موسمیاتی تبدیلیاں: بیانیے کی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر مباحثے کا سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس تناظر میں حال ہی میں معروف امریکی ماحولیاتی سائنسدان اور ماہر ارضیات مائیکل ای مین کی کتاب The New Climate War منظر عام پر آئی ہے جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بیانئے کی جنگ کا تاریخی پس منظر اور اسباب نہایت مفصل انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے عالمی برادری کے پاس موجود مواقع اور رکاوٹوں پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو انیسویں صدی کے آخر میں سویڈن کے سائنسدان سوانتے آرہینس نے پہلی دفعہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت کی کہ Fossil Fuel یعنی تیل گیس، کوئلہ جیسے زمین سے نکلنے والے ایندھن جلانے سے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ واقع ہوتا ہے۔ اس کے بعد مختلف سائنسدانوں کی طرف سے یہ موقف سامنے آتا رہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے موسمیاتی تبدیلیاں برپا ہوتی ہیں۔ لیکن ابتدائی طور پر کلائمیٹ سائنس کمیونٹی کے درمیان اس سوال پر اختلاف رائے موجود رہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے آب و ہوا پر اثرات کو صنعتی سرگرمیوں یا فطرت کے نظام میں انسانی مداخلت سے سائنسی طور پر کیسے جوڑا جائے؟

بحر حال گزشتہ تین یا چار دہائیوں میں رفتہ رفتہ سامنے آنے والے سائنسی شواہد سے یہ بات ثابت ہونے لگی کہ حیاتیاتی ایندھن کے استعمال اور دیگر اسباب کے نتیجے میں ہماری فضا میں گرین ہاؤس گیسوں خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ دنیا بھر میں خطرناک موسمی حالات اور واقعات کا سبب بن رہی ہے۔

لیکن مائیکل ای مین کے مطابق جلد ہی فوسل فیولز انڈسٹری اور دنیا کے چند دوسرے بڑے بڑے صنعتی اداروں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب اور اثرات کے حوالے سے اس بیانئے کو رد کرنے کی بھرپور کوششیں شروع ہو گئیں جس میں مبینہ طور پر کارپوریٹ میڈیا نے بھی ایک کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیولز کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے کلائمیٹ کرائسس کے بیانئے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ایک منظم مہم چلائی گئی جس کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں اب تک جاری ہے۔ مائیکل ای مین کی یہ کتاب ”دی نیو کلائمیٹ وار“ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اس بیانئے کی جنگ کی تاریخ کا نہایت اچھے انداز میں احاطہ کرتی ہے۔

مائیکل ای مین کے مطابق گزشتہ کچھ دہائیوں میں سامنے آنے والے ٹھوس سائنسی شواہد اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں قطبی برف کے تیزی سے پگھلنے، ساحلی علاقوں کے ڈوبنے ٬ جان لیوا گرمی کی لہروں ٬ قحط٬ تباہ کن سیلاب٬ دنیا بھر کے جنگلوں میں لگنے والی آگ اور دیگر تباہ کن اثرات کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے مخالف بیانئے کی اس حد تک تو شکست واقع ہو گئی ہے کہ اب عوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا انکار آسان نہیں رہا۔

کیونکہ اب عالمی میڈیا پر ہم ہر روز آب و ہوا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں برپا ہونے والی تباہ کاری کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور روز بروز نئے سائنسی شواہد سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ماضی میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مکمل انکار کرنے والے حلقوں کی جانب ایک نیا بیانیہ تخلیق کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں اور حکومتوں پر پریشر کم کرنے کے لئے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عام آدمی کی طرز زندگی میں تبدیلی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

ویسے تو یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس عالمی بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے عام آدمی کو بھی اپنا موجودہ انداز زندگی بدلنا پڑے گا اور سفر سے لے کر گھریلو زندگی تک ماحول دوست رویے اپنانا پڑیں گے۔ لیکن جب تک سرمایہ داری نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، خاص طور پر صنعتوں کو متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل نہیں کیا جاتا، موسمیاتی تبدیلیوں کے جن کو بوتل میں بند کرنا مشکل نظر آتا ہے۔

اس حوالے سے کتاب میں ایک رپوٹ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق عام آدمی کے ذاتی اقدامات پر ضرورت سے زیادہ زور دینے سے کلائمیٹ چینج کے حوالے سے بڑی صنعتوں کو قابل احتساب بنانے اور حکومتی اور اعلیٰ سطح پر سخت پالیسیاں بنانے کے بیانئے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور خود ماضی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بیانئے کی مخالف قوتین اب ماحولیاتی کارکنوں اور سائنسدانوں کو انفرادی اقدامات کی حمایت کرنے والے اور اجتماعی طور پر سخت پالیسیز بنانے کی حمایت کرنے والے دو گروپوں میں تقسیم کر کے اپنا منافع بخش کاروبار اسی طرح جاری رکھنا چاہتی ہیں جسے مائیکل ای مین ”نیو کلائمیٹ وار“ کا نام دیتے ہیں۔

مائیکل ای مین موسمیاتی تبدیلیوں عمل کو روکنے کے لئے حکومتی اور پالیسی سطح پر فوری اصلاحی اقدامات کی مخالف لابی کو ”فورسز آف ان ایکشن“ کا نام دیتے ہیں جو صنعتی اداروں کی ماحولیاتی ریگولیشن ٬ کاربن اخراج پر قیمت مقرر کرنے اور معیشت کو تیل، گیس اور کوئلے کے بجائے متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل کرنے کے بجائے مسئلے کے مفروضوں پر مشتمل حل پیش کر کے کلائمیٹ موومنٹ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں وہ چاہتے ہیں کہ ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے کچھ ڈالر پھینکیں اور دنیا کو بدستور آلودہ کرتے رہیں۔ مطلب یہ کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایسے سخت اقدامات کو روکنا چاہتے ہیں جن سے ان کے کاروباری مفادات بڑے پیمانے پر متاثر ہوسکتے ہوں۔ اس سلسلے میں مصنف سابق امریکی صدر ٹرمپ کی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نقطۂ نظر کو اسی بیانئے کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

اپنی اس کتاب The new climate war کو لکھنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے مائیکل ای مین لکھتے ہیں کہ اس صورتحال میں جبکہ زمین پر انسان ذات اور دیگر مخلوق کے لئے شدید خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔ صورتحال کو اسی طرح صرف اس لیے چلنے دینا تاکہ دنیا کی بڑی صنعتی کارپوریشنز ہر سال ریکارڈ منافع کماتی رہیں نہ صرف غیر اخلاقی عمل ہو گا بلکہ یہ طرز عمل انسان ذات اور ہمارے سیارے کے مفادات کے خلاف ایک جرم تصور ہو گا۔ اور میرا یہ کتاب لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنے نہ رہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحول کی آلودگی کے حوالے سے بیانئے کی جنگ کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے مائیکل ای مین ایسے کئی حوالے دیتے ہیں جب صنعتی آلودگی کے حوالے سے خبردار کرنے والے سائنسدانوں کی کردار کشی کر کے انہیں غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس حوالے سے وہ خاص طور پر جدید ماحولیاتی تحریک میں ایک کلاسک کا درجہ رکھنے والی کتاب Silent Spring کا ذکر کرتے ہیں جو کہ 1962 میں ریچل کا رسان نے ڈی ڈی ٹی نامی دوا کے ماحولیاتی نقصانات کے حوالے سے لکھی تھی۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک اس سائنسدان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی گئی٬ تا وقت کہ ان نقصانات کا حکومتی سطح پر ادراک ہونے کے بعد 1972 میں ڈی ڈی ٹی پر امریکہ میں پابندی عائد ہوئی۔

چونکہ سائنسدانوں کی بات کو اس طرح کے موضوعات پر ایک سند مانا جاتا ہے اور ایک عام آدمی ان کو ایماندار بھی سمجھتا ہے اس لئے ان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ قابل اعتبار پیغام رسان سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ماحولیاتی بحران کی انکاری قوتین سائنسدانوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر ان کے حوالے سے عوامی اعتماد کو کم کرنا چاہتے ہیں بیانئے کی جنگ میں اس حکمت عملی کو مصنف پیغام رساں کو پیٹنے کی پالیسی کا نام دیتے ہیں۔

ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے یہ بیانئے کی جنگ 70 اور 80 کی دہائی میں بھی جاری رہی۔ جب کلوروفلور و کاربن کے اخراج کی وجہ سے اوزون لیئر کو پہنچنے والے نقصانات کی نشاندہی کرنے والے سائنسدانوں اور دیگر ماحولیاتی تحریکوں کو ڈس انفارمیشن مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن آخرکار ماحول دوست بیانئے کی جیت ہوئی۔ اور 1987 میں 40 ملکوں نے مونٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے ٬ اور سی ایف سی کی پیداوار پر پابندی لگائی گئی٬ اس سے اوزون تہہ میں سوراخ کی ساخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

آج کے دور میں بے پناہ سائنسی شواہد کی موجودگی میں موسمیاتی تبدیلیوں کا انکار ممکن نہیں رہا اور عوام الناس کی اکثریت اب موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔ لیکن اقلیت اب بھی ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بیانئے کو نظر انداز کر رہے ہیں اور مائیکل ای مین کے مطابق اس اقلیت کی سوچ کو کچھ میڈیا اداروں اور آن لائن میڈیا پر اس حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کے لئے مقرر کیے گئے لوگوں کی وجہ سے پذیرائی مل رہی ہے۔

ماحولیاتی بیانئے کی مخالفت میں پھیلائی جانے والی اس جھوٹی معلومات کے ذریعے دائیں بازو کے سیاستدانوں کو فوسل فیولز صنعتوں کے دفاع کا موقع ملتا ہے۔ دائیں بازو کے اس نئے بیانئے کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے انکار کے بجائے ان کے اثرات کو کم سطح پر الجھا کر پیش کرنا ہے۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کے اسباب موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں برپا ہونے والے غیر معمولی قحط اور گرمی تھے۔

لیکن کچھ سیاست دانوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے جنگلات کی حفاظت اور دیکھ بھال میں کوتاہی کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ اسی طرح برازیل کے صدر بھی ایمازون جنگلات میں لگنے والی آگ کو موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک کرنے سے انکار کرتے نظر آئے۔ آسٹریلوی جنگلات میں لگنے والی آگ کے متعلق چند میڈیا اداروں کی جانب سے اس مفروضے کو ہوا دی گئی کہ جنگلات میں لگنے والی آگ کا سبب آتشزدگی ہے حتیٰ کہ خود رابرٹ مردوک کے بیٹے نے ایک بیان میں اس پروپیگنڈہ پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اب ایک بات واضح ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا انکار ایک ایماندار تجزیہ نگار کے لئے ممکن نہیں رہا۔ مائیکل ای مین کے مطابق یہ اثرات اب ہمارے پیروں تک پہنچ چکے ہیں اور غیر معمولی سیلاب٬ طغیانی کی وجہ سے سمندر برد ہونے والے ساحلی علاقے ٬ خطرناک طوفان٬ غیر معمولی قحط ٬ شدید گرمی کی لہروں سے جنگلات میں لگنے والی آگ کے واقعات ہمیں ہر روز اس بات کا احساس دلا رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہمیں ہر طرف سے گھیر چکی ہیں ٬ اب ہر سال موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری معیشت کو ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے۔

حال ہی میں پینٹاگون کی طرف سے کرائی گئی ایک تحقیق کے مطابق آئندہ صدی کے وسط تک موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بجلی پانی اور خوراک کے نظاموں کے بیٹھنے کا خطرہ موجود ہے۔ اب موسمیاتی تبدیلیاں ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی اور سلامتی کا مسئلہ بن گئی ہیں۔ ان حقائق نے ماحولیاتی بیانئے کے مخالف سیاستدانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے اور وہ سب آزاد منڈی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے حل پر مشتمل بیانئے کی وکالت کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں مصنف مستقبل میں آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں کو دی گئی مراعات کے خاتمے اور کاربن اخراج کی قیمت مقرر کرنے پر زور دیتے ہین۔ ساتھ ساتھ وہ توانائی کے متبادل اور ماحول دوست ذرائع میں سرمایہ کاری اور ایسی صنعتوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کی وکالت کرتے ہیں جو مستقبل کی سبز معیشت کی طرف پیش قدمی میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہین

اس کے ساتھ ساتھ مصنف ایسے ماحولیاتی کارکنوں اور سائنسدانوں کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سائنسی شواہد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ مائیکل مین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے یقینی تباہی کے قیامت خیز منظر نامے پر مشتمل بیانیہ شدید مایوسی٬ بے بسی اور بے عملی جیسے رویوں کو جنم دے رہا ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کے خیالات کی تشہیر سے یہ تاثر قائم کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات یقینی ہیں اور اب ان کا تدارک کسی طرح ممکن نہیں۔

