و ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائداعظم محمد علی جناح تقریباً 1920 کے آخر تک انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ رہے۔ یعنی وہ جوانی اور اس وقت جب انکی وکالت چرچے چین و ما چین پھیلے ہوئے تھے وہ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ تھے، جو دعویٰ کرتی تھی اور اب بھی دعویٰ کرتی ہے کہ مسلم اور ہندو کی نمایندہ جماعت ہے۔ قائد اعظم اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، ان کا ماننا تھا کہ جس طرح 1600ء (کلونیل پیریڈ) میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان میں تجارتی مقاصد کو لے کر قدم جمانے سے پہلے تک مسلمان اور ہندو، متحدہ ہندوستان میں رہتے تھے اسی طرح رہیں۔ قائد اعظم کانگریس کے اہم سیاسی ورکر تھے۔
سنہ 1906ء میں نواب محسن الملک، نواب وقار الملک نواب سلیم اور دیگر زعما  نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔  قائداعظم نے 1913 ء میں مسلم لیگ کو جائن کیا۔ اس سے پہلے آپ مسلم لیگ کے بیانیے کے سخت مخالف تھے۔ ایسا کیوں تھا؟ اس پر تحقیقات ہوچکی ہیں۔ آپ سرچ کر لیں۔
16 یا 15 اگست 1946ء کو قائداعظم نے ڈائریکٹ ایکشن ڈے اناؤنس کیا۔ اور ہندوستان میں ایسی قتل و غارت شروع ہوئی عالم ارواح میں بھی روحیں کانپ گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 5000 سے زیادہ ہندو مسلم جان سے چلے گئے۔ کلکتہ کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ تاریخ انسانی میں ایسا الم ناک منظر کہ چیل اور کوے انسانوں کو کھا رہے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ کیا یہ ہونا تھا؟ کون تھا اس کی وجہ؟ کیا قائداعظم کی حکمت عملی فیل ہوگئی؟
کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال بانیِ  نظریہ پاکستان ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے تصور دیا کہ پاکستان کو بننا چاہیے۔ حالانکہ خطبہ الہ آباد 1930ء میں ایسا کوئی بھی تصور نہیں دیا گیا۔ علامہ اقبال نے خود لکھا کہ میں پاکستان نامی کسی بھی سکیم کا حامی نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر بڑش راج کے اندر یا برٹش راج باہر ایک مسلم صوبہ ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ علامہ اقبال نے کبھی پاکستان کا خواب نہیں دیکھا۔
انگریزوں سے اپنا ملک نہیں سنبھالا جا رہا تھا، انھوں نے جاتے جاتے ایک سکیم بنائی کہ ہندو مسلم کو آپس میں لڑا دیا جائے اور علیحدہ کر دیا جائے تاکہ کبھی بھی یہ دوبارہ اکنامکلی سٹرانگ نہ ہو سکیں۔ اور ہم ایک مطلق العنان سٹیٹ بنانے میں کامیاب رہیں۔ اور ویسے ہی ہوا، جاتے جاتے لارڈ مونٹ نے تقسیم کا تنازعہ (کشمیر اور اثاثوں اور کمپنیوں کی تقسیم) اسی لیے رہنے دیا کہ یہ ہمیشہ لڑتے رہیں۔ آج بھی دونوں ملک میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ ہے۔
انگریز نے کبھی اردو ہندی تنازعہ  پر لڑایا، کبھی مسجد و مندر پہ لڑایا، کبھی ذات پات پہ لڑایا۔
 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کا غلبہ ختم ہو گیا اور یہاں سے برٹش راج شروع ہوتا ہے۔
1857ء کی جنگِ آزادی کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے یہ جنگ صرف مسلمان نہیں لڑے بلکہ ہندو، سکھ اور مسلمان متحد ہو کر لڑے ہیں۔ یہاں تک ان سب میں بھائی چارہ رہ ہے۔ یہ کہنا بالکل تاریخ اور حقائق کے خلاف ہے کہ مسلمان اور ہندؤں کے اختلاف کی وجہ سے پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔
پاکستان میں 90 کی دہائی میں شیعہ سنی فساد بھی تو ہوئے ہیں، ہزاروں لوگ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گئے آج تک کسی کو کیوں خیال نہیں آیا کہ علیحدہ ملک بنانا تو کجا یہ کردیں کہ علیحدہ صوبہ بنا دیں۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرے گا چکیونکہ یہ مسائل حل نہیں باہمی اتحاد و یگانگت کا ہمیشہ سے درس دیا جاتا ہے، اور ہم رہ رہے ہیں۔ سیم اسی طرح سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بھی جھگڑے ہوا کرتے تھے لیکن وہ کسی بڑی قتل و غارت کا سبب نہیں بنے۔ مسلمان اور ہندؤ 800 سے زیادہ سال اکٹھے رہیں، اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔
متحدہ ہندوستان کو گورے گولڈن سپیرو یعنی سونے کی چڑیا کہتے تھے۔ ہندوستان نے معاشی طور پر پوری دنیا پر راج کیا ہے۔ گلوبل ورلڈ جی ڈی پی میں سب سے زیادہ پرسنٹیج متحدہ ہندوستان کی ہوتی تھی، اور یہ گورے جو آج سپر پاور ہیں، یہ تجارت کی غرض سے یہاں آئے یعنی ان کے پاس اپنے ملک میں انتے وسائل نہیں تھی، یا یہ اکنامکلی اتنے ویک ہو چکے تھے کہ یہ وہاں سروائیو نہیں کر سکتے تھے۔ تو انہوں نے یہاں کا رخ کیا۔
اب جو میں نے کہا کہ یہ ممالک مل جانے چاہیں! تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ناممکن عمل ہے ایسا کبھی ہو نہیں سکتا۔ لیکن اگر ایسا ممکن ہوتا یا متحدہ ہندوستان ہوتا تو آج سپر پاور وہی ہوتا۔ اور جس طرح ہم منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنا، پنٹ پہننا، کلین شیو کروانا مہذب ہونا سمجھتے  ہیں۔ (یعنی جسے انگریزی کے چار لفظ آتے ہوں گے ہم سمجھیں گے کہ وہ بڑا نالج والا بندہ ہے۔) اسی طرح آج انگریز اردو بولنے، شلوار قمیض پہننے اور داڑھی رکھنے کو مہذب سمجھتے۔ جبکہ اب داڑھی اور شلوار قمیض دہشت گردی کی علامت بن چکی ہے۔ اب ہم انٹرنیشنل انٹرسٹ کے لیے اس ملک کو سیکولر بنانا چاہ رہے ہیں جو بنا بھی خالص اسلام کا نام لے کر۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ!  لیکن اب تو ایسا بالکل نہیں ………. ریاست کے دعوے دار کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کو صرف ذاتی مذہب تک محدود رکھیں، ریاست کے تو بالکل قریب نہ آنے دیا جائے۔ انٹرنیشل لیول پر پاکستان اسلامی جمہوریہ کی بجائے سیکولر جمہوریت کے طور پر آئے۔ اب بندہ پوچھے  بھائی جب ریاست کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنائی ہے تو اب ریاست کا دستور بھی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہو، لیکن ایسا ہو تو پھر فرانس کے ساتھ تمام تعلقات ختم کرنے پڑتے ہیں۔ اور اگر فرانس کے ساتھ کٹ گئی تو مغربی دنیا گئی اور اگر مغربی ممالک گئے تو پاکستان سرواؤ نہیں کر پاگئے یعنی پاکستان ختم۔۔۔۔۔کیا عجیب سسٹم ہے۔ ہماری سمجھ سے تو بالا تر ہے۔ یہ ہے ہماری اصلیت اور یہی ہے حقیقت! اگر آج ہم وہی سونے کی چڑیا ہوتے تو شاید فرانس دنیا کے نقشے پر انمٹ عبرت کے نقوش چھوڑ گیا ہوتا اور اگر فرانس ہوتا تو  گستاخی کا مرتکب نہ ٹھہرتا۔ باتیں زیادہ ہوگئیں ہیں۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمان
اور
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہُوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے
اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے خوب لکھا۔ اب تو ہم بڑی مشکل سے جی رہے ہیں لیکن افلاس اور بولتی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان ناموس اور دین حق کی سربلندی کے لیے قیصر و کسری سے بھی ٹکرا جاتے تھے۔ دشت تو دشت، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے…بحرظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے۔
اور ہندوستان تو انگریزوں نے خود چھوڑ دیا وہ اگر خود چاہتے تو یہاں ہمیشہ رہ سکتے تھے لیکن انھوں نے تمام توجہ اپنی ریاست پر مرکوز کرنے کا سوچا اور جاتے جاتے ہمارا کباڑا کر گئے۔ آج تک ہمارے اوپر کلونائیزیشن کے اثرات ویسے کے ویسے ہی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments