نواز شریف نے اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا


نواز شریف لندن میں بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ تھامے جب لندن سے ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا کاٹنے آئے تو انھوں نے ایک ہی جملہ کہا تھا کہ ”میں اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کرتا ہوں۔“ جانے وہ قبولیت کی گھڑی تھی یا نواز شریف کے دکھی دل کی آہ تھی، اس وقت سے آج تک اس حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے جو کہا، جو کیا، وہ انھیں تھوک کر چاٹنا پڑا۔ نواز شریف پر کون کون سے الزامات نہیں لگائے گئے ؛کرپشن، دہشت گردی، ملک دشمنی، کفر کے فتوے، اقرباء پروری، فوج کے خلاف اعلان جنگ، مہنگائی، معیشت کی تباہی۔

وہ سب آج اس حکومت کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ اس وقت نواز شریف پر ٹھٹھے لگائے گئے، ”گو نواز گو“ کی کمپین چلائی گئی۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس میں نہ اپوزیشن کا کوئی کردار ہے، نہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے یہ ممکن تھا، نہ ملک کے جغرافیائی حالات کو کوئی مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے، نہ عالمی طاقتیں اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ سب مکافات عمل ہے اور اس کا نزول کہیں اور سے ہو رہا ہے۔

ملکوں کی تاریخ میں ایسی سازشوں کی قلعی کھلنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم نے تین سال میں ہی کایا پلٹتے دیکھ لی۔ جس سرعت سے نواز شریف کو نا اہل کیا گیا تھا اسی سرعت سے اس حکومت اور اسٹیبلش منٹ پر تنقید ہو رہی ہے۔ جتنی پلاننگ سے نواز شریف کے خلاف سازش کی گئی تھی، جتنے انہماک سے یہ جمہوریت کش منصوبہ بنایا گیا تھا، کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ صرف تین سالوں میں سازشوں کو یہ قصر زمیں بوس ہو جائے گا۔

اللہ بڑا کارساز ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے اس حکومت اور اس کے لانے والوں کو نواز شریف کا صبر کھا گیا ہے۔ ان کو تین بار کے بے دخل وزیر اعظم کی آہ لگی ہے۔ ان کی ہزیمت خود ان کے اعمال کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ کوئی حکمت عملی اس برق رفتاری سے اس حکومت اور اسٹیبلش منٹ کی تنزل کا سبب نہیں ہو سکتی تھی، یہ فیصلے کسی اور عدالت میں ہو رہے ہیں۔ جہاں مظلوم کی داد رسی ہوتی اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا ملتی ہے، یہ انسانوں کے بس کی بات نہیں۔

کسی ایک شعبے کو اٹھا لیں، کسی ایک نکتے کو پکڑ لیں، بات اس حکومت کی تذلیل پر ختم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک لمحے میں پرانی وڈیوز، پرانے بیانات، پرانے عزائم سامنے آ جاتے ہیں۔ صورت حال اس قدر واضح ہو چکی ہے کہ اب اس حکومت کے پاس نہ منہ چھپانے کو جگہ ہے، نہ شرم سے ڈوب مرنے کو پانی میسر ہے۔ اب جو یہ حکومت چل رہی ہے اور اس کے لانے والے اب بھی کچھ اس کے پیچھے کھڑے ہیں اس کی وجہ نہ جمہوریت ہے، نہ حب الوطنی ہے، نہ کسی ادارے کی ساکھ ہے، نہ غیرت کا کوئی مقام ہے ؛ اب اس حکومت کے چلنے کی واحد وجہ ڈھٹائی ہے، بے شرمی ہے، بے حسی ہے۔

کہتے تھے، ”آئی ایم ایف سے قرض لینے سے بہتر ہے ہم خود کشی کر لیں“ آج دنیا دیکھ کر رہی ہے کہ ہم کشکول ہاتھ میں لیے در در گھوم رہے اور ہمارے کاسے میں صرف وطن کی عزت کی نیلامی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کہتے تھے، ”معیشت اچھی نہیں تو بری بھی نہیں“ آج معیشت کو تباہ کر کے، ہر شعبے کو فنا کر کے نہ کوئی سیمینار ہو رہا ہے، نہ کوئی ٹویٹ آ رہی ہے۔ کہتے تھے، ”اپنے لوگوں پر تشدد کی اجازت نہیں دیں گے“ آج صحافی اغوا ہو رہے ہیں، دھرنے والوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں، اپنے لوگوں کو ہی قتل کیا جار ہا ہے، ہنستے بستے شہروں میں خندقیں کھودی جا رہی ہیں لیکن نہ کوئی ٹویٹ آ رہی، نہ رینجرز نادیدہ حکم پر پیچھے ہٹنے سے انکار کر رہے ہیں۔

