بلدیاتی انتخابات اور عوامی توقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلدیاتی حکومتیں ایک محدود علاقے میں اقدامات کا تعین اور ان پر عمل درآمد کا اختیار رکھتی ہے۔ مقامی حکومت کا نظام تمام جمہوری ممالک میں مختلف ناموں سے نافذ ہے۔ یہ نظام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ مقامی حکومت فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے علاقے میں آزاد ہوتی ہیں۔ بلدیاتی حکومتوں کو جمہوریت کی نرسریاں کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ ان اداروں کے ذریعے سے لیڈرشپ ابھر کر آتی ہے۔ یہاں جمہوریت کے رموز اوقاف سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔

بہت سے ممالک میں بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ مختلف ممالک میں لوکل گورنمنٹ کے ادارے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ہر ملک میں مختلف اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ مقامی سرکاری اداروں کے نامزد کردہ مشترکہ ناموں میں ریاست، صوبہ، علاقہ، کنٹونمنٹ بورڈ، ، کاؤنٹی، صوبہ، ضلع، شہر، بستی، قصبہ، برو، ولیج یا نیبر ہڈ کونسل، تحصیل کونسل، پیرش، بلدیہ، شائر، گاؤں، وارڈ، لوکل سروس ڈسٹرکٹ اور لوکل گورنمنٹ ایریا شامل ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہمیشہ غیر جمہوری حکومتوں نے کیا۔

جیسے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کیوں کہ سیاسی حکومتیں ہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے کتراتی رہتی ہے۔ بلدیاتی ادارے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پیدائش رجسٹریشن سے لے کر ترقیاتی کاموں تک ان کے ذمہ ہیں۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ہر تحصیل کے سطح پر مختلف امور کو سرانجام دیتا ہے۔ جیسے میونسپل ذمہ داریاں بازاروں، مارکیٹوں کی دیکھ بھال، لائسنس کا اجراء، سرکاری املاک اور جائیداد کی دیکھ بھال، سائن بورڈز، اشتہارات، میلہ مویشیاں، پارکوں، پارکنگ سمیت مختلف امور کی نگرانی، جرمانے، بس اڈوں کی نگرانی شامل ہیں۔

منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے۔ جن میں نکاس آب، بنیادی سہولیات کی دیکھ بھال اور فراہمی، صفائی، گلیوں کی نگرانی، ٹریفک نظام اور اشاروں کی تعمیر، سائن بورڈز کی تنصیب اور منصوبہ بندی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا کام ہے۔ مالیات اور ٹیکسوں کی وصولی کا کام، لوکل فنڈ ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ بچوں کا اندراج پیدائش، شادی رجسٹریشن، وغیرہ جیسے امور بھی بلدیاتی اداروں کی ذمہ ہے۔

لہذا ان کی اہمیت کی پیش نظر سیاسی حکومتوں میں ایم این ایز اور ایم پی ایز نہیں چاہتے ہیں کہ بلدیاتی ادارے فعال ہو۔ ویسے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کام قانون سازی کرنا ہے۔ لیکن جنرل ضیاء الحق نے ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے نام پر ان کو نوازنا شروع کیا۔ ان اداروں کے لیے کوئی نئے فنڈز نہیں ملتے بلکہ ان اداروں کو حکومت کی طرف سے ہر سال فنڈنگ ہوتی ہے۔ ان اداروں میں عوامی نمائندگی نہیں ہوتی ہے۔ لہذا بلدیاتی انتخابات کے ذریعے ان اداروں میں عوامی نمائندوں کے ذریعے منصوبہ بندی ہوتی ہے۔

اور عوامی ترجیحات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس لیے جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کو التواء کا شکار کرتی ہیں۔ موجود دور میں بھی یہی ہوتا رہا لیکن سول سوسائٹی اور سپریم کورٹ کی جانب سے ہدایات کی روشنی میں بالآخر حکومت خیبر پختونخوا نے آمادگی ظاہر کی۔ اگلے مرحلے میں بلوچستان اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ چونکہ بلدیاتی ادارے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لہذا ایم این ایز اور ایم پی ایز ان اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔

یہ ادارے روٹین میں سہولیات اور منصوبہ بندی کرتے ہے۔ لیکن ایم این ایز اور ایم پی ایز ان کو ہائی جیک کرتے ہیں۔ اور ان منصوبوں پر اپنے ناموں کی تختیاں لگاتے ہیں۔ اس لیے پہلے تو وہ بلدیاتی انتخابات نہیں چاہتے ہیں اگر انتحابات ہو تو اپنے خاندان تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ بندر بانٹ میں آسانی رہے اس لیے ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ہر جائز و ناجائز طریقہ کار کو استعمال کر کے اپنے بندوں کو بلدیاتی ادارے میں لائے۔

چونکہ بلدیاتی ادارے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہذا عوام کو ان انتخابات سے زیادہ توقعات وابستہ ہوتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ووٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کو ووٹ دے۔ جو پاک صاف کردار کے حامل ہو۔ جن کو بلدیاتی ادارے کے بارے میں معلومات ہو۔ جو ان اداروں کے قوانین اور شرائط سے آگاہ ہو۔ ان انتخابات میں امیدواروں کا محاسبہ باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی امیدوار کو بلدیاتی ادارے کا پتہ نہ ہو۔

تو ایسے امیدواروں کو ہر گز ووٹ نہ دے۔ جو امیدوار چاپلوس اور چمچہ گیر ہو۔ ان سے دور رہیں۔ کیوں کہ وہ کبھی آپ کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتے ہے۔ جو امیدوار پیسوں کا استعمال کر رہا ہوں ان سے بھی دور رہے۔ کیونکہ ووٹ پیسوں سے نہیں لیا جاتا۔ پیسوں کا بے دریغ استعمال وہ لوگ کرتے ہیں۔ جن کی ترجیح عوام کی خدمت نہیں۔ بلکہ ذاتی مفادات ہو۔ ویسے بھی پیسوں کا بے دریغ استعمال الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ چونکہ یہ انتخابات ایک محدود پیمانے پر ہوتے ہیں لہذا آپ بہتر انداز میں امیدوار کو جانچ سکتے ہیں یہ موقع ہے۔ امیدوار کو ووٹ اہلیت کی بنیاد پر دو نہ کہ دولت کی بنیاد پر۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments