میرے بہنوئی کو باعزت موت عطا کرنے والے ڈاکٹر ابرار احمد بھی عزت کے ساتھ رخصت ہوئے

••• اے شہر لاہور۔ تیرا دیا ہوا دکھ آج بھی ڈستا ہے •••
”ہاں ہاں جانتا ہوں، یہ 2021 ہے مگر جو بات مجھے بتانی ہے اس کے لیے تمہیں میرے ساتھ 10 مئی 2014 میں جانا ہو گا۔“
”کیا کہا؟“
”یہ کیسے ممکن ہے؟“
”بالکل ممکن ہے۔ میں تمہیں مئی 2014 میں لے جا سکتا ہوں۔“
”کیسے؟“
”اس کے لیے تمہیں میری آنکھوں کے راستے میرے وجدان کی دنیا میں اترنا پڑے گا۔“
”جی بالکل اسی طرح میری آنکھوں میں جھانک کر۔“
”تو چلیں پھر، تیار ہو؟“
”لو جی پہنچ گئے ہم مئی 2014 میں۔ اب اپنی آنکھیں کھول دو۔“
”جی جی بالکل۔ یہ لاہور کا سب سے بڑا ہاسپٹل جناح ہسپتال ہے۔“
”کیا کہا؟“
”میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟“
”اصل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔“
”جی جی۔ لوگوں کا یہ جم غفیر اس تین منزلہ عالی شان ہسپتال میں اپنی سانسیں خریدنے آیا ہے۔“
”کیا کہا؟“
”ہاں ہاں ٹھیک سمجھے۔ یہ چپے چپے پر بیٹھے ہوئے نڈھال لوگ اور چمن کی کیاریوں میں یہاں وہاں لیٹے ہوئے سبھی لوگ مریض ہیں اور ان سے چمٹے لاتعداد مرض انہیں یہاں کھینچ لائے ہیں۔“
”ارے نہیں بھئی۔ یہ سب دکھانے نہیں لایا تمہیں۔“
”چلو ادھر چلتے ہیں، وہ کینٹین کے پیچھے والے حصے کی طرف۔“
”کیا کہا؟“
”اس طرف ہسپتال کی لیٹرینیں ہیں؟ ہاں تو ہمیں اسی طرف ہی جانا ہے نا۔“
”ارے نہیں نہیں بھئی۔ ہم رفع حاجت کے لئے نہیں جا رہے، تم چلو سہی۔“
”کیا کہا؟“
”جی جی۔ یہاں پکے فرش پر جگہ جگہ بچھی چادروں اور پلاسٹک کی چٹائیوں پر لیٹے ہوئے بے حال لوگ بھی مریض ہی ہیں جنہیں نہ جانے کیسی کیسی بیماریوں نے یہاں اس حال میں لا پھینکا ہے۔“
”ارے نہیں بھئی۔ یہ جناح ہسپتال ہی ہے، کوئی سڑک کا فٹ پاتھ نہیں۔“
”ارے بھئی تمہیں اس منطق کی ابھی سمجھ نہیں ہے۔ اگر یہ مریض اپنے گھروں کے نرم بستر چھوڑ کر صبح گجر دم یہاں نہ آتے تو ان کو یہاں بھی جگہ نہ ملتی۔“
”کیا کہا؟“
”لیٹرینوں کی بدبو آنے لگی ہے؟“
”پھر تو یوں سمجھو پہنچ گئے، بس تھوڑا اور برداشت کر لو پلیز۔“
”لو جی۔ پہنچ گئے۔“
”کیا کہا؟“
”یہاں شدید تعفن ہے؟ سوری یار۔ تمہیں لیٹرینوں سے اٹھتے ہوئے اس تعفن زدہ ماحول میں لے کر آنا پڑا۔“
”کیا کہا؟“
”تمہیں یہاں کیوں لایا ہوں؟ ٹھہرو ایک منٹ۔ ہاں یہ دیکھو۔ اس طرف۔“
”کیا کہا؟“
”جی جی۔ یہی دکھانے تو تمہیں یہاں لایا ہوں۔“
”کیا کہا؟“
”یہ کون ہے؟ ارے بھئی جناح ہسپتال کی لیٹرینوں کے ساتھ پڑا درد سے کراہتا ہوا یہ نڈھال آدمی کوئی غیر نہیں، میرا بہنوئی ہے، جو دو دنوں سے یہاں بے یارومددگار پڑا ہے۔“
”کیا کہا؟“
”جی جی۔ اس کے سرہانے بیٹھی آنسو بہاتی ایک زندہ مردہ لیے عورت میری بہن ہے، جو اپنے شوہر کی حالت زار پر زندگی سے، اس سماج سے، ہسپتال کی انتظامیہ سے سب سے روٹھی بیٹھی ہے۔“
”کیا کہا؟“
”مجھ پر غصہ کیوں کرتے ہو یار؟ تو پھر کہاں لے کر جاؤں کینسر سے تڑپتے ہوئے اپنے بہنوئی کو؟ تم ہی بتاؤ؟“
”ارے چھوڑو یار۔ کیا جناح ہسپتال جناح ہسپتال کی رٹ لگا رکھی ہے۔ اس تین منزلہ جناح ہسپتال کے انگنت کمروں میں میرے بہنوئی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایک ایک کمرہ کھنگال چکا ہوں میں، کتنے ڈاکٹروں سے ملا ہوں۔ سب ایک دوسرے پر ڈالتے ہوئے نہایت ڈھٹائی اور کھردرے لہجے میں ایک ہی جملہ میرے منہ پر دے مارتے ہیں کہ یہ مریض ہمارے وارڈ کا نہیں ہے، اسے فلاں وارڈ میں لے جاؤ، فلاں او پی ڈی پر جا کے دکھاؤ، فلاں ڈاکٹر سے جا کے ملو۔ بس دو دنوں سے یہی تماشا دیکھ رہا ہے، میں ایک ایک کو مل کے پاگل ہو چکا ہوں۔“
” کیا کہا؟“
” رات کہاں گزارتے ہیں؟ بس کیا بتاؤں یار۔ دن بھر یہاں ذلیل خوار ہونے کے بعد آٹو کے دھکے کھاتے ہوئے رات کو ہوٹل چلے جاتے ہیں جہاں رات بھر کراہتے ہوئے بہنوئی کی درد بھری آوازیں، اوپر سے میری بہن کی گونجتی دبی دبی سسکیاں مجھے ایک پل نہیں سونے دیتیں۔“
”کیا کہا؟“
”یوں مجھے گھورنے سے کیا ہو گا؟ چلو تم ہی بتاؤ، بہنوئی کو ہسپتال میں داخل کروانے کے لئے میں کس سے رحم کی بھیک مانگوں؟ کون ہے میرا یہاں اجنبیت کی دھند میں لپٹے ہوئے اس اجنبی لاہور شہر میں؟“
”کیا کہا؟“
”ذہن پر زور دے کے یہاں کے دوستوں کو یاد کروں؟ ارے ہاں۔ تمہاری بات سے یاد آیا۔ ایک دوست ہیں، پی ٹی وی کے سینئر ترین آرٹسٹ عاصم بخاری صاحب۔ وہ میرے ٹیلی فونک دوست ہیں، بڑے بھلے آدمی ہیں، بہت محبت سے بات کرتے ہیں، انہیں فون کرتا ہوں، شاید کام بن جائے۔“
”ارے وہ دیکھو اس طرف۔ عاصم بخاری صاحب آ رہے ہیں۔ کمال ہو گیا یار، میری ایک فون کال پر ہی وہ دوڑے آئے۔ چلو ملتے ہیں ان سے، یہ میری بھی ان سے پہلی ملاقات ہو گی۔“
”امید ہے اب کام ہو جائے گا، آخر اتنے بڑے ٹی وی آرٹسٹ میرے ساتھ ہیں۔“
”اففووووو۔ ایک تو ہمارے لوگ بھی مشہور لوگوں کو دیکھ کر پاگل ہی ہو جاتے ہیں۔ ادھر میرے بہنوئی تکلیف سے تڑپ رہے ہیں اور ادھر یہ لوگ ہیں کہ اپنے مریضوں کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر عاصم بخاری سے چمٹ چمٹ کر سیلفیاں لے رہے ہیں۔“
”کیا کہا؟“
”میرا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟ تو کیا کروں یار؟ تم نے دیکھا نہیں کہ اتنے بڑے آرٹسٹ کتنے ڈاکٹروں سے جا کے ملے۔ کس کس کی منت سماجت نہیں کی ان بھلے مانس نے۔ کیا نتیجہ برآمد ہوا اتنی آہ و زاری کا؟ کسی بے حس ڈاکٹر نے ایک قومی فنکار کی کوئی سنی؟“
”کیا کہا؟“
”میں عاصم بخاری کے سامنے اس ڈاکٹر سے کیوں الجھ پڑا؟ تو پھر کیا کرتا؟ تم نے اس جانور صفت ڈاکٹر کی بات نہیں سنی تھی جو تازہ تازہ عمرہ کر کے آیا تھا۔ وہ خواہ مخواہ ہی بکواس کر رہا تھا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں ان لوگوں کے پاس رہنے کی جگہ بھی ہوتی ہے اور علاج کے انتظامات بھی، یہاں آ کے رونے دھونے لگتے ہیں کہ ہم ہوٹل میں رہ رہے ہیں اور ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، بس ہمارے مریض کو ایڈمٹ کر لو۔“
”کیا کہا؟“
”میں کیا چاہتا ہوں؟ کمال ہے یار، تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ میں کیا چاہتا ہوں؟ یار صاف بات ہے میرے بہنوئی کی اب اتنی تذلیل تو نہ ہو کہ وہ لیٹرینوں کے تعفن میں پڑے پڑے دم توڑ دیں۔ کم از کم انہیں جناح ہسپتال میں ایک کمرہ تو مل جاتا۔ بھلے علاج نہ ہو، کم از کم عزت کے ساتھ دم توڑنے کا تو حق تو حاصل ہے انہیں۔ آخر وہ اس ملک کے عزت دار شہری ہیں یار۔“
”کیا کہا؟“
”کسی اور سے رابطہ کروں؟ مگر کس سے؟ ہاں ہاں یاد آیا۔ ایک اور فیس بک فرینڈ ہیں، شاعر آدمی ہیں اور اس کے ساتھ ڈاکٹر بھی ہیں ڈاکٹر ابرار احمد۔“
”ہاں ہاں وہی نظم کے معروف شاعر ڈاکٹر ابرار صاحب۔ ان سے رابطہ کرتا ہوں، شاید بات بن جائے۔“
”ہاں بھئی دیکھ لو سامنے سے آتے ہوئے چشمہ لگائے گوری رنگت والے نظم کے وہی معروف شاعر ہیں، جن کو میں صرف فیس بک پر ہی دیکھا کرتا تھا، ہاں یہی ہیں ڈاکٹر ابرار صاحب۔“
”کیا کہا؟“
”ہاں یار۔ واقعی کمال ہو گیا، جس کام کے لیے میں جناح ہسپتال میں دو دنوں سے ذلیل خوار ہو رہا تھا اور ایک ایک ڈاکٹر کے تلوے چاٹ رہا تھا، ڈاکٹر ابرار صاحب کے آتے ہی وہ کام آدھے گھنٹے میں ہو گیا اور ان کی مہربانی سے میرے بہنوئی کو ہسپتال میں داخلہ مل گیا ہے۔“
”کیا کہا؟“
”ہاں ہاں۔ اب تو میں بہت خوش ہوں، کم از کم علاج نہ سہی، میرے بہنوئی عزت کے ساتھ ہسپتال کے کمرے میں لیٹے لیٹے زندگی کو الوداع تو کہہ سکیں گے۔“
”کیا کہا؟“
”ہاں یار۔ بہت دکھی ہوں، میرے بہنوئی ایک ہفتہ ایڈمٹ رہنے کے بعد آج 17 مئی 2014 کو انتقال کر گئے ہیں۔
”کیا کہا؟“
”میں اتنا مطمئن کیوں ہوں؟ ہاں تو مطمئن کیوں نہ ہوں یار؟ مانا کہ میرے بہنوئی کے نہ ٹیسٹ رزلٹ آئے، نہ تشخیص ہوئی اور نہ ہی ان کا علاج شروع ہو سکا مگر سوچو ذرا۔ اگر انہوں نے جناح ہسپتال کی لیٹرینوں کے ساتھ ہی پڑے پڑے دم توڑ دیا ہوتا تو میں اپنی بہن کو کیا منہ دکھاتا کہ ادیب ہوتے ہوئے بھی لاہور شہر میری کوئی واقفیت نہیں تھی؟ اب کم از کم وہ یہ تو کہہ سکتی ہے کہ میرے بھائی کی بڑی جان پہچان ہے کہ جس کی وجہ سے میرے شوہر کو جناح ہسپتال میں کمرہ مل گیا تھا۔“