یا پھر کسی طرح کے اصلاحات کے لئے بہت دیر ہو چکی ہے ٬ اور اب ہمیں مکمل تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس طرح کے مبالغہ آرائی پر مشتمل بیانئے کو میڈیا میں پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ میڈیا منڈی میں اس طرح کا مواد بہت تیزی سے بک جاتا ہے لیکن یقینی تباہی کے قیامت خیز منظر نامے پر مشتمل یہ بیانیہ دراصل ماحولیاتی آلودگی کے ذمے دار سرمایہ داروں کے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ ان کو بے عملی کا جواز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحریک میں تقسیم کا سبب بھی بن رہا ہے۔ اس لئے مصنف کا خیال ہے کہ ماحولیاتی سائنس دانوں اور کارکنوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ اس بحران کے حل کے لئے موجود مواقع پر بھی بات کرنی چاہیے۔

بحران کے حل کے لئے مصنف کاربن کے اخراج کی ایک قیمت مقرر کرنے پر زور دیتے ہیں جسے ماحولیاتی کارکن کاربن پرائسنگ کا نام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمیں اس طرح کا نظام اپنانا پڑے گا جس میں ہم آلودگی پیدا کرنے والی مصنوعات کو اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر کے توانائی کے متبادل ذرائع استعمال کرنے والی صنعتوں کے مفادات تحفظ کر سکتے ہیں جو ہمارے سیارے کو تباہ کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے ہیں۔

اسی طرح کاربن کریڈٹ کی پالسی کے تحت ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو فضا سے کاربن کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں مین 2015 میں ہونے والے پیرس معاہدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جس میں پوری دنیا کی حکومتوں کو صنعتی انقلاب کے بعد درجہ حرارت کی سطح کو دو ڈگری سے کافی حد تک کم رکھنے کے لئے بنیادی اقدامات کرنے، غریب ممالک کی موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلے کی استطاعت بڑھانے، سرمایہ کاری کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے ترقیاتی منصوبوں سے مشروط کرنے جیسے اقدامات شامل تھے۔

اسی تناظر مین آئندہ ہفتے گلاسگو میں ایک اہم کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں پیرس معاہدے پر اب تک ہونے والی پیشرفت اور حال ہی مین انٹر گورنمینٹل پینل آن کلائمیٹ چینج کی رپوٹ پر بحث اور مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کا امکان ہے۔ لیکن اس صورتحال میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بیانئے کا تضاد موجود ہے۔ دنیا بھر کے ماحولیاتی کارکن جن میں نوجوانوں کی تحریک کی رہنما گریتا تھنبرگ بھی شامل ہین حکومتوں پر باتوں میں وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نظام معیشت کو ڈی کاربنائیز کرنے سمیت انقلابی نوعیت کی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں یہ ماحولیاتی کارکن مستقبل کے ایک تباہ کن منظرنامے سے بچنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات چاہتے ہیں جبکہ دنیا کی حکومتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے بیانئے کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنے معاشی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بحران سے نبردآزما ہونا چاہتی ہین۔

اس حوالے سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کا بھی الگ نقطۂ نظر ہے جس کے مطابق ماحولیاتی بحران کو پیدا کرنے میں مرکزی کردار ترقی یافتہ دنیا کا ہے جبکہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر غریب ممالک کے لوگ ہو رہے ہیں اس لیے بحران کو حل کرنے کی ذمہ داری بھی امیر ممالک کو لینی چاہیے۔ اور غریب ممالک کی صنعتی ترقی اور اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی ترجیحات کو متاثر کرنے کے بجائے سخت اقدامات میں امیر ممالک کو پہل کرنی چاہیے۔

اس طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بیانئے کی یہ جنگ اب بھی جاری ہے اور جیسے جیسے اس بحران کے تباہ کن اثرات دنیا کے سامنے آتے جا رہے ہیں بیانئے کی جنگ میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی بیانئے کی اس نئی جنگ میں ماحولیاتی کارکنوں کو نرم انکار٬ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم ظاہر کرنے ٬ الجھاء پیدا کرنے ٬ تاخیری حربوں اور شدید مایوسی پیدا کرنے جیسی چالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کے خطرناک منفی اثرات پر مفصل بحث کے بعد کتاب کے آخری باب میں مصنف اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں اس بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے پر امید ہیں۔

اور وہ اپنی یہ امید ہمارے زندگی گزارنے کے طریقوں میں تبدیلی، ماحول دوست صنعتوں اور رویوں کے لیے حکومتی مراعات، حکومتوں کے درمیاں معاہدوں اور ٹیکنالوجی کی دنیا مین نئی ایجادات سے جوڑتے ہین۔ وہ آج کے دور کو تاریخ کا ایک منفرد زمانہ قرار دیتے ہین جب ہمارے پاس اس حوالے سے پرامید رہنے کے اسباب موجود ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments