نسل کشی کے موضوع پر اردو کا ایک کامیاب ناول: کھوئے ہوئے صفحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ڈاکٹر بلند اقبال کو ’جو ادیب بھی ہیں‘ طبیب بھی ہیں اور بہت سوں کے حبیب بھی ہیں ’اردو کا ایک کامیاب ناول لکھنے کی مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ڈیڑھ سال کی کرونا وبا کی پابندیوں اور جکڑ بندیوں کے بعد جب ڈاکٹر بلند اقبال سے مسی ساگا کے بوسٹن پیزا رسٹوڑانٹ میں ڈنر پر ملاقات ہوئی تو میں بہت خوش ہوا کہ چلو زندگی نے دوبارہ نارمل ادبی محفلوں کی طرف قدم بڑھانا شروع کیا ہے۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ اس ڈنر کے دوران ڈاکٹر بلند اقبال مجھے اپنے نئے ناول۔ کھوئے ہوئے صفحات۔ کا ایک ادبی تحفہ دیں گے۔ بلند اقبال کے ساتھ ’دانائی کے سفر‘ کے تخلیقی رشتے کے بعد اب ایک نیا ادبی رشتہ بھی استوار ہو گیا ہے اور وہ رشتہ یہ ہے کہ ہم دونوں کے ایک سانجھے پبلشر ہیں جن کا نام امجد سلیم ہے اور وہ سانجھ پبلشر کی روح رواں ہیں۔

ڈنر کے بعد میں گھر پہنچا تو میں نے اپنے تجسس کی تسکین کے لیے ناول کا ادبی ذائقہ چکھنے کے لیے اس کے چند صفحات پڑھنے شروع کیے لیکن میری توقعات کے خلاف ناول نے مجھے پکڑ لیا بلکہ سچ کہوں تو جکڑ لیا۔ میں رات بارہ بجے تک اسے پڑھتا رہا اور پھر عادت کے خلاف صبح چھ بجے کا الارم لگا کر اٹھ گیا تا کہ کلینک جانے سے پہلے اسے ختم کر سکوں۔ میری خوش بختی کہ ناول چونکہ صرف 160صفحے کا ہے۔ اس لیے میں نے چند گھنٹوں میں پڑھ لیا۔ میری نگاہ میں کسی بھی ناول کی کامیابی کی پہلی نشانی یہ ہے کہ اس میں ریڈیبلٹی readabilityہو اور وہ قاری کو شروع سے آخر تک پکڑے اور جکڑے رکھے۔

کامیاب ناول اور کہانی کی دوسری خوبی فرانز کافکا نے بیان کی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ کامیاب کہانی وہ ہے جو قاری کو مجبور کرے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے۔ مجھے ’کھوئے ہوئے صفحات‘ نے مجبور کیا کہ میں اسے دوبارہ پڑھوں۔ اس لیے اگلے دو دن میں نے کلینک میں اپنا لنچ بریکlunch break قربان کیا اور اس ناول کو دوبارہ پڑھا۔ یہ اس ناول کی دوسری خوبی ہے۔

اس ناول کی تیسری خوبی یہ ہے کہ اگرچہ بلند اقبال مرد لکھاری ہیں لیکن انہوں نے ایک ایسا ناول تخلیق کیا ہے جس کی پرٹیگونسٹprotagonist بھی عورت ہے اینٹیگونسٹ antagonistبھی عورت ہے اور ناول کے بہت سے اہم کردار leading charactersبھی عورتیں ہیں۔ مرد ہو کر عورتوں کے کرداروں کی نفسیات کو سمجھنا اور سمجھانا اور تخلیقی اور ادبی سطح پر بیان کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور بلند اقبال نے یہ تخلیقی کام اور ادبی چیلنج بڑی خوبصورت سے نبھایا ہے۔

اس ناول کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ اس کا موضوع ایک ایسا بھاری پتھر ہے جسے بہت سے لکھاری اٹھانے سے بہت کتراتے ہیں۔ اور یہ موضوع نسل کشی کا موضوع ہے۔

بلند اقبال نے ایک سنجیدہ موضوع پر سنجیدہ ناول لکھا ہے۔

انسانی نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناتے میں جانتا ہوں کہ انسان کرہ ارض کا وہ واحد جانور ہے جو سیریل کلرserial killer بھی ہے اور ماس مرڈرر mass murdererبھی۔ وہ رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب کو بنیاد بنا کر سینکڑوں ’ہزاروں‘ لاکھوں انسانوں کی نہ صرف جانیں لیتا ہے بلکہ اسے کروسیڈcrusade ’جہاد اور انقلاب کے سنہرے نام دے کر فخر بھی کرتا ہے۔ انسانی تاریخ خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ انسان جب اس بات پر ناز کرتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ وہ ہر دور میں ایسے نظریات وضع کرتا رہا ہے جن کی بنیاد پر وہ قتل و خون کو جائز قرار دیتا رہا ہے۔ چاہے وہ نظریہ۔ مذہب۔ کا ہو۔ نیشل ازم کا ہو۔ یا کمیونزم کا ہو۔ ان سب نظریات کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ان سب نظریات کے پیروکاروں نے سیاسی‘ مذہبی اور نظریاتی جنگیں لڑیں اور لاکھوں معصوموں کے خون بہائے۔

بلند اقبال نے بیسویں صدی کے ان معصوم انسانوں کے بارے میں ناول لکھا ہے جو مختلف جنگوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ بلند اقبال نے ان معصوم انسانوں کی کہانی لکھی ہے جن کا دن کا چین اور رات کی نیند جنگ کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے۔ ایسے انسانوں کا کیا قصور تھا؟ کیا یہی قصور تھا کہ وہ کسی ایسے رنگ ’نسل‘ مذہب اور زبان سے تعلق رکھتے تھے جس سے کسی اور رنگ ’نسل‘ مذہب اور زبان کے انسان نفرت کرتے تھے اور انہیں دکھ پہنچا کر سکھ حاصل کرتے تھے۔

بلند اقبال ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسان کو مذہب ’روایت‘ اور تہذیب نے انسانیت کی معراج تک پہنچا دیا ہے اور یا وہ تنزل کی اتنی گہرائیوں میں اتر چکا ہے جہاں اب اسے اپنے ظلم و تشدد و جارحیت کا احساس تک نہیں رہا۔ بقول اقبال

؎ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

بلند اقبال نے بیسویں صدی کی نسل کشی کے مظلوموں کی کہانی لکھی ہے۔ ان مظلوموں اور مجبوروں میں وہ مرد بھی شامل ہیں جو نازی جرمنی میں ہولوکاسٹ کا نشانہ بنے ’وہ بچے بھی شامل ہیں جو کشمیر میں خون میں لت پت ہوئے اور وہ عورتیں بھی شامل ہیں جن کی مشرقی پاکستان میں عصمت دری ہوئی۔

اگر کسی عورت کو دنیا کے کسی کونے میں کوئی فوجی ریپ کر دے اور وہ حاملہ ہو جائے اور اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہو۔ تو ایسی بچی کا مستقبل کیا ہوتا ہے؟ اور جو مرد ایسا بہیمانہ ظلم کرے اس کی زندگی اسے کیا نتائج دکھاتی ہے؟ سیاسی اور مذہبی دیوانگی کا نفسیاتی اور سماجی دیوانگی سے کیا جائز اور ناجائز رشتہ ہے؟ یہ سوال بہت مشکل ’پیچیدہ اور گنجلک سوال ہیں جن کا جواب تلاش کرنے کی کوشش میں بلند اقبال نے یہ ناول لکھا ہے۔

یہ ناول اردو کا ایک اہم ناول ہے۔ اگر آپ اتنا حوصلہ رکھتے ہیں کہ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے میں بلند اقبال کے ہمسفر بن جائیں تو یہ ناول ضرور پڑھیں۔

میں تو ناول کو دو بار پڑھ کر اور انسانیت کا تاریک رخ دیکھ کر بہت دکھی ہو گیا۔

میں بلند اقبال کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ادب کا اور انسانی نفسیات کا وہ بھاری پتھر اٹھا لیا جسے اٹھانے کی کسی اور اردو ادیب کو ہمت نہ ہوئی۔ میں نے بھی اس بھاری پتھر کو اٹھانے کی کئی بار کوشش کی لیکن ہر بار چوم کر اسے واپس رکھ دیا۔ میں یہ ناول پڑھ کر اس لیے بھی افسردہ ہو گیا کیونکہ میں ڈھاکہ کا وہ وار میوزیم war museumدیکھ چکا ہوں جس میں 1971 کے سانحہ کی تصاویر اور اخباروں کے تراشے آج بھی موجود ہیں۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ دردناک سانحہ ہے جس سے ہم سب آنکھیں چراتے ہیں۔ جہاں تک میری محدود معلومات کا تعلق ہے اس واقعہ پر بلند اقبال سے پہلے ایک صرف شاعر نے کھل کر قلم اٹھایا تھا۔ اس شاعر کا نام احمد فراز تھا اور ان کی نظم کا نام۔ پیشہ ور قاتلو۔ تھا۔ میں نے احمد فراز سے کینیڈا کے ایک مشاعرے میں وہ نظم سنی تھی۔ انہیں اس نظم پر بہت داد بھی ملی تھی۔ لیکن میں آج تک یہ راز نہ جان سکا کہ وہ ان کی کلیات میں کیوں شامل نہ ہو سکی۔

عین ممکن ہے وہ پاکستانی سیاست اور سنسر شپ کی نذر ہو گئی ہو۔ مجھے بلند اقبال کے ناول کے بارے میں بھی یہ خطرہ اور دھڑکا ہے کہ کہیں اس پر بھی کوئی سیاسی فتویٰ نہ لگ جائے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ بلند اقبال اب اس ادبی مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان میں جرات رندانہ پیدا ہو چکی ہے۔ اب وہ سچائی کی معرفت کے اس مقام پر ہیں جہاں وہ کہہ سکتے ہیں

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

اگر آپ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھ کر انسانیت پر فخر کرتے ہیں تو آپ یہ ناول نہ پڑھیں کیونکہ آپ بھی میری طرح بہت دکھی ہوں گے ۔ یہ ناول سیاسی ’سماجی‘ نفسیاتی اور نظریاتی نا بالغوں کے لیے نہیں لکھا گیا۔

میں ایک دفعہ پھر بلند اقبال کو ’کھوئے ہوئے صفحات‘ جمع کرنے اور لاہور کے سانجھ پبلشر امجد سلیم کو ان صفحات کو چھاپنے پر مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 498 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments