بچوں کا استحصال۔ عدالتی اور پولیس ریفارمز۔ یو ٹیوب


سر کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ کوفت ہوتی تھی۔ ہیئر ڈریسر کے پاس گیا۔ ”اکبر صاحب! ایک ماہ سے کہاں تھے آپ؟“ ۔ میرے بال کاٹتے ہوئے اس کا ریڈیو آن ہو گیا۔ ”فلانی میرے ساتھ جھوٹے عشق کا ڈرامہ کر کے میرے پیسے کھا گئی۔ فلانی نے میرے ساتھ بے وفائی کی۔ فلانی کو میں نے کہہ دیا تو نہ سہی ہزاروں اور سہی۔“ ۔ موصوف سالہا سال جس کے عشق میں مبتلا رہے، اس خاتون سے قد میں تقریباً دو فٹ چھوٹے ہیں۔ کہتے ہیں چھوٹے بڑے قد سے کیا ہوتا ہے؟ عشق تو عشق ہوتا ہے۔

مجھے اپنے بالوں کی فکر پڑ گئی۔ جہاں میرے بالوں کی نارمل کٹنگ کرنا ہوتی ہے، جذباتی گفتگو کی لہر میں انھیں پتہ نہیں چلتا اور مجھے ”فوجی“ بنا دیتے ہیں۔ پھر بعد میں کہتے ہیں۔ ”او، سر جی! دیکھو نا کتنا پیارا ہیئر اسٹائل بن گیا آپ کا؟“ ۔ میں نے اس کی توجہ عشقیہ داستانوں سے ہٹانے کے لیے کہا، ”یار تو یہ عشق معشوقی چھوڑ اور شادی کر لے۔“ ۔ فوراً مجھے احساس ہوا کہ کسی کو خواہ مخواہ شادی کا مشورہ دینا اس کی پرائیویسی میں دخل دینا اور اس کے بنیادی حق آزادی پر حملہ ہے۔

ویسے بھی جس تیزی سے جنوبی ایشیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، اس حساب سے دیکھا جائے تو حکومتوں کو مشورہ ہے کہ پارلیمنٹ سے بل پاس کروا کے قانون نافذ کر دیں کہ جو فرد کسی دوسرے کو شادی کا مشورہ دے گا تو اسے سو سال قید با مشقت اور جو کوئی اپنے دوست یا رشتہ دار کو شادی کرنے کے لیے مجبور کرے تو اسے دو سو سال قید بامشقت ہو گی۔ ویسے میرے پیارے وطن پاکستان میں تین کام لوگ مذہبی اور وطنی قومی فریضہ سمجھ کے کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہر ملنے والے سے پوچھنا، ”آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟ دوسرا،“ آپ کی شادی ہو گئی؟ ”۔ تیسرا یہ کہ اگر کسی کی شلوار کا ازار بند لٹک رہا ہو تو اسے کہنا،“ بھائی جان! اپنا ازار بند اوپر کرلو۔ ”۔ خیر۔

گھر آ کے گرم پانی سے غسل کیا۔ کسی کام سے باہر نکلا تو سامنے ایک جاننے والی خاتون آ رہی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی اس کا بھی ریڈیو آن ہو گیا۔ ”اکبر بیٹا! تمہیں تو پتہ ہے۔ میرا گھر والا نشہ کرتا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنی اولاد کو پال رہی ہوں۔ میری بہن کا شوہر بھی کوئی کام نہیں کرتا۔ وہ بھی دوسروں کے گھروں میں کام کر کے اپنے بچے پالتی ہے۔“ ۔ اس کے دکھڑے سن کے روانہ ہوا۔

ابھی سڑک پہ ہی تھا کہ کسی موٹر سائیکل کی بریک لگی۔ جاوید تھا۔ ”ارے سر جی! میں آپ کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔“ ۔ چائے والا ڈھابہ تھوڑا دور تھا۔ پاس پوٹاٹو فنگر چپس والا ٹھیلا کھڑا تھا۔ کالم نگار حسن نثار کا دعوٰی ہے کہ پاکستان میں فنگر فش کے نام سے جو چیز بک اور کھائی جا رہی ہے وہ دراصل چین سے درآمد کی جانے ولی سمندری چمگادڑیں ہیں۔ جاوید کو کہا، فنگر فش نہیں فنگر چپس کھاتے ہیں۔ چپس والے نے تین قسم کی چٹنیاں دیں۔ ایک ٹماٹو کیچپ، ایک ہری مرچ سے بنی ہوئی سبز رنگ کی اور ایک سفید رنگ کا مایونیز جو بڑا ذائقہ دار تھا۔ پوچھا، کیسے بناتے ہو؟ کہنے لگا، ”کوکنگ آئل میں انڈے پھینٹ لو۔ مایونیز بن جاتا ہے۔“

جاوید نے اپنے جاننے والی ایک فیملی کا دکھڑا سنایا۔ لاہور کی خاتون کی شادی اس کا باپ برادری سے باہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے بہاولپور میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں میں کر دی اور جہیز دینے کے ساتھ ساتھ بہاولپور میں پانچ مرلہ کا پلاٹ خرید کر کے بیٹی کے نام کر دیا اور وہاں مکان بھی بنا دیا۔ میاں بیوی میں لڑائی، مار کٹائی رہنے کے باوجود پاکستانی روایت کے مطابق بچے بھی پیدا ہوتے رہے۔ پھر ایک دن خاوند نے بیوی کو مار پیٹ کے گھر سے نکال دیا اور دوسری عورت کے ساتھ شادی کر کے اسے گھر لے آیا۔ خاتون نے عدالت میں کیس کر دیا کہ میرا ذاتی ملکیتی مکان مجھے واپس دلایا جائے۔ عدالت میں کیس کی سماعت کے لیے خاتون لاہور سے بہاول پور آتی ہے اور پھر واپس چلی جاتی ہے۔ کیس چلتا رہا۔ بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔

چلیں، تھوڑا فلیش بیک۔ اکبر شیخ اکبر کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ لوگ دیہاتوں سے شہروں کا رخ کر رہے ہیں یا پہلے سے شہروں میں رہ رہے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی رشتہ داروں اور برادری سے باہر نہ کرنے کی روایت پہ چلتے ہوئے اپنے کسی نشئی رشتہ دار کے ساتھ بھی کر دیتے ہیں۔ کچھ خواتین خود بھی ہیروئن یا آئس کا نشہ کرتی ہیں۔ اب ان سے جو بچے پیدا ہو رہے ہیں، وہ بچے خصوصاً بچیاں چھ سات سال کی عمر میں ہی لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے کرائے پہ دے دی جاتی ہیں جہاں وہ 24 گھنٹے اور سالہا سال رہتی ہیں۔ ان کے والدین ان کی پورے سال کی تنخواہ اکٹھی لے لیتے ہیں۔ یہ بچیاں بڑے خوفناک قسم کے ذہنی اور جسمانی مظالم کا شکار ہوتی ہیں۔ اکبر شیخ اکبر کی رائے ہے کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جنوبی ایشیا کی سارک تنظیم مشترکہ طور پہ یہ فیصلہ کرے کہ اگر کسی جوڑے کے ہاں ایک دو بچے پیدا ہوچکے ہیں اور جوڑا نشہ کا عادی پایا گیا ہے تو ایسے جوڑے کے ہاں مزید بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے نشہ کرنے والے ماں باپ دونوں ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک نشہ کرنے والا ہو، ان کی نس بندی کر دی جائے۔ مجھے اندازہ ہے کہ کچھ حلقوں کی جانب سے میری اس تجویز کے خلاف سخت ردعمل آئے گا۔ چلیں پھر وہ بتائیں کہ اس طرح کے والدین کے بچوں کو استحصال اور ظلم سے بچانے کے لیے ان کے پاس کیا لائحہ عمل یا راستہ ہے؟

اب آتے ہیں دوسرے مسئلہ کی طرف۔ مشورہ ہے کہ محکمہ مال نے مکانات اور دیگر جائیدادوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا ہے تو دیوانی کیسوں کی سماعت کرنے والے ہر جج کی اپنے کمپیوٹر سے اس ریکارڈ تک رسائی ہو۔ وہ اپنے کمپیوٹر سے ہی چیک کر لے کہ دیوانی کیس میں جائیداد کا اصل مالک کون ہے۔ اس سے پہلے بھی ریونیو ریکارڈ میں اس کا باپ یا ماں مالک تھے تو پھر جج کو لوگوں کی جائیدادوں پہ قبضہ کرنے والے مافیا کو اسٹے آرڈر دینے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص پولیس فورس بنائی جائے جو جج کے ماتحت ہو اور جائیداد کے اصل وارثوں کو قبضہ دلائے بجائے اس کے کہ اپنے حق میں فیصلہ آنے کے باوجود لوگ اپنی جائیداد کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے نئے سرے سے ایک اور پٹیشن عدالت میں دائر کرتے پھریں۔ اگر میری اس تجویز کو عملی جامہ پہنا دیا جائے تو دیوانی کیسوں کا فیصلہ کئی سالوں میں جا کر نہیں بس دو چار دن کے اندر بھی ہو سکتا ہے۔

ایک اور تجویز یہ بھی ہے کہ عدالتوں پہ مقدمات کی سماعت کا بوجھ کم کرنے کے لیے پولیس تاش کھیلنے والے مزدور پیشہ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے جرمانہ عائد کرے۔ میرے پاس اکثر خبریں آ رہی ہوتی ہیں، ”پولیس نے تاش کھیلتے چار جواری گرفتار کر کے نو سو روپے یا بارہ سو روپے یا معمولی رقم اور تاش کے پتے برآمد کر کے ایف آئی آر درج کر لی۔“ ۔ بہتر ہے حکومت معمولی رقم پہ تاش کھیلنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی پالیسی ختم کر کے جرمانہ کا قانون متعارف کرائے جیسے ٹریفک پولیس جرمانہ کرتی ہے۔ اس سے عدالتوں پہ بوجھ کم ہو گا اور پولیس افسران اور اہلکاروں کا وقت اور انرجی بھی اصل اور بڑے جرائم کے خاتمے میں خرچ ہو گی۔

یوٹیوب ویڈیوز سے پیسہ کمانے کے خواہشمند دوستوں کے لیے مشورہ ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ویڈیوز گوگل میں جلدی رینک ہو جائیں اور سرچ میں سامنے آ جائیں تو جہاں وہ ٹائٹل، ڈسکرپشن، ٹیگز وغیرہ میں کی ورڈز استعمال کریں گے وہی ورڈز ویڈیو میں دو چار مرتبہ اپنی زبان سے بھی بولیں گے، اس لیے کہ یو ٹیوب اور گوگل کا خود کار الگورتھم ویڈیو میں ہونے والی گفتگو کی آوازوں کو بھی سنتا اور اس حساب سے سرچ انجن میں رینکنگ دیتا ہے۔

Facebook Comments HS