”وسے پور“ کے مذبح خانے


برٹش سامراج طاقت اور لوٹی ہوئی دولت کے بل بوتے پر متحدہ ہند میں راج کر رہا تھا اور خلق خدا کو مکمل انصاف دلانے کی خاطر نظام عدل میں وہی منصف تعینات کیے جا رہے تھے، جن کی ذمہ داری برطانوی وضع کردہ انصاف دینے کے علاوہ کچھ نہ تھا، حالانکہ اس زمانے میں ”نسلہ ٹاور“ ایسی قبضہ شدہ ایستادہ عمارتیں بنانے کا چلن نہ تھا مگر پھر بھی برطانوی جاہ جلال کے قبضوں پر منصف کی نظر ڈالنا اور اس کے بارے میں عدالت میں ذکر پر پابندی تھی۔ پھر کیا تھا، اس عدالتی رعائت کی آڑ لے کر کچھ منچلوں نے جھاڑ کھنڈ سے ذرا پرے انسانوں کے مذبح خانے قائم کر لئے اور قبیلوں کے جھگڑے یا ان کے مقابل آنے والوں کے ان مذبح خانے میں ٹکڑے ٹکڑے کیے جانے کا کام لیا جانے لگا، اور مجال کہ برطانوی سامراج کے ہرکارے یا ان کے مقرر کردہ منصف کی نظر ان انسانی مذبح خانے پر پڑی ہو، وہ تو بھلا ہو سلطانہ ڈاکو کا کہ اس نے راجہ مہاراجاؤں کی لوٹ مار کے جدید طریقے وضع کیے اور یوں جب مذبح خانے کی رونقیں ماند پڑنا شروع ہوئیں تو اس سمے برطانوی سامراج خواب خرگوش سے اٹھا اور ریاست میں حکم جاری کیا گیا کہ لٹیرا سلطانہ ڈاکو ریاست کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے لہذا فوری طور سے مہاراجاؤں کی لوٹی دولت کو محفوظ کرنے کی خاطر سلطانہ ڈاکو کو گرفتار کر کے لوٹ کھسوٹ کا بازار بند کیا جائے، البتہ اس لوٹ مار کے نتیجے میں غیر آباد رہنے والے انسانی مذبح خانے کی طرف کسی کی توجہ نہ گئی اور یوں ”وسے پور“ کی بستی قتل و غارت اور افراتفری کا گڑھ بنی رہی جبکہ ریاستی امور بھی سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری کے بعد اطمنان سے چلائے جاتے رہے اور ”وسے پور“ کے انسانی مذبح خانے ویسے ہی آباد رہے، جیسا کہ تھے، کیونکہ ”وسے پور“ کی قتل گاہ سے نہ برطانوی سامراج کو کوئی خطرہ لاحق تھا اور نہ ہی وہاں برطانوی طمنچے بردار نظام والوں کی رسائی تھی، اور نہ ہی برطانوی انصاف کے منصفوں کی ہمت تھی کہ وہ ”وسے پور“ کے مذبح خانوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں۔

یہ نہ کوئی من گھڑت قصہ ہے اور نہ ہیجان بپا کردینے والا واقعہ بلکہ یہ جھاڑ کھنڈ کے نزدیک واقع ”وسے پور“ میں جاری رہنے والے ظلم و نا انصافی اور لا قانونیت کا وہ دل اندوہ منظر نامہ ہے جس کے ڈانڈے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج کی بے حسی کے دور اقتدار سے ملتے ہیں، ان دلسوز واقعات کو آج سے نو سال قبل 2012 میں ہندی فلم نگری کے ہدایت کار انو راگ کشیا نے ہدایت کاری کی مہارت سے فلمایا جبکہ ”وسے پور“ کے پوت ذیشان قادری نے عرق ریزی سے اس پورے منظر نامے کو تحریر کر کے یہ تاریخی حقائق عوام کے سامنے فلم کے ذریعے لائے، ذیشان قادری نے اس فلم میں اداکاری بھی کی اور اس کے دوسرے حصے کو بھی مہارت سے لکھا، جس بنا یہ فلم عالمی ایوارڈ کی حقدار ٹھہری، جبکہ ہمارے ہاں جمہوری دور میں سماج کے زمینی حقائق پر مبنی شوکت صدیقی کا ڈرامہ ”جانگلوس“ بھی سرکاری ٹی وی پر نہیں چلنے دیا گیا۔

