لبیک یا رسول اللہ مگر کیسے


ایمو فلپس ایک امریکی کامیڈین ہے جو مذاق ہی مذاق میں بہت فلسفیانہ بات کر جاتا ہے۔ ایک شو کے دوران ایمو فلپس نے حاضرین محفل کو اپنے بارے میں بتایا کہ ”میں بہت غریب والدین کے یہاں پیدا ہوا۔ کھانے پینے کی قلت تھی۔ مجھے بچپن سے ہی سائیکل چلانے کا شوق تھا لیکن ہم اتنے غریب تھے کہ سائیکل خریدنا ہماری حیثیت سے باہر تھا۔ ایک دن اسکول سے واپسی پر مجھے گلی میں ایک سائیکل پڑی ہوئی نظر آئی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا، وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ میں نے سائیکل اٹھائی اور چلاتا ہوا گھر لے آیا۔ مجھے سائیکل چلا کر بہت مزہ آیا۔ گھر والوں نے پوچھا یہ کہاں سے آئی ہے، میں نے جواب دیا کہ دوست نے دی ہے۔

اس دن رات کو جب میں سونے لیٹا تو مجھے اپنے کیے پر شرمندگی ہوئی اور میں بہت رویا۔ میں نے خدا سے اپنی چوری کی معافی مانگی اور سو گیا۔

اگلے دن جب میں اٹھا تو میں خوش تھا۔ میں نے سائیکل کھڑی ہوئی دیکھی اور خوشی سے اس کو پھر چلانا شروع کر دیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مذہب کیسے کام کرتا ہے۔ ”

ایمو فلپس کو شاید اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں اس کی یہ بات سو فیصد درست ثابت ہو گی۔ ہمارا پورا معاشرہ ایمو فلپس کے طنز پر پورا اترتا ہے۔

ہماری جعلی دوائیاں بیچنے والی فارمیسی کا نام مکہ فارمیسی ہے۔ بسم اللہ ملک شاپ پر جعلی دودھ، مدینہ سپر مارکیٹ میں ملاوٹ شدہ مصالحہ جات اور چائے کی پتی اور لبیک چکن کی دکان پر بیمار جراثیم کش مرغیوں کا گوشت ملتا ہے۔ ہر چیز میں ملاوٹ اور دھوکا۔

آپ کسی بھی دکان میں چلے جائیں، آپ کو وہاں قرآن کی آیات اور سورہ رحمٰن کی تلاوت ہوتی ہوئی ملے گی۔ ہماری مسجدیں بھری ہوئی ہیں۔ حج اور عمرہ میں ہم ٹاپ پر ہیں اور دھوکا، فریب، مکر اور جھوٹ بولنے میں بھی۔ رمضان کے آخری عشرے میں مکہ اور مدینہ جا کر گناہ بخشوانا ہمارا قومی کھیل ہے۔

ہم نے دین کو صرف ایک حساب کتاب کے لئے رکھا ہوا ہے۔ شب قدر مل گئی تو سارے گناہ معاف؟ حج کر لیا تو جیسے بالکل نوزائیدہ بچے؟ رمضان کے روزے رکھ لئے تو سب گناہ دھل گئے؟ کیا کسی یتیم اور بیوہ کے پلاٹ پر قبضہ بھی معاف؟ کسی کی جان، مال اور عزت لوٹنا بھی معاف؟ جعلی دودھ اور دوائیاں بیچ کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا بھی معاف؟

عشق رسول پتا بھی ہے کیا ہوتا ہے؟ پولیس والوں کو گولیاں مارنا، گاڑیوں کو نذر آتش کرنا اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانا کیا عشق رسول ہے؟ عشق رسول تو وہ تھا جب غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا سارا سامان نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔ حضرت جبریل علیہ سلام حاضر ہوئے اور نبی ﷺ سے عرض کی کہ خدا تعالٰی فرما رہے ہیں کہ ہم ابو بکر سے راضی ہیں، کیا ابو بکر بھی ہم سے راضی ہیں۔ اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر اقبال نے کہا تھا کہ

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

عشق رسول تو وہ تھا جب مدینہ والوں نے ہجرت کر کے آئے لوگوں کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھول دیے تھے۔ کیا ہم ایسی قربانی کی مثال قائم کر سکتے ہیں؟ لیکن یہاں تو ہم ایک دوسرے کی جان مال اور عزت کے درپے ہیں۔

عشق رسول تو وہ تھا جب حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کافروں کے سارے ظلم سہ کر بھی احد احد ہی کہتے۔ بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ حق پر کھڑے رہے اور کبھی بھی ظلم کا ساتھ نہیں دیا۔

عشق رسول تو محبت، امن، سلامتی اور انسان دوستی کا نام ہے۔ اگر آپ کسی انسان سے صرف اس کے مذہبی عقائد کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں تو پھر آپ کو نبی ﷺ کی سیرت پر توجہ دینی کی ضرورت ہے۔ جن کی زبان مبارک سے ہمیشہ دوسروں کے لیے دعا، عافیت اور خیر کے کلمات ہی ادا ہوتے۔ جب باہمی رضامندی سے ہونے والے جنسی گناہ کا سنگساری کا واقعہ ہوا تو آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو صحابہ کرام نے کہا کہ اس کو پتھر لگتے اور وہ کہتا کہ مجھے چھوڑ دو، مجھے جانے دو۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا ”تو اس کو جانے دیتے“ ۔

حقیقی عشق رسول اور لبیک یا رسول اللہ صرف انسان دوستی اور محبت پر محیط ہے۔ ورنہ ایمو فلپس کی طرح رات کو رو رو کر معافی مانگنے اور صبح اٹھ کر چوری کی سائیکل چلانے سے آپ اپنے آپ کو دھوکا دے سکتے ہیں، خدا کو نہیں! ۔

Facebook Comments HS