گلگت بلتستان کا جشن آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی قیام پاکستان کو محض اڑھائی مہینے ہو چکے تھے۔ اکتوبر کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچا اور یہ یکم نومبر 6 1947 کی پر نور سحر تھی۔ دریں اثنا باد صبا آزادی کا پیام لے آئی اور گلگت بلتستان کی سرزمین میں بھی آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ یہ کرنل مرزا حسن خان، میجر بابر خان، بریگیڈئیر شاہ خان اور ان کے دیگر جاں نثار ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہے کہ انہوں نے جدید اسلحہ کی عدم دست یابی کے باوجود زور بازو سے ڈوگرہ راج کا خاتمہ کر کے اپنی جواں مردی کا لوہا منوایا۔

تاریخ کے اوراق گرداننے سے یہ حقیقت طشت از بام ہوتا ہے کہ محض 16 دنوں تک قائم رہنے والی گلگت بلتستان کی نومولود ریاست جب اپنی اختتام کو پہنچی تو نظریاتی یکسوئی کی بناء پر قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے خطوط لکھے گئے۔ قائد نے سردار عالم خان کو گلگت بلتستان کا انتظام سنبھالنے کے لیے فوراً روانہ کیا اور یوں گلگت بلتستان کا قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال خطہ پاکستانی پرچم کے سائے تلے آ گیا۔

یہاں کے سپوتوں نے پاکستان کی استحکام اور سلامتی کے لئے دفاعی، معاشی، تعلیمی غرض ہر میدان میں کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا۔ جب بھی دشمن نے وطن عزیز کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کی ’یہاں کے غیور عوام آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ لالک جان جیسے عظیم سپوتوں نے جان کی بازی لگا کر سچے محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا۔

مگر افسوس صد افسوس اتنی ساری الفتیں اور محبتیں ایک ایسی اسلامی ریاست کے لئے ہیں ’جس نے عالمی شیطانی طاقتوں کی خود ساختہ خدائی کے خوف سے باقاعدہ آئینی طور پر اب تک اسے تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ وفاق میں آنے والی حکومتوں نے یہاں کے عوام کی خلوص سے ناجائز فائدے اٹھاتے ہوئے کبھی عارضی صوبے کا نوٹیفکیشن تو کبھی مذہبی منافرت کو ہوا دے کر صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے اور آزادی کی تحریک چلانے والے حریت نواز قیادت کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے یا انہیں اعلیٰ عہدوں کے سبز باغ دکھا کر اس تحریک سے دور رکھا جاتا ہے۔

یہاں کے باسی چوہتر سالوں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق بھی سلف کیے گئے ہیں۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں اور الیکشن قریب آتے ہی وفاق سے مختلف سیاسی پرندے آ کر حقوق دلانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور الیکشن کے بعد ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے سر شام پرندے۔ یہاں کے باسی اس انتظار میں ہیں کہ کبھی باد شمال حقیقی آزادی کا پیام لے آئے ’مگر ان فضاوٴں میں صرف افسردگی اور محرومی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

راقم الحروف کی دانست میں ان تمام محرومیوں کے اسباب میں سے ایک اہم سبب لیڈر شپ کی فقدان ہے۔ قیادت ہمیشہ ان پڑھ ٹھگوں، ٹھیکیداروں اور کرپٹ عناصر کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ محرومیوں کی اذیت ناک کرب میں مبتلاء ہونے کے باوجود اس سال بھی بڑی دھوم سے جشن آزادی منانے رہے ہیں۔ میری ارباب اختیار سے التماس ہے کہ گلگت بلتستان کو بھی پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح تسلیم کیا جائے اور جی بی کے عوام کو بھی پاکستانیوں کے برابر حقوق دیے جائیں۔

اندھیروں میں ڈوبا ہمارا وطن ہے
امیدوں کو پھر سے جگاؤ تو مانیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments