کیا آپ ایک اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں؟
میری ایک مریضہ کو بچپن سے ناولوں ’فلموں اور گانوں کا بڑا شوق تھا لیکن اس کی جس مرد سے شادی ہوئی تھی اس نے بیوی پر بہت سی پابندیاں عاید کر دی تھیں کیونکہ وہ ناولوں کو وقت کا ضیاع‘ گانوں کو گناہ اور فلموں کو بے حیائی سمجھتا تھا۔ پہلے تو بیوی اپنے شوہر کے رویے پر حیران ہوئی پھر پریشان ہوئی اور آخر میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ اس کی ڈپریشن کی شدت اتنی بڑھی کہ اس نے اقدام خود کشی کیا۔ اتفاق سے اس کی بہن اس سے ملنے گئی تو اسے بے ہوش پایا۔ بہن نے ایمبولینس کو کال کیا اور وہ اسے ہسپتال لے گئے۔ وہ مریضہ ایک ماہ ہسپتال میں رہی اور پھر کبھی اپنے شوہر کے پاس واپس نہ گئی۔ ہسپتال سے وہ اپنی بہن کے گھر رہنے کو چلی گئی اور شوہر سے طلاق لے لی۔
طلاق کے بعد اس کے ڈاکٹر نے اسے تھراپی کے لیے میرے پاس بھیجا۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بچپن کے لکھاری بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے اورCREATIVE WRITING کے کورس میں داخلہ لے لے۔ اس مریضہ نے جب سے وہ کورس لیا تھا وہ خوش رہنے لگی تھی۔ وہ ہر روز صبح اٹھ کر آدھ گھنٹہ اپنی ڈائری لکھتی۔ دھیرے دھیرے اس کی ہمت حوصلے اور اعتماد میں اضافہ ہوا تو اس نے نظمیں اور کہانیاں لکھنی شروع کیں۔ پھر اس نے زندگی میں پہلی دفعہ فیس بک پر ایک اپنا ایک پیج بنایا اور اپنی ڈائری کے صفحے ’ادبی خطوط‘ نظمیں اور کہانیاں اپنے فیس بک پیج پر چھاپنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے دوستوں ’قاریوں اور پرستاروں کا حلقہ بڑھنے لگا اور وہ اپنے آپ کو ایک لکھاری سمجھنے لگی۔
لیکن ایک دن وہ مجھ سے ملنے آئی تو بہت افسردہ تھی۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی میں نے چارلز بوکوسکی کی ایک نظم پڑھی ہے جسے پڑھنے کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے اور دکھی ہو گئی ہوں۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا ڈاکٹر سہیل آپ چارلز بوکوسکی کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
میں نے کہا وہ غریبوں کے شاعر تھے۔ انہیں بچپن سے ہی نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا کیونکہ ان کے والد بہت جابر و ظالم تھے اور انہیں زد و کوب کیا کرتے تھے۔ یہ علیحدہ بات کہ جب چارلز بوکوسکی شاعر بن گئے تو کہا کرتے تھے کہ میرے بچپن اور نوجوانی کی سماجی دشواریوں اور نفسیاتی مسائل نے مجھے ایک اچھا لکھاری بننے کے لیے خام مال مہیا کیا ہے۔

چارلز بوکوسکی نہ صرف امیروں اور سرمایہ داروں کو چیلنج کیا کرتے تھے بلکہ ادب کے پیشہ ور نقادوں پر بھی تنقید کیا کرتے تھے اسی لیے وہ انگریزی ادب کے اشرافیہ میں مقبول نہ ہوئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت اور مقبولیت بڑھتی گئی اور 1986 میں TIME MAGAZINEنے انہیں LAUREATTE OF AMERICAN LOWLIFE کا خطاب دیا۔ دھیرے دھیرے وہ پلپ فکشن کے ہیرو بن گئے۔ ان کی وفات 1994 میں ہوئی اور اپنی موت کے بعد ان کی شہرت اور بھی بڑھنے لگی۔
چارلز بوکوسکی کا یہ موقف تھا کہ شاعر کو بالکل کوئی محنت نہیں کرنی چاہیے اسے آمد اور الہام کا انتظار کرنا چاہیے۔ انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ میری قبر کے کتبے پر لکھوانا DO NOT TRY
میں نے اپنی مریضہ سے کہا کہ اسے چارلز بوکوسکی کی نظم پڑھ کر بددل نہیں ہونا چاہیے۔ اسے لکھتے رہنا چاہیے اپنی محنت اور ریاضت کو جاری رکھنا چاہیے۔ چارلز بوکوسکی کا ادب کے نظریہ بہت سے نظریات میں سے ایک نظریہ ہے۔ میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ شاعری کے علاوہ باقی تمام فنون لطیفہ میں چاہے وہ موسیقی ہو یا رقص ’پینٹنگ ہو یا ایکٹنگ فنکار ہفتوں مہینوں سالوں بلکہ دہائیوں ریاض کرتے ہیں اور اپنے آرٹ اور کرافٹ پر عبور حاصل کرتے ہیں اور پھر عوام و خواص کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
CREATIVITY IS 1% INSPIRATION 99% PERSPIRATION
میری حوصلہ افزائی سے میری مریضہ نے دوبارہ لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے فیس بک پر اس کے دوستوں اور پرستاروں کو خوش ہوئی کہ وہ لوٹ آئی ہے۔
میری نگاہ میں کسی بھی کامیاب لکھاری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اتنی خود اعتمادی ہو کہ وہ کسی کی تنقید سے جلدی بددل نہ ہو جائے۔ کامیاب لکھاری یا فنکار بننے کے لیے ایک میراتھون رنر کی ہمت اور حوصلے اور استقامت کی ضرورت ہے۔
اب میں آپ کو چارلز بوکوسکی کی اس نظم کا ترجمہ سناتا ہوں جس نے میری مریضہ کو غمزدہ اور دکھی کر دیا تھا اور اس نے چند ہفتوں کے لیے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔ اگر آپ نے چارلز بوکوسکی کا نام نہیں سنا تو اسے انٹرنیٹ پر ضرور تلاش کریں میں نے انہیں پڑھا تو وہ مجھے اردو کے حبیب جالب کی طرح عوامی شاعر لگے۔
نظم۔ کیا تم لکھاری بننا چاہتے ہو؟
اگر وہ
تمام بنر توڑتا ہوا
تمہارے اندر سے اچھلتا ہوا باہر نہ آئے
تو مت لکھو
اگر تمہیں
کمپیوٹر سکرین اور ٹائپ رائٹر کے آگے
گھنٹوں بیٹھنا اور سوچنا پڑے
تو مت لکھو
اگر تم
دولت اور شہرت کے لیے لکھنا چاہتے ہو
تو مت لکھو
اگر تم لکھنے سے
عورت حاصل کرنا چاہتے ہو
تو مت لکھو
اگر تم کسی اور کی طرح لکھنا چاہتے ہو
تو مت لکھو
اگر تمہیں اچھا لکھنے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے
تو انتظار کرو
اور کوئی اور کام کرو
تم ان سینکڑوں اور ہزاروں لکھاریوں کی طرح مت بنو
جو بورنگ اور بے جان چیزیں لکھتے ہیں
ان سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں
جنہیں پڑھ کر لوگ اونگھنے لگتے ہیں
ایسے لکھاریوں کی فہرست میں اضافہ مت کرو
صرف اس وقت لکھو
جب تمہاری تخلیق
تمہارے اندر سے راکٹ کی طرح اڑ کر باہر آئے
اور تم نہ لکھو
تو تم اپنا ذہنی توازن کھونے لگو
جب تمہارے اندر کا سورج
تمہیں اپنی حدت سے جلانے لگے
تب لکھو
جب تمہارے لکھنے کا وقت آ جائے گا
تو تم لکھنا شروع کر دو گے
اور اس وقت تک لکھتے رہو گے
جب تک تم مر نہیں جاتے
یا تمہارے اندر تخلیقیت مر نہیں جاتی
اس کے علاوہ
اچھا لکھنے کا اب کوئی اور طریقہ نہیں ہے
اور نہ ہی کبھی تھا


