دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا


پاکستان کے اندرونی حالات کی بہتری کے لیے تقریروں تجزیوں کو ایک طرف رکھ کر سوچنے کا وقت آن پہنچا ہے ہمیں تمام مکتبہ فکر کی شخصیات سمیت عوام کے اپنے فیصلوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے ہمیں یہ بات تسلیم کر لینے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے ماضی کے فیصلے ناکام ہو چکے ہیں ہمیں ایک دوسرے کی غلطیاں اور پگڑیاں اچھالنے کی بجائے مثبت انداز میں اگے بڑھنا چاہیے ملک میں افراتفری کی صورتحال کا کوئی ایک طبقہ ذمہ دار نہیں اس حمام میں سب ننگے ہی نہیں اپنی کوتاہیوں کو چھپانے اور اپنی ملکی مفاد کے برعکس بنائی جانے والی پالیسیاں بنانے کے گناہوں کو دھونے میں بھی اسی کنواں میں ناکام ہو چکے ہیں ان پالیسی سازوں نے ملک کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

حکمران سیاست دان اور عوام دو قومی نظریہ کی حفاظت کرنے میں ناکامی کے راستے پر گامزن ہیں کسی بھی طبقے نے ملک کی اساس کی حفاظت نہیں کی سب نے الزامات کی سیاست کو فروغ دیا اور ملک کو صرف لوڈشیڈنگ کے اندھیرے میں ہی نہیں دھکیلا بلکہ ایسے سنسان راستے پر ڈال دیا ہے کہ جہاں ان اندھیروں میں پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کی چیخیں کانوں میں گونجتی ہیں اور ہم سے سوال کر رہی ہیں کہ جس ملک کی بنیادوں کو ہم نے خون دے کر قائم کیا تھا ملک کے اجارہ داروں نے ان بنیادوں پر اپنے مفاد کے بلڈوزر کیوں کر چلا دیے یہ چیخیں ہم سے پوچھ رہی ہیں کہ ہمیں اپنی اناؤں تلے کیوں روند رہے ہو یہ چیخیں ہم سے تقاضا کر رہی ہیں کہ ہم نے نئی ریاست دلیل و حکمت کی قوت سے حاصل کی اور تم ملک کے اجارہ داروں نے ہماری نظریاتی سرحدوں کو گولی اور گالی کی دلدل میں پھنسا دیا اور سب کے سب اس میں ایسے دھنس چکے ہو کہ چیخ بھی نہیں نکل رہی جسم بھی ساکت ہو چکا ہے بس انکھیں کھلی ہیں جو اس کیچڑ کے اندر سے طوفان دیکھ رہی ہیں اور لگ ایسا رہا ہے کہ دلدل کا یہ کیچڑ بھی شاید ہمیں قبول نہ کرے اور سمندر کی طرح لاش کو باہر پھینک دے لیکن اتنا ذہن میں رکھیں کہ سمندر تو لاش کو باہر نکال پھینک دیتا ہے پر اگر دلدل نے باہر نکالا تو کوئی چہرہ پہچان نہیں سکے گا اور نہ ہمارے پاس اس بدنما چہرے کو اصل حالت میں لانے کے لیے کوئی دلیل ہو گی۔

اس لیے میرے پیارے وطن کے اجارہ داروں ہوش کے ناخن لو گولی اور گالی کو چھوڑ کر دلیل کا راستہ اپناؤ یہ راستہ ہی تمہاری عاقبت سنوار سکتا ہے وگرنہ پھر وطن کے لیے قربانیاں دینے والوں اور وطن کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے والوں کی چیخوں کے درمیان ٹکراؤ ہو گا اور اس ٹکراؤ سے جو قیامت برپا ہو گی وہ سب کو بہا لے جائے گی ان گمشدہ آوازوں کی فریاد سن لو ان کی سسکیوں کے درد کو سمجھنے کی کوشش کرو ورنہ حالات تمہاری گرفت سے نکلتے جا رہے ہیں۔

ہم کب تک دائیں بائیں بازو کے چکر میں پھنسے رہیں گے ان ہوائی قسم کے گرہوں میں بٹنے کی بجائے دلیل کا سفر شروع کریں ملکی سطح پر سیاسی معاشی حالات کی بہتری کے لیے مکالمے کی طرف قدم بڑھائیں اب حکمران اور سیاست دان طبقے کے ساتھ ملک کے وسیع تر مفاد کی خاطر عوام کو بھی شامل کیا جائے۔ عوام صرف ووٹ دینے کے لیے نہیں ان کو فیصلوں میں شامل کریں عوام صرف گلی پکی کروانے گٹر صاف کروانے اور تھانے کچری میں اپنی مخبری کے لیے نہ رکھیں ان کو گلی سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک کے فیصلوں میں شریک کریں۔

عوام کے اندر سے برسوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے ان کو بنیادی حقوق دیں اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کی بجائے عوام کی سوچ کو مضبوط کریں ایسا ماحول پیدا کریں کہ عوام اپنی سوچ کو مثبت بنا کر ملک کی ترقی مین حکومت کا ساتھ دیں۔ ماضی کی حکومتوں کو طعنہ دینے کی بجائے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کریں ہر وقت خرابی کا رونا چھوڑ کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کو دوبارہ سے مضبوط کرنے پر اپنی صلاحیتوں کو بروے کا ر لائیں۔

گولی اور گالی کے عمل کو اسی دلدل میں دھکیل دیں جہاں سے اپ نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور تمام اداروں کو یہ بات مان لینی چاہیے کہ گولی اور گالی کسی مسئلے کا حل نہیں اپنے ملک کے نظریہ کو زہر آلود کرنے کے عمل نے ہمیں دنیا سے الگ کر دیا ہے ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم مثبت سوچ کے ساتھ اپنے عمل کو درست راہ پر ڈالیں اس کے لیے سب اختلاف رائے رکھنے والوں کو بندوق اٹھانے کی بجائے دلیل سے بات کرنی چاہیے۔

پاکستان کا سیاست دان ہو یا عوام کیا وہ اپنے گھر میں یہ برداشت کریں گے کہ گھر کے مکین ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوں اگر اپنے گھر میں ایسا برداشت نہیں کر سکتے تو اس عمل کا تجربہ ملک پر کیوں کر رہے ہیں ایسے مانگے تانگے کے فلسفے سے ہم کب تک اپنے کو دھوکا دیتے رہیں گے یہ دایاں اور بایاں بازو کا نظریہ ہمارا نہیں یہ تقسیم کا نظریہ ہے جو ناکام ریاست کی پہلی بنیاد ہے ایک کامیاب ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے پر زور دینا چاہیے۔

پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنے فلسفے عوام پر نافذ کر کے دیکھ لیا کسی نے عوام کو آواز دینے کا نعرہ لگایا تو کسی نے اسلام کی اپنی تشریح کی کسی نے آزاد خیالی کو فروغ دیا تو کسی نے اپنے مخالف کو ننگا کرنے کے حربے آزمائے کسی نے اپنے اقتدار کے لیے مسجدوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر دیا بلکہ تقسیم ہی نہیں کیا مسجدوں کو خون میں نہلا دیا مسجد جو امن کا گہوارہ تھی وہاں پگڑیاں اچھالی جانے لگی اس کا کوئی اور قصور وار نہیں ہم خود ہی ہیں اور اس میں عوام بھی مبرا نہیں جن مساجد سے امن کی آواز بلند ہوتی تھی وہاں گولی اور گالی نے جگہ بنا لی کیا ملک کی تباہی کے اس عمل کی حکمرانوں سیاست دانوں اور عوام کے پاس دلیل ہے۔

Facebook Comments HS