پہلی نظر میں دل دے بیٹھنا حقیقت ہے یا مغالطہ
پیار کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ ریالٹی ہے یا فینٹسی؟ یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ پیار اصلی ہے یا جھوٹ؟ کیا پیار کے لیے شادی ضروری ہوتی ہے؟ کیا شادی کے بعد بھی پیار برقرار رہتا ہے یا صرف ایک سمجھوتا کی شکل اختیار کر لیتا ہے؟ کیا پیار دو دلوں کا ملن ہوتا ہے تو پھر ولی کی اجازت کیوں؟ اپنے لائف پارٹنر کو منتخب کرنے کے لیے شادی سے پہلے ڈیٹ کرنا کیا غیر اخلاقی عمل کہلاتا ہے؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جو قابل بحث ہیں مگر تنگ نظر معاشروں میں ایسا ممکن نہیں ہوتا وہاں سب کچھ بلیک اینڈ وائٹ میں دیکھنے کا چلن ہوتا ہے گرے ایریاز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہر چیز کو اچھائی یا برائی کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ ان دونوں کے درمیان بہت کچھ ایسا چھپا ہوتا ہے جسے ڈی کوڈ کرنے سے انسانی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح پیار بھی ایک ایسا جذبہ ہے جو ابھی بہت حد تک پراسراریت کی دھند میں لپٹا ہوا ہے، بند معاشروں میں شرم و حیا کا ایک مضبوط تصور انسانی زندگی کے اس خوبصورت رشتے سے جڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس رشتے کی خوبصورتی کو پوری طرح سے سیلیبریٹ نہیں کیا جاسکتا ہم جسے محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ صرف ایک سمجھوتا ہوتا ہے محبت نہیں یا دوسرے لفظوں میں محبت کا مغالطہ ہوتا ہے، ہمارے معاشرے میں محبت کرنے یا ہونے کے لیے شادی کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور پہلی رات کو پتہ چلتا ہے کہ جس کے ساتھ ہم سو رہے ہیں ہیں اس کے ساتھ ساری عمر محبت کا ناٹک بھی کرنا ہے، بہت سارے مغالطوں میں سے ایک بہت بڑا مغالطہ (لو ایٹ فرسٹ سائٹ کہلاتا ہے ) اس موضوع پر میں اپنے کچھ دوستوں سے گفتگو کر رہا تھا کہ یہ الفاظ معنوی اعتبار سے کوئی گہرائی بھی رکھتے ہیں یا صرف محض ایک مغالطہ ہیں؟
اکثر کا یہی کہنا تھا کے لو ایٹ فرسٹ سائٹ بالکل حقیقت ہے اس میں کوئی مغالطہ نہیں ہے۔ میرا موقف یہ تھا کہ کہ پہلی نظر میں پیار نہیں ہوتا بلکہ ہوس کا غبار ہوتا ہے جسے (lust at first sight) کہہ سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جن معاشروں میں نفرت سکھانے کی فیکٹریاں ہوں وہاں محبت کس چڑیا کا نام ہے کسی کو پتا نہیں ہوتا، محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو جبر کے ماحول میں پوری طرح نہیں پنپ سکتا اس کے لئے ایک آزاد ماحول درکار ہوتا ہے جس میں کہنے، سننے، بولنے اور اپنے دل کے احساسات کا اظہار کرنے کی پوری آزادی ہو، ایسے معاشروں میں پہلی نظر میں پیار کیسے ممکن ہو سکتا ہے جہاں پر پیار کے نام پر چھپن چھپائی چلتی ہو، بیٹا تو منہ پھاڑ کر اپنے والدین کو بتا سکتا ہے کہ وہ فلاں سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرے گا کیا بیٹی ایسا اظہار کر سکتی ہے؟
اگر وہ ایسا اظہار کرتی ہے تو بے شرم اور منہ پھٹ کہلائے گی، بیٹی کی تقدیر کا فیصلہ والدین کرتے ہیں اور اسے اچانک سے بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں سے تمہاری شادی ہونے جا رہی ہے اور تم اس کے ساتھ خوش رہو گی، بعد میں جو کچھ ہوتا ہے معاشرہ اور عدالتیں اس کی گواہ ہیں جہاں چوائسز کا قحط ہوتا ہے وہاں زندگی کی خوبصورتیاں پورے طور پر سامنے نہیں آتیں۔ اس کے برعکس مغرب میں ڈیٹ کا تصور ہے جہاں پر انسانی آزادی کو اولین حیثیت حاصل ہوتی ہے، سوچ کی آزادی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پیار کا آزادانہ اظہار کر سکتے ہیں، وہاں پر نوجوان مرد اور عورت اپنی بالغانہ حیثیت میں دوست، محبوب اور لائف پارٹنر چنتے ہیں فیملی اور معاشرہ ان کے آزادانہ رائے کا احترام کر کے انہیں مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔
مشرقی ماحول میں ان باتوں کو غیراخلاقی سمجھا جاتا ہے حتی کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں دونوں جینڈرز کے درمیان نارمل تعلقات پروان چڑھنے نہیں دیے جاتے بلکہ الگ الگ اداروں میں پڑھایا جاتا ہے اور ان کے درمیان ایک ایسا آئرن کرٹن قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جس کی وجہ سے دونوں جینڈرز کے درمیان کوئی بھی نارمل سرگرمی نہیں ہو پاتی اور نہ ہی کسی قسم کا تبادلہ خیال ہوتا ہے دونوں کو دو الگ الگ دڑبوں میں رکھ کر سدھایا جاتا ہے۔
علیحدگی کا یہ تصور ان دونوں کے درمیان غیر فطرتی اور ابنارمیلٹی کی فضا کو جنم دیتا ہے جب دونوں کو اکٹھے رکھ کر گفتگو کرنے کی تربیت نہیں دی جائے گی تو پھر ایک مثبت فضا کیسے فروغ پائے گی؟ ایٹریکشن انسان کا ایک صحت مندانہ رویہ ہوتا ہے جب کہ ہوس اور فرسٹریشن بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے اور اسی بیمار ذہنیت کا مظاہرہ شادی کی پہلی رات خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے، جب ہم دوست چنتے ہیں تو اس کے ساتھ چند دن گزار کر یہ تسلی کرتے ہیں کہ کیا ہم بطور دوست ایک طویل عرصہ تک چل سکتے ہیں؟
ہمیں وہ دوست بالکل پسند نہیں آتا جس کے ساتھ ہماری کم و بیش عادات نہ ملتی ہوں ورنہ تو پھر زندگی عذاب بن جاتی ہے، تصور کیجئے اس رشتے کا جس کی نقاب کشائی ایک دستاویزی معاہدہ کرنے کے بعد معرض وجود میں آتی ہے، جاننے کے لیے چند گھنٹے ذہن ملے نہ ملے لیکن پھر اس اچانک رشتے کا بوجھ چار و ناچار ساری عمر اٹھانا پڑتا ہے اور نوک جھونک کے اسی ماحول میں ہمارے بچے پروان چڑھتے ہیں اور بڑے ہو کر وہ بھی اس مکروہ سرکل کا حصہ بن جاتے ہیں اور نہ جانے کب سے ایسا چل رہا ہے، ہمبستری تو زندگی کا صرف ایک چھوٹا سا پارٹ ہوتا ہے جب کہ زندگی کے ماہ و سال آپ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے گزارتے ہیں یہ سب سے اہم سوال ہے۔
زندگی بسر کرنا ایک آرٹ ہے، ایک سیکھ کا نام ہے جو افراد ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ سیکھنے سکھانے کا یہ عمل مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مرد عورت کے تعلق کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ ان دونوں کے درمیان سیکس بھی ہوتا ہو گا یہ رویہ بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، میں ایسے بہت سے باہمت والدین کو جانتا ہوں جو اپنی بچیوں کو اعتماد و حوصلہ کی دولت سے سرفراز کرتے ہیں اور بھائی بڑے فخر سے اپنی بہنوں پر بھروسا کر کے آؤٹ ڈور لائف کی مکمل آزادی دیتے ہیں، میری ایک طالبہ ہے جو اپنے بھائی کی کمپنی میں بطور ہیڈ کام کرتی ہے اور مرد ملازمین کو بڑے اچھے سے ڈیل کرتی ہے۔
گزشتہ دنوں میری ایک اور طالبہ سے ملاقات ہوئی جس کا والد عرصہ پہلے فوت ہو گیا تھا مگر اس بچی نے ( ڈائیوو بس سروس) کو جوائن کر لیا میرا اس سے مکالمہ ہوا تو اس کا کہنا تھا کہ شروع میں مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بہت سی گندی نظریں اس کا تعاقب کرتی تھیں مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور آج میں ایک باہمت خاتون بن چکی ہوں۔ زندگی انسان کو صرف ایک بار ملتی ہے اور اس عطیہ کو جینے کا ہر انسان کو مکمل حق ہونا چاہیے بلاوجہ کی قدغنیں روک ٹوک تعلقات کی خوبصورتیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور بطور فرد چاہے مرد ہو یا عورت ہر ایک کو اپنی زندگی اپنے مطابق گزارنے کا حق ہونا چاہیے۔