کہتے تھے، ”پٹرول کی قیمت بڑھانے والے حکمران کرپٹ ہوتے ہیں“ اب پٹرول کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ خود کشی کر رہے ہیں مگر حکمرانوں کی کرپشن والا نعرہ کوئی نہیں لگا رہا۔ کہتے تھے سبز پاسپورٹ کی اتنی عزت ہو گی کہ دنیا یہاں نوکریاں ڈھونڈنے آئے گی، اب سبز پاسپورٹ کی اتنی عزت ہے، بائیڈن فون نہیں کر رہا، مودی کال نہیں اٹھا رہا، پوری دنیا اس وزیر اعظم کو کٹھ پتلی کہہ رہی ہے۔ ایک وزیر اعظم کے ایک ٹویٹ کے جواب میں ”ریجیکٹڈ“ لکھنے والوں کو علم ہی ہو گا کہ ایک نا اہل شخص نے اس ملک کے ساتھ اس کے سب سے منظم ادارے کو بھی تباہ کر دیا۔

ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکیشن پر وہ کھلواڑ کھیلا گیا کہ ادارے میں دو واضح گروپ نظر آنے لگے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اب ریجکیٹڈ کا کوئی ٹویٹ نہیں آیا۔ کہتے تھے جب چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو پیسے حکمرانوں کی جیب میں جاتے ہیں، آج اس ملک میں صرف موت سستی رہ گئی ہے۔ کہتے تھے مجھے ایک دفعہ کسی نے کہا کہ استعفی دے دو تو میں چلا جاؤں گا، آج پورا ملک جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیتا ہے مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔

اور کہتے تھے، ”ہم ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، پچاس لاکھ گھر غریبوں میں تقسیم کریں گے“ آج کروڑوں لوگوں کو بے روزگار کر دیا اور غریبوں کی جھگیاں مسمار کر دیں مگر بنی گالہ کا محل ریگولرائزڈ ہو گیا ہے۔ کہتے تھے، ”ہم ایک پیج پر رہ کر اداروں کی عزت بڑھائیں گے“ آج ملک کا بچہ بچہ جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ پر پھبتیاں کس رہا ہے، عاصم باجوہ سے رسیدیں نکالنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ انھوں نے نواز شریف پر جوتا پھینکا، خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکی، احسن اقبال کو گولی ماری اور آج ان کے اپنے ایم این اے، ایم پی اے اپنے حلقوں میں اس خوف سے نہیں جاتے کہ لوگ انھیں پتھر ماریں گے۔

اور تو اور کہتے تھے کہ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہ کی جائے آج پولیس والے شہید ہو رہے ہیں، لبیک والے مارے جا رہیے ہیں، میڈیا پر مارشل لاء لگا ہوا ہے مگر کوئی شرم نہیں آ رہی۔ یہ تو چند مثالیں ہیں گزشتہ تین سال کی تاریخ ایسی ہزیمت سے بھری پڑی ہے۔ اب نہ حکومت کو غیرت آتی ہے، نہ لانے کو شرم آتی ہے۔ سب ایک ڈھٹائی سے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں، اس ملک کے عوام کی زبوں حالی پر قہقہے لگا رہے ہیں، غریبوں کی موت، بے روزگاروں کی حالت زار پر، ان کے افلاس پر تمسخر اڑا رہے ہیں لیکن ان تین سالوں میں اس ملک کے عوام کو معلوم ہو گیا ہے کہ کس طرح منتخب وزرائے اعظم کو نکالا جاتا ہے، کس طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس ملک کو برباد کیا جاتا ہے، کس طرح جمہوریت کو پامال کیا جاتا ہے، کس طرح میڈیا کو شکنجوں میں قید کیا جاتا ہے، یہ مکافات عمل نہیں تو اور کیا ہے، یہ اس حکومت پر اللہ کا عذاب نہیں تو اور کیا ہے۔

نواز شریف نے اچھا کیا کہ لندن میں بیمار بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ تھامے جب لندن سے ایک بے بنیاد مقدمے میں سزا کاٹنے آئے تو انھوں نے اپنا فیصلہ خدا کے سپرد کر دیا۔ انسانوں سے اس قدر جلد انصاف کو توقع نہیں کی جا سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 254 posts and counting.See all posts by ammar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments