حکمرانی یا خیرخواہی


آدم زاد جب گمراہی کا شکار ہوا تو سب سے پہلے اس نے اپنے ہی بھائی بندوں پر خدا کی زمین تنگ کرنا شروع کی تو اللہ تعالی نے اس کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انہیں میں سے اپنے خیرخواہ لوگوں کی ایک پاکباز جماعت بھیجی جو وقتا فوقتاً بگڑے لوگوں کو ان کی حد یاد دلانے کے ساتھ ساتھ پسے ہووں کو زندگی بخشی۔ اس پوری جماعت میں جو تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا پر مشتمل تھی اس میں ایک دو کے علاوہ کسی نے بھی حکومت نہیں کی مگر سب کا مقصد بنی نوع انساں کی خیرخواہی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اور ان پاک روحوں کی حکومت کی اساس بھی خیرخواہی کے سوا کچھ نہ تھی۔ چنانچہ اسلام کی طرح تمام الہامی مذاہب کی روح خیرخواہی ہی ہے۔ آقائے دوجہاں ﷺ کا ارشاد مبارک ہے

” دین صرف خیرخواہی ہے“

تمام مذاہب کا جائزہ لیں تو اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ تمام مذاہب الہی بشمول اسلام حکومت یا سیاست کا نام نہیں بلکہ دعوی و خیرخواہی کا نام ہے۔ آج ہم ببانگ دہل منبر و محراب سے اعلان کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام تلوار سے نہیں بلک خیرخواہی سے رواں دواں ہے۔ لیکن آج اپنا پرایا کوئی ہماری بات ماننے کو تیار تک نہیں۔ کیونکہ ہم حقیقی خیرخواہی کے نام سے بھی واقف تک نہیں جس کی وجہ سے ہماری زبان و عمل مخالف سمتوں میں ہیں۔ اور یوں جھوٹ ؛ ذلت و گمراہی کے کرداروں کی تو کوئی کمی نہیں مگر خیرخواہی و بھلائی کی نیک روحیں کب کی معدوم ہو چکی ہیں۔ لہذا دنیا ہمیشہ سچوں اور خیرخواہوں پر یقین کرتی ہے نہ کہ جھوٹوں یا ٹھگوں پر۔

جب ہم اسلام کی ابتدائی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات عیاں ہے کہ اسلام میں طرز حکومت یا سیاست آنے سے پہلے اسلام حبشہ جیسے ملک کو بزور دعوۃ و خیرخواہی فتح کر چکا تھا۔ اسی طرح کئی ممالک جیسے ملائشیا و انڈونیشیا کو اسلام نے دعوۃ و اخلاق سے فتح کیا نہ کہ حکومت کے سر پر۔ مگر افسوس کہ آج ہم سب نے خیرخواہی کے جذبے کو دفن کر کے حکومت و حکمرانی کے درپے ہیں۔ ملاء مفتی پیر فقیر ہم سب جائز و ناجائز خلافت و حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں چاہے اس کوشش میں ہمارے علاوہ نسل انسانی کے تمام سر تن سے جدا ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ مگر اس ساری کوشش میں ہم معاشرہ میں نفرت تو بے دریغ بانٹ رہے ہوتے ہیں مگر اخلاق و خیرخواہی سراغ تک نہیں ملتا۔

ہم یہ بالکل بھول چکے ہیں کہ حکومت و سیاست علاقوں کو تسخیر کرتی ہیں تو اخلاق و خیرخواہی دلوں کو۔ اسلام کے عین عروج کے زمانے میں بھی جو قلعے تلوار سے فتح نہ ہو سکے وہی دعوت و اخلاق سے ہوئے۔ اسلام نے شدت پسندی اور ٹکراوؑ سے ہمیشہ بچنے کی عملی تلقین کی۔ اگر جنگ و ٹکراوؑ سے بچنے کے بیسیوں طریقے ہوں تو ہر طریقے کو ٹکراوؑ سے بچنے کے لیے استعمال کرنے پر اسلام میں زور دیا گیا ہے۔ اور ٹکراؤ سے بچنے کو ہی فتح مبین قرار دیا گیا جیسے کہ صلح حدیبیہ۔ کیونکہ اصل فتح تو دعوۃ و اخلاق کی فتح ہے۔

مسلمانوں نے جو آشیانہ سیاست کی شاخ پر بنایا نا پائیدار ہی رہا۔ مثلاً جزیرہ بلقان کے ممالک یونان ؛ البانیہ ؛ یوگوسلاویہ ؛ بلغاریہ ؛ رومانیہ وغیرہ پندرویں صدی میں بزور بازو خلافت عثمانیہ کے قبضے میں آ گئے اور بیسویں صدی تک قبضے میں رہے ان ممالک میں آزادی کی تحریکیں اٹھیں اور بیسویں صدی کے آغاز تک یہ تمام ممالک اپنے مذاہب سمیت آزاد ہو گئے۔

خلافت کے پاش پاش ہو نے کی یہ خبر جب ہندوستان پہنچی تو یہاں کے مسلمانوں میں اضطراب و ہیجان برپا ہو گیا حتیٰ کہ مولانا محمد علی جوہر نے یہاں تک لکھا کہ میں اس واقع سے اس قدر دلبرداشتہ ہوا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں خود کشی کر لوں۔ 30 مارچ 1924 کو کمال اتاترک نے سرکاری اعلان کے ذریعے برائے نام خلافت کا بھی مکمل دروازہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور یوں محمد علی جوہر نے اسلام کو خلافت سمجھ لیا تھا نے خلافت کے خاتمہ کو اپنی یقین کی آنکھ سے دیکھا۔

