ہر شعبہ زندگی میں اب مافیا موجود ہے


مافیا کی عام تعریف کے مطابق منظم جرائم پیشہ گروپ کو مافیا کہا جاتا ہے۔ کسی دور میں مافیا اٹلی کے صقلیہ کے مجرم عناصر کو کہا جاتا تھا۔ انہیں ”کوسا نوسترا“ بھی کہا جاتا تھا جو انیسویں صدی کے نصف آخر میں صقلیہ کے علاقے میں کھل کر اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ بعد از یہ اصطلاح عام ہو گئی اور پھر ہر اس طرح کے گروہ کو مافیا کہا جانے لگا جو منظم طریقے اور بھرپور ہوشیاری سے غیر قانونی کام کرتا ہو۔

مافیا کا لفظ آغاز میں منظم جرائم پیشہ گروہ کے لئے استعمال ہوتا تھا مگر پھر اس میں مزید جدت آئی اور پھر یہ اس گروہ کے لئے بھی استعمال ہونے لگا جو منظم طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقے سے پیسے کماتے ہیں۔ پہلے پہل تو منشیات فروش گروہ یا غیر قانونی کام کرنے والوں کے لئے مافیا کا لفظ بولا جاتا تھا مگر اب مافیا اس گروہ کو بھی کہا جاتا ہے جو غیر اخلاقی طریقے سے یا بلیک میلنگ کر کے لوگوں سے پیسے بٹورتا ہو۔

پاکستان میں طرح طرح کے بے شمار ایسے کام یا شعبوں میں مافیا کا وجود ہے جو قانونی طور پر تو قابل گرفت نہیں ہوتے مگر غیر اخلاقی طریقے سے وہ مافیا کروڑوں روپے بنا لیتے ہیں۔ بلکہ کچھ مافیا تو ایسی ہیں جو اپنے مقدس پیشوں کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور زیادہ پیسے کمانے کی لالچ میں انسانی خوف اور مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اس کی سب بڑی مثال ڈاکٹر مافیا ہے۔ ڈاکٹر یعنی ایک مقدس پیشہ لیکن اس کا پاس نہیں رکھا جاتا۔ اس مافیا میں سب ڈاکٹر نہیں آتے بلکہ بڑی تعداد اس کمرشل ازم کے دور میں بھی اپنے پیشے سے وفا کرر ہے ہیں۔

ڈاکٹرز یعنی مسیحا انسان کے خوف سے کھیلتے ہیں۔ اس مافیا کی بیک ڈور معاملات لیبارٹری سے طے ہوتے ہیں، جہاں مہنگے مہنگے ٹیسٹ ہوتے ہیں اور باقاعدہ ڈاکٹرز کا کمیشن سیٹ ہوتا ہے۔ اس طرح ادویات کی کمپنیوں سے بھی ان کا کمیشن سیٹ ہوتا ہے اور یہ دوائیاں بہانے بہانے سے ریفر کرتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ مریض اور اس کے عزیز حساس موقع پر ڈاکٹر کی ہر بات پر یقین کرتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹرز مریض کو کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود اس کو خوف دلا کر، بیمار بنا کر اس سے پیسے لوٹتے ہیں۔

مافیا برادری سے جڑا ایک سلسلہ ایمبولینس ڈرائیور کا بھی ہے۔ ایمبولینس ڈرائیور کے سپروائزر کا پرائیویٹ اسپتال سے معاملہ سیٹ ہوتا ہے۔ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے والوں کو قریب کے اسپتال کے بجائے اپنے مطلوبہ اسپتال لے جایا جاتا ہے تاکہ اسپتال سے سیٹ ہوا کمیشن مل سکیں اب چاہے اس اسپتال کا ٹریٹمنٹ جتنا بھی خراب ہو۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض کے اہلخانہ کسی دوسرے اسپتال لے جانے کا بولے تو ایمبولینس ڈرائیوران کو بہلا پھسلا کر، اس اسپتال کے خلاف خوف دلا کر اپنے کمیشن والے اسپتال میں لے جاتے ہیں۔

اسی طرح کے اور بھی بے شمار مافیاز ہیں جو آپ کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیسے کورونا کے ابتدائی دور میں ماسک بلیک میں فروخت ہوتا تھا۔ 100 والے سینی ٹائزر 300، 400 روپے کا بیچا گیا۔ آکسیجن سلینڈر کے نام پر دھندا کیا گیا۔ لوگ جب آکسیجن کی تلاش میں مارے مارے پھررہے تھے تو ایک آکسیجن سلینڈر 30 ہزار، 0 4 ہزار کا بیچا گیا۔ اس طرح کورونا کے ابتدائی دور میں اس مافیا نے انسانیت کی تذلیل کی، خوف کو بیچا اور کروڑوں روپے کمائیں۔

بہت سے پیشے ہیں جو مقدس ہیں مگر اب اس سے جڑے لوگوں نے اس کو بزنس بنالیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں سینکڑوں کے قریب مافیاز ہیں جو غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقے سے پیسے کما رہی ہیں۔ جیسے چینی مافیا، گندم مافیا، بجلی مافیا، دکاندار مافیا، مرغی مافیا، لینڈ مافیا، چائنہ کٹنگ مافیا، ڈیری فام مافیا، پارکنگ مافیا الغرض ہر شعبے میں مافیا کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور یہ غیر قانونی طریقے سے کروڑوں، اربوں روپے کماتے ہیں مگر ان مافیا سے جڑے لوگوں کو کوئی سمجھائے کہ آپ جتنے پیسے بھی کما لو اگر رات کو سکون سے سو نہیں سکتے تو فائدہ کیا ایسی دولت کا؟

Facebook Comments HS