نا اہل حکمران، مہنگائی اور ملکی معیشت

گزشتہ تین سالوں میں ملکی معیشت کا پہیہ رک گیا ہے۔ ملک کی معاشی، اقتصادی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ نا اہل نالائق وزیر اعظم کہتا ہے سب ٹھیک ہے، پیٹرولیم مصنوعات سے لے کر بجلی، گیس، آٹے، چینی، گھی، کی قیمتوں میں رکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ غریب دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے۔ ادویات۔ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے مریض ہسپتال جانے کے بجائے گھر میں ہی دم دے رہا ہے۔ لوگ بھوک بدحالی بیروزگاری کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، بچوں کو زہر دے کر مار رہے ہیں اور بازاروں میں بیچ رہے ہیں۔
لیکن حکمران ہیں جن کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ قرضہ اتنا چڑھ گیا ہے کہ کیا کہنا۔ ملکی قرضہ 25 ہزار ارب سے بڑھ کر 45 ہزار ارب تک ہو گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے۔ عمران خان کی دور حکومت کی نا اہلی نالائقی کی وجہ سے ملکی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے، آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی وجہ سے بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے مہنگائی کا طوفان برپا کیا گیا ہے، اقتدار اور کرسی کی لالچ میں ملک کو داؤ پر لگایا گیا ہے، صرف تین برس میں مہنگائی کے 70 سال کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، دالوں کی قیمت میں 76 فیصد اضافہ، چکن 60، بجلی 57، آٹا 52 اور پیٹرول 49 فیصد مہنگا ہو گیا ہے، پیٹرول فی لیٹر 137 روپے جبکہ ڈیزل 140 روپے تک رکارڈ ہوا ہے۔
آٹا 70 سے 80 روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ گھی 140 روپے سے 360 روپے ہو گیا ہے۔ ہرگز نہیں کہنے ولا حکمران عالمی قوتوں کے آگے لیٹ چکا ہے، غریب عوام مہنگائی، بھوک بدحالی اور بیروزگاری کی وجہ سے مر رہی ہے، حکمرانوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے، موجودہ حکمرانوں کی ناکام خارجہ پالیسی کی سبب ہم دنیا میں تنہا ہو کر رہ گئے ہیں، سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، قومی اداروں کا دیوالیہ نکالا گیا ہے، سندھ کے حکمران بھی عمران خان کی طرح نا اہل نالائق اور کرپٹ ثابت ہوئے ہیں۔
ریاست مدینہ کے نام پر کوفہ بنایا گیا ہے۔ ملک میں نظام ظلم جبر مہنگائی بیروزگاری بھوک بدحالی نافذ کی گئی ہے۔ نظام مصطفی صہ میں مزدور بھوکے نہیں سوتے تھے۔ آج لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ مدینہ کی ریاست یہ نہیں کہ قوم فقر و فاقہ پر وقت گزارے، آج پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔ ڈالر کی اڑان رکنے کا نام نہی لے رہی ہے، ڈالر 175 روپے کا ہو گیا ہے۔ ملک کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں تو اپنی جگہ اب تو بائیس کروڑ عوام بھوک افلاس مفلسی کا سامنے کر رہے ہیں۔
اچھی تقریر کرنے سے کوئی اچھا لیڈر اور حکمران نہیں بن سکتا۔ سندھ وفاقی حکومت کے ساتھ اگر صوبائی حکومت کا موازنہ کیا جائے تو سندھ حکومت بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، سندھ کے حکمران بھی عمران خان کی طرح ایک سکہ کا دوسرا رخ ہیں۔ سندھ میں مسلط حکمرانوں نے بھی قوم کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سندھ کی زمینوں کو حکمران ایسے بیچ رہے ہیں جیسے ان کے باپ دادا کی جاگیر ہو۔
کراچی سے لے کر بدین ٹھٹھہ، سپر ہائی وے، بحریہ ٹاؤن، سے لے کر حیدرآباد تک سرکاری زمینیں ٹکوں کے عیوض اقتدار اور سندھ حکومت بچانے کے ساتھ نیب کیسز میں رلیف لینے کے لئے سندھ کو داؤ پر لگایا گیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ملک کو مشکلات سے نکالیں گے۔ پاکستان کو جس نعرہ پر حاصل کیا گیا تھا، ملک میں لا الہ الا اللہ والا قانون نظام 74 سالوں میں نافذ نہ ہو سکا ہے، ہم ملک میں اسلامی نظام نافذ کر کے رہیں گے۔
یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، آج یہاں مدینہ کی ریاست کا نام لے کر نا اہل نالائق سلیکٹڈ حکمرانوں نے عوام پر یزیدی دور کے ظلم و جبر کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے، دھاڑی دار مزدور فاقے کاٹ رہا ہے۔ اور مدینہ کی ریاست کا دعویدار حکمران انڈوں کٹوں مرغیوں سے لنگر خانہ اور بھنگ تک قوم کو لا رہا ہے۔ سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کو باپ دادا کی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے، سندھ مین قابض حکمرانوں نے سندھ کے وسائل کو سونے کی چڑیا سمجھا ہوا ہے۔ دونوں ہاتھوں سے سندھ کو لوٹ رہے ہیں۔
کراچی کے سرکاری ہسپتال میں غریب والد کے علاج کے لئے معصوم بچیوں کی عزتوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ 2018 ع کے عام انتخابات میں کی گئی دھاندلی کے بعد سے ہی مولانا فضل الرحمن صاحب کی قیادت سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کو اکٹھا کیا۔ اپوزیشن جماعتوں پی ڈی ایم کا اتحاد بنایا گیا۔ انشاءاللہ اب وہ وقت دور نہیں ہے جب ملک کو ان نا اہل نالائق کٹھ پتلی حکمرانوں سے آزاد کروائیں گے۔
ہماری تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں حق حاکمیت عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے نہیں کی جاتی۔ ایک مرتبہ پھر اسلام آباد لانگ مارچ سے گریز نہیں کریں گے۔ سندھ کو ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان اور بلاول بھٹو زرداری عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے، دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے مفادات کی خاطر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے پیٹھ میں چھرا مارا لیکن وہ ناکام ہو گئے ہیں۔
پی ڈی ایم کی تحریک نہ رکی ہے نہ پیچھے ہٹی ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ اب بھی وقت ہے کہ فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ عمران خان اب بھی پاکستان کو ترقی دینے کی اور بلاول صاحب پاکستان کو سندھ جیسا بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن عمران خان ملک کا خیرخواہ نہیں بلکہ پاکستان اور عوام کا دشمن ہے۔ پاکستان کے تاریخ کی بدترین حکومت عمران خان کی حکومت ثابت ہوئی ہے۔ سندھ کے حکمران بھی اتنے ہی نا اہل نالائق اور سندھ دشمن ہیں جتنا عمران خان ہیں۔
سندھ میں لوگ بھوک بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ پاکستان کو بچانے کے لئے ان حکمرانوں کو گھر بھیجنا ہو گا۔ سندھ کی زمینوں کو بچانے کے لئے اس جماعت سے جان چھڑانی ہوگی۔ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن صاحب کی قیادت مین ملک کو متبادل قوت فراہم کرے گی اور عوام کو ان کے حقوق دلوا کر رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے اپوزیشن میں شامل جماعتیں متحد ہوں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ گھر چلے جائیں اور نئے الیکشن کا اعلان ہی ملک کو معاشی طور پر تباہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔

