سردیوں میں نیکی کے افعال
سردیوں کو ویسے ہمارے گاؤں دیہاتوں میں چوریوں کا موسم کہا جاتا ہے، کیونکہ سردی کے موسم میں گاؤں، قصبوں میں رات گئے دھند ڈیرے ڈال لیتی ہے۔ ایسے میں ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا، افراد خانہ بھی بستروں میں دبکے ہوتے ہیں اور چور حضرات اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے گاؤں میں چور ایک کھیت سے بھاری ڈیزل انجن (پیٹر) کو موٹرسائیکل پر اٹھا کر لے گئے تھے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مویشی بھی اسی موسم میں ہی چوری کیے جاتے ہیں۔ شہروں میں یہ موسم رومانٹک اور ادبی حلقوں میں اداس رت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ میرے جیسے ملازمت پیشہ افراد کے لئے قیامت کیونکہ جو آنکھ لگے تو صبح 8 بجے تک اٹھنے کا دل نہیں کرتا۔
قارئین بھی حیران و پریشان ہوں گے کہ نیکی کے افعال کا عنوان دے کر یہ شخص سردیوں کی پاکستانی تعریف کی اقسام بتانے لگ گیا ہے۔ بہرحال موضوع کی طرف آتے ہیں، فیس بک پر حسینی دوست اور کلاس فیلو عزیزم منیر الحسینی کی پوسٹ نظروں سے گزری۔ لبرل ازم کے دلدادہ منیر الحسینی جیو اور جینے دو کے فلسفے کے نہ صرف پرچارک ہیں بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی ہیں۔ میرے باقی لبرل دوست جو تھوڑی سی تنقید پر گالم گلوچ تک پہنچ جاتے ہیں، ان کے لئے منیر الحسینی قابل تقلید ہیں۔
کیونکہ وہ اختلاف رائے پر تعمیری بحث کے ساتھ ساتھ مخالف رائے کو احترام دیتے ہیں۔ میں تو برملا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے لاہور میں اور میڈیا میں بیٹھ کر اتنے تعلقات نہیں بنے جتنا ان کے ملتان میں بیٹھ کر بنے ہیں اور بن رہے ہیں۔ بہرکیف منیر الحسینی نے سردیوں کی آمد اور اس دوران طبقاتی، معاشی نا انصافی کا شکار افراد کے لئے گرم کپڑوں اور بچوں کے لئے بند جوتوں کی فراہمی اور امداد کی دردمندانہ اپیل کی ہوئی تھی۔
ان کی اس پوسٹ سے مجھے بچپن کے دن یاد آ گئے کہ جب ہمارے سکول میں سردی پڑتے ہی، نیلی جرسی، نیلے مفلر اور کالے بوٹ کا ڈریس کوڈ لاگو ہوجاتا تھا۔ صبح اسمبلی کے وقت جن بچوں نے مفلر یا جرسی یا بند کالے جوتے نہیں پہنے ہوتے تھے۔ ان کو یا تو اسمبلی کے دوران ہی پکار کر سٹیج پر بلا لیا جاتا تھا، یا پھر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے کر کے سزا دی جاتی تھی۔ اب شدید سردی میں جہاں سافٹی سینڈل میں پاؤں ٹھنڈے ہونے سے کپکپی پہلے ہی طاری ہوتی تھی۔ اوپر سے 5، چھ سو بچوں کے بیچ کھڑا ہونے کی تذلیل کا احساس الگ ہوتا تھا، پڑنے والی مار سوا ہوتی تھی۔
یقین مانیں، وہ لمحہ یاد کر کے یہ تحریر لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ (یہ تحریر لکھنے کا مقصد کوئی ہمدردی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ اپنی کہانی بیان کر کے اس طبقے کے حالات کو بیان کرنا ہے جو شاید میرے یا ہمارے گھر کے اس وقت کے معاشی حالات سے بھی کم پر گزارا کر رہے ہوتے ہیں ) کیونکہ والد محترم (مرحوم) ریٹائرڈ سرکاری ٹیچر تھے اور ان کی پینشن جو اس وقت شاید 2 ہزار روپے تھی اس میں ہی ہم 4 بچوں کی تعلیم اور دیگر اخراجات پورے کرنے ہوتے تھے۔ ایسے میں ہمارے شہر میں لنڈا لگنا شروع ہوا تو اکثر ایسا ہوتا تھا کہ سردی پہلے پڑ جاتی تھی اور پینشن کی تاریخ بعد میں آتی تھی تو ہمارے جانے تک لنڈے سے نیلے کلر کی جرسیاں، مفلر ناپید ہو جاتے تھے۔ جو بند جوتے ملتے تھے وہ بھی سیاہ رنگ میں دستیاب نہیں ہوتے تھے۔
ایک دفعہ تو دلچسپ صورتحال یہ ہوئی کہ بند جوتے تو مل گئے مگر وہ بھورے رنگ کے تھے۔ میں نے ان کو کالے کرنے کا حل یہ نکالا کہ کالے رنگ کی پڑی لے کر آیا (جس میں پانی ملا کر کالی سیاہی کے طور پر استعمال کرتے تھے بچپن میں ہم ) کالے مارکر کے اندر سے اس کی ٹیوب نکالی (شاید ٹیوب ہی کہتے ہیں جس میں فوم ہوتا ہے جو رنگ جذب کر لیتا ہے ) اور اس سیاہی کے ذریعے اپنے بوٹ کو سیاہ رنگ کرنے کی کوشش کی۔ اس نیم کامیاب کوشش میں جوتے کا جو رنگ نکلا وہ کچھ کالا اور کچھ بھورا نما سا تھا۔ جس سے پڑنے والی مار کا سلسلہ رک گیا۔
اللہ کا شکر ہے کہ مجھے بند جوتے دستیاب ہو جاتے تھے، مگر کچھ ایسے بچے تھے جو ساری سردیاں یہ مار برداشت کیا کرتے تھے۔ اس وقت تو چلو مہنگائی بھی اتنی نہیں تھی، 2 ہزار روپے بھی ایک چھوٹے گھر کا گزارا ہوجاتا تھا۔ آج کل تو مہنگائی کا یہ حال ہے کہ ایک وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہے۔ اس صورتحال میں ایسے خاندان کہاں گرم کپڑوں اور جوتوں جیسے مہنگے شوق کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ میری قارئین سے گزارش ہے کہ جو بھی صاحب حیثیت ہیں وہ اس موسم میں صدقہ جاریہ اور انسانیت کے تقاضے کے تحت اپنے قرب و جوار میں ایسے خاندان جو کہ ہمارے ہی افعال اور دنیاوی معاشی تفریق کا شکار ہیں، ان کی چپکے سے ایسے مدد کریں کہ یا تو اپنے بچوں کے استعمال شدہ کپڑے جوتے پہنچائیں۔ اگر اس سے بھی زیادہ کر سکتے تو نئے خرید کر دے دیا کریں۔ کیونکہ غریب ہمیشہ غیرت مند اور خود دار ہوتا ہے تو ایسے افراد سختیاں تو برداشت کرلیتے ہیں مگر اظہار نہیں کرتے۔
یقین مانیں آپ کا یہ عمل نہ صرف آپ کو دنیا میں کام دے گا بلکہ آخرت میں بھی آپ کی جزا کے لئے کام آئے گا۔ ویسے بھی بانٹنے سے برکت پڑتی ہے، ویسے بھی نیکی کے کام میں اللہ تعالی کی حمایت اور رضامندی شامل ہوجاتی ہے۔ ان سردیوں میں تہیہ کر لیں کہ بے شک برانڈ سے لیں مگر تھوڑے کم نرخ کی چیز لے کر بچنے والے پیسوں سے کسی کے لئے گرم کپڑے خرید لیں۔ جہاں اپنے اہلخانہ کے لئے خشک میوہ جات لے رہے ہیں تو اس دفعہ ان کی مقدار تھوڑی کم کر کے کسی فاقہ کش کے ایک یا دو وقت کے کھانے کا بندوبست کر دیں۔ کیونکہ سردیوں میں دن چھوٹے، کاروبار اور مزدوری کے مواقع بھی محدود ہوتے ہیں۔ معیشت بھی ان دنوں میں سست روی کا شکار ہوتی ہے، بے شک سردیوں میں کیے جانے والے یہ افعال آپ کے لئے راہ نجات ثابت ہوں گے