آج جب میں اپنے بوڑھے، ناتواں اور بے سمت ستر برس کے لاغر ملک میں عوام کو فاقوں میں بلکتا، بچوں کو معاشی مجبوری کے تحت نا خواندہ، طلبہ کی تعلیمی اور سیاسی آزادی کو پابہ زنجیر دیکھتا ہوں، مزدوروں کی محنت کا استحصال دیکھتا ہوں، خواتین کی ریاستی رٹ میں عصمت دری اور بے توقیری پر نظر ڈالتا ہوں یا بے روزگاری کا ناگ پورے سماج پر پھن پھیلائے ہر بشر کو ڈسنے پر آزاد دیکھتا ہوں، تو میرے پاس سوائے دھاڑنے کے اور کوئی راستہ نہیں بجتا۔

ان متذکرہ کے مقابل بالا دست حکومتی عہدیداران اور اقتدار کے مضبوط ستونوں سے چمٹے اصل حکمران دیکھتا ہوں تو مجھے یہ پورا سماج ”وسے پور“ کے اس غنڈہ راج کا سماج لگتا ہے جس کے ہاتھ میں بندوق اور بم ہیں اور وہ اپنی طاقت کے بل پر عیاشی بھی کر رہا ہے اور اپنی من مرضی بھی، بلکہ اب تو ستر برس کے اس بوڑھے سماج میں احتجاج کے طور طریقے بھی ریاست نے اپنے جبریہ بیانئے کی طرح تشدد زدہ کروا دیے ہیں۔

اب اس مملکت میں جمہوری احتجاج کے آئینی طریقوں کے مقابلے میں تشدد پسند گروہ دھرنے کی تراکیب استعمال کر کے پورے سماج کو ذبح کر رہے ہیں اور حکمران طبقات اپنے پالتوؤں کی ہر ناجائز بات ماننے پر مجبور ہو کر سماج کو ”وسے پور“ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں جبکہ عوام بھونچکا بنے طاقت اور بندوق کے نظام میں معاشی طور سے تنگ دستی سے بدتر حالت میں ہر لمحے مر رہے ہیں۔ دوسری جانب نا اہل اور لاقانونیت پرست حکمران ان شدت پسندوں کے ہاتھ پاؤں جوڑ کر ترلے کر رہے ہیں کہ شاید ان شدت پسندوں کے پاس تشدد کی ریاستی طاقت ہے۔

اس سماج میں حکمران طبقات نے لاقانونیت کا ایسا نظام وضع کر دیا ہے کہ اب نوجوان نسل جمہوری اور سیاسی طور طریقوں کے مقابل تشدد، زور زبردستی اور لا قانونیت کو ہی اپنی ذات اور سماج میں رہنے کا باضابطہ طریقہ سمجھنے لگے ہیں، استحصال کرنے والے کو مجرم سمجھنے کے بجائے مسند عطا کی جاتی ہے جبکہ استحصال زدہ محنت کش عوام کو راندہ درگاہ کر کے ریاستی طور سے بے توقیر بنا دیا گیا ہے۔

اس درمیان ہمارے بھونپو قسم کے درباری تاریخ دان، ماہر اور مبصر نسل جدید کے سامنے آزادی اور برطانوی سامراج کی غلامی سے نجات کا ڈھول بجاتے نہیں تھکتے۔ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ جو درباری تاریخ دان عوام کے گھروں میں رسم و روایات اور تہذیب کے نام پر غلامانہ مزاج ختم نہ کرا سکے ہوں وہ وطن کی آزادی کا ڈھول پیٹ کر کیا عوام کو سماجی آزادی، تحریر تقریر اور اظہار رائے کی آزادی دلا سکیں گے۔ کیا ہم مسلسل اپنے ہی بنائے قوانین میں مراعاتی ترامیم کے ذریعے ذبح کیے جاتے رہیں گے؟ اور اپنی نسلوں کو ترکے میں برطانوی راج کا ”وسے پور“ کا جدید مذبح خانہ دیں گے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 15 posts and counting.See all posts by waris-raza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments