈتے ہیں۔ نائب خدا کا کردار نبھا نے والے بے حد بے حساب و بے انتہا وجود کو بے جا رسموں اور انجانے خوف میں مبتلا کر کے آفتاب کو ذرے میں بدل دیتے ہیں ٓ۔ فلک تک پھیلی سوچ کو ادنی سے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں۔ بہت سے شیر دل رواجوں کے اعتکاف کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بہت سے دیو قامت بھی بے وجود رہ جاتے ہیں۔ ان کے جذبات ’سوچ اور روح تک کو معاشرہ تقسیم کر لیتا ہے۔ صرف تھکی ہوئی بے وجود روح کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ اور نہ کچھ کر سکنے کا طعنہ انسان کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتا ہے۔

معاشرہ اور فیملی کی بے جا خواہشات اور روایات کا قرض اتارتے اتارتے انسان بے وجود سا رہ جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود بھی معاشرہ اس کو اپنے افسانے میں بھی جگہ نہیں دیتا۔ یوں کائنات کا سب سے خونخوار اور بے رحم و بے لگام درندہ یہ معاشرہ ہے جو آپ کی روح تک کو لہو لہان کر دیتا ہے۔

جب ایک قوم رسم و رواج کی بدبو دار چادر اوڑھ لیتی ہے تو وہ مردہ ہو جاتی ہے۔ اسے اس چادر کے پار کچھ نظر نہیں آتا وہ اندھی ہو جاتی ہے۔ اور رسم و رواجوں کی یہ چادر ان کے کان آنکھ اور دل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اور یوں یہ قوم اپنی ہدایت و خوشحالی اور طرز نو کی طرف لوٹ کر نہیں آتی۔

رسم و رواج کی چادر میں مدہوش قوم اک بے جان لاشہ ہوتا ہے اور یہ چادر ان کا کفن۔ رواجوں کی تکمیل کا سفر ذلالت ’گمراہی اور اذیت سے ہوتا ہوا معدومی پر منتج ہوتا ہے۔ پھر ان کا نام لیوا تک نہیں رہتا۔ اور یوں اس کا نام و نشاں تک نہیں رہتا کہ یہاں بھی زندگی کے اثار تھے۔

Facebook Comments HS