خیرخواہی اور اخلاقی اقدار کے کمزور پڑتے ہی خلافت و حکومت پاش پاش ہو گئی اور مسلمان بحیثیت قوم ہر طرح کی ذلت و بربادی سے دو چار ہیں مگر اسلام کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہے۔ اسلام پہلے سے زیادہ تابندہ و تاباں ہے۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد میں کروڑوں میں اضافہ ہوا جو دن بدن جاری و ساری ہے۔ آج اسلام کی تحقیق و اشاعت پر جتنی کتابیں ؛ جرائد اور لیکچر چھپ رہے ہیں پہلے ان کا ہزارواں حصہ بھی موجود نہ تھا۔

سر سید اور مولانا شبلی کو جن کتابوں کے لیے برطانیہ ؛ روم و مصر جانا پڑتا تھا آج وہ آپ کی انگلیوں کی زینت ہیں۔ آج لاکھوں مساجد دنیا کے ہر ملک میں آباد و سر شار ہیں آج پہلے سے زیادہ اسلامی ادارے دنیا میں قائم ہیں آج جتنی اسلامی کانفرنسیں اور اجتماعیت دنیا میں منعقد ہو رہے ہیں پہلے ان کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ آج اسلام سمندر کی طرح آزاد ہے اور مسلمان اپنی جاہلیت و خواہشات میں قید و بند۔

اسلام انسان کی فطرت ہے جو ہر مسلم و منکر کے ضمیر میں شامل ہے۔ اسلام انسان کا اندر ہے کون ہے جو اپنے آپ کی نفی کرے؟ کون ہے جو اپنے آپ سے لڑے؟ اسلام کو مٹانے کے لیے اپنے آپ کو مٹانا پڑے گا۔ انسان ہے تو اسلام ہے اسلام کو مٹانے کے لیے مسلمان نہیں انسان مٹانے پڑیں گے خیر خواہی کو مٹانا ہو گا۔ ضمیر مارنے پڑیں گے۔

عصمت انونو کمال اتاترک کے دست راست تھے۔ وہ کمال اتا ترک کی وفات کے بعد ترکی کے صدر بنے اور کمال اتاترک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کو ہٹا کر جارحانہ لادینیت کو فروغ دیا۔ مگر ان کی زندگی کے آخری لمحات کے آخری لمحات کچھ یوں تھے۔

”ہم نے اپنے بس میں تمام کوششیں کیں کہ ترکوں کے دل سے اسلام کو نکال دیں اور اس کی جگہ مغربی تہذیب کو داخل کر دیں مگر حیرت انگیز طور پر نتیجہ ہماری توقعات کے خلاف نکلا۔ ہم نے سیکولر ازم کا پودا لگایا مگر اس سے جو پھل نکلا وہ اسلام تھا“

اسی طرح تاتاری اسلامی تاریخ کا سب سے خوفناک واقعہ ہیں ان کا اتنا خوف مسلمانوں پر طاری ہوا کہ کہا جانے لگا

” اگر کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا کیے ہیں تو یقین مت کرنا“

مگر شاید دنیائے کفر اور قابل رحم مسلمان یہ بھول بیٹھے تھے کہ محبت و خیرخواہی کا نشانہ دل ہوتا ہے دل کی تسخیر پورے بدن کی تسخیر ہوتی ہے۔ تشدد و تلوار سے زمین و بدن تو فتح کیے جا سکتے ہیں مگر دل نہیں۔ گویا جہاں تاتاریوں نے سر تسخیر کے وہاں اسلام نے ان کے دل۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ جنہوں نے اسلام کی عمارت کو ڈھایا تھا وہی تعمیر کرنے والے بن گئے۔

اسلام کی محبت و اخلاق کی اس فتح کا تذکرہ کرتے ہوئے پریچینگ آف اسلام میں پروفیسر آرنلڈ لکھتے ہیں۔
فاتح (تاتاری) نے مفتوح (مسلمان) کے مذہب کو اختیار کر لیا۔
پروفیسر فلپ ہٹی نے اس تسخیر اخلاق کو ہسٹری آف عربز میں یوں لکھا۔
” مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے“ ۔

لہذا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہر انسان ہی اسلام کی فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے اور اسلام اس کا ضمیر ہے جو اس کے خون کے ساتھ دوڑتا ہے۔ یہ دینے اور عطا کرنے والا دین ہے نہ کہ لینے والا۔ اس کی طاقت پسا ہو طبقہ ہے جسے آج ہم سب حسب توفیق پیس رہے ہیں اس دین کی قوت اپنے پرائے کی خیرخواہی ہے نہ کہ حکومت و خلافت۔ یہ دین نیچے سے اوپر پھیلا ہے اوپر سے نیچے نہیں۔ اس کی بنیادیں محبت و خیرخواہی سے گوندھی گئی ہیں۔

اس کے نزدیک طاقتور کمزور ہے اور کمزور طاقتور۔ یہ دین باہر نہیں انسان کا اندر ہے۔ یہ دین حکمرانی نہیں عاجزی ہے۔ یہ احساس ہے خیرخواہی ہے۔ دین اسلام منکر کی بھی تواضع کا نام ہے۔ پتھر مارنے والوں کی بھی خیرخواہی کا نام۔ کانٹے بچھانے والوں کی تیمارداری کا نام۔ تھوکنے والے کو زندگی دینے کا نام ہے۔ آج آئے نادان جو تجھ سے کھو گئی ہے وہ خلافت و حکومت نہیں بلکہ اسلام کی محبت اور نبی ﷺ کی رحمت ہے۔

Facebook Comments HS