لکی پلاسٹک اسٹور
ایمپریس پلاسٹک مارکیٹ شہر کی سب سے بڑی پلاسٹک مارکیٹ تھی۔ عارف نے حال ہی میں لکی پلاسٹک اسٹور کے نام سے اپنی دکان کا آغاز کیا تھا۔ بیرون ملک چند سال گزارنے کے بعد جمع شدہ سرمایہ سے اس نے اپنے اسٹور کا آغاز کیا۔ پردیس میں اسے اپنے بیٹے اور بیٹی کی بہت یاد آتی تھی۔ ملکی حالات خاص طور پر چھوٹے بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی اور قتل کی دل دہلا دینے والے واقعات عارف کو پریشان کیے رکھتے تھے۔ وہ اس چیز کا قائل تھا کہ مشکلات اور پریشانیاں کبھی پوچھ کر نہیں آتیں۔ وہ الہٰی فہم اور حکمت کو استعمال کر کے متوقع خطرات کے آگے وقت سے پہلے بند باندھنا چاہتا تھا۔ ناکہ جب سر سے پانی گزر جائے تو پھر پچھتانا اور سوچنا کہ اب پچھتانا کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔
عارف اپنے کاروباری فیصلوں میں بھی اپنی بیوی سائرہ سے ضرور اصلاح مشورہ کرتا تھا۔ بیرون ملک قیام کے دوران سائرہ نے کمال عقلمندی سے اپنے شوہر نامدار کی خون پسینہ کی کمائی کو انتہائی احتیاط اور قناعت پسندی کے ساتھ جوڑ کر رکھا تھا۔ ”۔ نیکو کار بیوی کس کو ملتی ہے؟ کیونکہ اس کی قدر مرجان سے بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کے شوہر کے دل کو اس پر اعتماد ہے۔ اور اسے منافع کی کمی نہ ہوگی۔ اس کا شوہر اس کی تعریف کرتا ہے۔“ اسی لیے عارف اپنی بیوی کی انہی عادات و صفات کی وجہ سے اس کی عزت اور قدر کرتا تھا۔
دیار غیر میں قیام کے دوران عارف جب اپنے کام سے تھکا ہارا آتا تو اپنے بچوں اور بیوی سے فون پہ بات کر کے تازہ دم ہوجاتا۔ بچوں کو بھی اپنے باپ سے بات کرنے کا انتظار رہتا۔ ایک دن عارف نے اپنے بیوی سے کہا، ”سائرہ! میں جلد ملک واپس آ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔“ سائرہ نے پوچھا، ”کیوں؟“ عارف نے اسے بتایا، ”میں کافی دنوں سے رات کو سوتے سوتے جاگ جاتا ہوں اور پھر فجر تک سو نہیں پاتا۔“ سائرہ کے لیے یہ ایک پریشان کن بات تھی۔
اس کے استفسار پہ عارف نے اسے بتایا کہ، ”مجھے چند دنوں سے اپنے بچوں کے حوالے سے عجیب اور ڈراؤنے خوابوں نے پریشان کر رکھا ہے۔“ اور پھر اس نے بتایا کہ ایک خواب میں اس نے دیکھا اس بیٹا بہادر اور بیٹی مہوش ایک نہر میں نہا رہے ہیں۔ وہ اس پانی میں گردن گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس کے بلانے پر بھی بچے ضد کرتے ہیں کہ وہ تھوڑی دیر اور نہانا چاہتے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد اس پانی میں ایک بڑا بھنور بن جاتا ہے۔ سارا پانی اس بھنور میں جانے لگتا ہے۔ خواب میں اس منظر کو دیکھ کروہ فوراً جاگ گیا۔ وہ اس خواب سے انتہائی خوفزدہ تھا کہ پھر صبح تک اسے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
ایک دن پھر ایسے ہی پریشان کن خواب سے وہ دوچار تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ بہادر اور مہوش اپنے اسکول یونیفارم میں ہاتھ تھامے ایک سڑک پر چل رہے ہیں کہ اچانک کہیں سے کالی بھینسیں نمودار ہوتی ہیں اور اس کے بچوں کی طرف بھاگنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کے لیے یہ خواب بھی کوئی خوش گوار کیفیت کا حامل نہ تھا۔ عارف کی یہ نفسیاتی حالت اس کے ذہن میں جنم لینے والے وسوسوں اور خدشات کی وجہ سے تھی۔ ان تمام خوابوں اور حالات کا ذکر اس نے اپنی بیوی سے کیا۔
اپنی بے چینی اور بے قراری، اپنے بچوں کے بارے عدم تحفظ کے احساس سے اپنے فیصلہ سے اسے مطلع کیا۔ وہ خوابوں میں ان پیغامات کو کسی متوقع مشکل کے بارے الہٰی آگاہی سے تعبیر کرتا تھا۔ سائرہ ایک سمجھدار خاتون تھی۔ اس نے عارف کو تسلی دی اور دیار غیر کو خیر باد کہنے کے فیصلے کو رضائے خداوندی کے طور پر تسلیم کرنے پر زور دیا۔ خیر عارف اپنے لاشعوری محرکات کے باعث اپنے ملک واپس آ کر اپنے خاندان کو بخیریت پاکر مطمئن اور نہایت خوش تھا۔ وہ اپنے رب کا بھی تہہ دل سے شکر گزار تھا۔ اس کے بچے بھی اپنے باپ کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔
لکی پلاسٹک اسٹور کا کام ٹھیک چل نکلا تھا۔ چھ ماہ کے اندر اندر عارف کی اس اسٹور میں سرمایہ کاری واپس مل گئی تھی۔ اور اب اس کے بعد منافع ہی منافع تھا۔ عارف کا گھر تو شہر کی پرانی آبادی میں تھا لیکن ایک عرصہ سے اس علاقہ سے متصل خالی رقبہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئی کالونی میں تبدیل ہو رہا تھا۔ عارف نے کاروباری دور اندیشی کے تحت اپنے ہول سیل لکی پلاسٹک اسٹور کو اپنے گھر کے قریب ہی منتقل کرنے کا سوچا۔
اس طرح آبادکاروں کے لیے پلاسٹک کے سامان کے حصول میں آسانی ہوجاتی اور عارف بھی اپنے گھر کے قریب آ جاتا۔ شہر میں بڑھتی وارداتوں کی وجہ سے رات برات گھر کی طرف آتے اسٹریٹ کرائم کی واردات کا ڈر رہتا۔ اگرچہ شہر کے حالات قدرے بہتر تھے۔ لیکن سورج ڈھلتے ہی ایسی وارداتوں کا خطرہ بڑھ جاتا تھا۔ شہری انتظامیہ کے تحت پولیس اور رینجرز پارٹیاں تو شہر میں پٹرولنگ پر رہتی تھیں لیکن جرائم پیشہ افراد کو جب موقع ملتا وہ اپنا کام کر جاتے۔
خاص طور پر عارف کی طرح مزدور پیشہ افراد کئی دفعہ اپنی حلال محنت کی کمائی سے محروم ہو چکے تھے۔ دو ایک دفعہ تو وارداتیے عوام کے ہتھے چڑھ گئے تو لوگوں نے ان کو مار مار کے وہ حشر کیا کہ ان کی نسلیں بھی آگے کو اس غیر قانونی و غیر اخلاقی کام سے توبہ کر لیتیں۔ یہ تو اچھا تھا کہ شدید عوامی رد عمل کے باعث کوئی مجرم موقع واردات پر ہلاک نہیں ہوا تھا۔ بروقت پولیس اور رینجرز کے پہنچ جانے سے مجرموں کی جان بچ گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قانونی کارروائی کے لیے انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
عارف ابھی لکی پلاسٹک اسٹور منتقلی کا سوچ ہی رہا تھا۔ وہ کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ رہا تھا کہ علاقہ میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ اس کے گھر سے چار گھر چھوڑ کر ایک خاندان سے ایک کمسن بچی لا پتہ ہو گئی۔ ایک عرصہ سے شہر میں بلکہ ملک بھر سے کمسن بچوں کی گمشدگی، ان سے زیادتی اور قتل کی خبریں تواتر سے آتی رہی تھیں۔ انہی خبروں کے پیش نظر عارف نے بھی وطن واپسی کا فیصلہ کیا تھا۔
عارف نے اپنے علاقے میں اسٹور کے لئے جگہ کے حصول کی تگ و دو اور تیز کردی تھی۔ گمشدہ بچی کو آج تین دن ہونے کو تھے لیکن ابھی تک اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اغواء کنندگان ہی جانتے تھے کہ بچی کس حال میں ہے۔ پولیس نے علاقے میں متاثرہ خاندان کے گھر اور آس پاس کے علاقوں میں نسب سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج کی مدد سے بچی کی گمشدگی کا سراغ لگانے کی کوشش کی تھی لیکن ابھی تک تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تھیں۔ متاثرہ والدین صدمے سے بے حال تھے۔ علاقے میں بچی کی گمشدگی کے بعد تمام لوگ اپنے اپنے بچوں کے سلسلے میں اور بھی احتیاط کرنے لگے تھے۔ عارف اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لئے خود جا تا تھا۔ دوپہر میں اپنی بیوی کو پابند کر رکھا تھا کہ چند قدم پہ واقع اسکول سے بچوں کو لے۔
آخر کار عارف کو اسٹور کے لیے گھر سے تھوڑے فاصلے پر ایک مناسب جگہ مل گئی۔ دو دن کے اندر اندر اس نے پلاسٹک اور تعمیراتی سامان اپنے اسٹور میں ڈال لیا تھا۔ اس بروقت الہٰی انتظام کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانے کے نفل پڑھتا تھا۔ ”۔ واہ! خدا کی دولت اور حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے! اس کے فیصلے کس قدر ادراک سے پرے ہیں اور اس کی راہیں کیا ہی بے نشان ہیں۔“
گمشدگی کے چھٹے روز بچی کی بازیابی کے لئے اغواء کاروں کا فون موصول ہوا۔ انہوں نے بچی کی واپسی کے لئے 50 لاکھ روپے کے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اگرچہ اس جدید دور میں کسی فون کال کی مدد سے نمبر کا پتہ کرنا اور مجرموں تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ لیکن بچی کو اغواء کرنے والوں کی فون کال افغانستان کے ایک نمبر سے موصول ہوئی تھی۔ اور کسی بھی تاخیر اور چالاکی کے نتیجے میں بچی کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ اس ضمن میں لوکل پولیس کے لئے یہ ایک مشکل کیس ثابت ہو رہا تھا۔ عارف اس تمام صورت حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے پاس موجود ہے۔
عارف کو اپنے علاقے میں اسٹور منتقل کیے ابھی ہفتہ بھر ہوا ہو گا کہ ایک صبح تقریباً تمام نیوز چینل پر یہ خبر چل رہی تھی کہ شہر کی مین ایمپریس پلاسٹک مارکیٹ میں شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ نے تباہی مچا رکھی ہے۔ درجن بھر فائر بریگیڈ گاڑیاں اس بپھری ہوئی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ آگ بجھائی جا سکتی پلاسٹک مارکیٹ میں ناقابل تلافی مالی نقصان ہو چکا تھا۔ دیکھا جاتا تو چھوٹے بڑے تاجروں کا سب کچھ جل کر خاک ستر ہو چکا تھا۔
میڈیا رپورٹ میں دیکھا جا سکتا تھا کہ فائر بریگیڈ کے عملے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے متاثرہ دکانداروں کی ادھرادھر بھاگ دوڑ اور چیخ و پکار بھی سنی اور دیکھی جا سکتی تھی۔ عارف اور اس کی بیوی اس خبر کو دیکھ کر تمام نقصان پر افسوس کر رہے تھے۔ وہ دونوں شکر گزار اس لئے تھے کہ عارف اس مارکیٹ میں وقوع پذیر ہونے والے حادثہ سے قبل ہی اپنا کاروبار محفوظ جگہ منتقل کر چکا تھا۔ عارف کے لئے یہ ایک معجزہ سے کم نہیں تھا کہ وہ ایک بڑے نقصان سے بچ گیا تھا۔
وہ ان باتوں پر غور کرتا اور شکر ادا کرتا تھا کہ کس طرح الہٰی انتظام کے تحت اس کے ترقی اور بحالی کے راستے کشادہ اور ہموار ہوتے گئے تھے اور تمام رکاوٹیں اور خطرات بھی ہٹتے گئے تھے۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہ ڈروں گا کیونکہ تو میرے ساتھ ہے ”۔ تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھ تسلی ہے۔ تونے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔“ عارف کا لکی پلاسٹک اسٹور واقعی اس کے لئے لکی ثابت ہوا تھا۔


