سردار خالد ابراہیم خان: سیاسی تربیت گاہ جو اب نہ رہی


وقت کی رفتار آپے سے باہر ہے۔ ابھی کل ہی کی بات تھی کہ اسلام آباد کے ایک کیفے میں سردار خالد ابراہیم خان کے ساتھ نشست جاری تھی۔ نومبر کی دو تاریخ اور شام کا وقت تھا۔ اس شام میں خزاں کی مخصوص اداسی چھائی تھی لیکن کیفے میں موجود راقم سردار خالد ابراہیم خان کے چہرے پر بلا کی تازگی اور جذبات میں نوجوانوں سی حدت محسوس کر رہا تھا اور سردار خالد ابراہیم خان صاحب بغیر کسی توقف کے تاریخی حوالوں سمیت فلسفیانہ انداز میں گفتگو فرما رہے تھے۔ افسوس وہ لمحات ساکت نہ ہو سکے اور آج سردار خالد ابراہیم خان کو اس جہاں سے گزرے ہوئے تین برس بیت گے!

بہر کیف دنیا کا چلن یہی ہے اور بقول شیکسپئر دنیا ایک سٹیج ہے اور یہاں ہر شخص ایک مخصوص وقت کے لئے آتا ہے اور اپنا کردار نبھا کر چلا جاتا ہے پر یاد وہی رہتا ہے جس نے کسی اصول اور مقصد کے حصول کے لیے زندگی گزاری ہو۔ سردار خالد ابراہیم خان بھی انہی گنتی کے لوگوں میں سے ہیں جن کا سیاست میں یادگار کردار دہائیوں تک تقریر و تحریر میں دوہرایا جاتا رہے گا۔

بات چلی ہے مقصد کی تو اسی طرح کی کسی ایک اور شام راقم نے سردار خالد ابراہیم خان سے گفتگو کرتے ہوئے جرات کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ آپ کی طویل سیاسی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی ہے اور آپ بانی آزاد کشمیر سردار محمد ابراہیم خان کے بیٹے بھی ہیں لیکن پھر بھی آپ کبھی بھی ریاست کے دو بڑے عہدوں سے کوئی حاصل نہیں کر سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی چھوڑ کر آپ نے اپنی جماعت (جموں کشمیر پیپلز پارٹی) بنائی لیکن وہ پارلیمانی جمہوری اصولوں کے اعتبار سے بھی زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی اور ایک یا دو نشستوں تک ہی محدود رہی۔

کیا یہ آپ کی ناکامی نہیں ہے اور کیا آپ اپنی سیاست سے مطمئن ہیں؟ اس پر بغیر کسی توقف کے بولے کہ اقتدار حاصل کرنا کبھی بھی مشکل نہیں رہا لیکن جن شرائط پر آج کل اقتدار مل رہا ہے وہ قبول کرنا ممکن نہیں اور ویسے بھی اقتدار حاصل کرنے کو میں سیاست کا ایک حصہ سمجھتا ہوں نہ کہ منزل۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا سیاست کرنے کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوام کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی تربیت کرنا ہے۔

اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر میں نے سیاست کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے عملی جدوجہد سے سیاست میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کی ہے نہ کہ سردار محمد ابراہیم خان کے بیٹے کی حیثیت سے کوئی مراعات حاصل کرنے کا سوچا ہے۔ سیاست میں مستقل جدوجہد کو اصل ریاضت سمجھتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنی سیاست سے مطمئن ہوں اور میرے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ کوئی ایک نوجوان بھی سیاست کے ان اصولوں پر عمل پیرا ہو سکے اور باوقار سیاست کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کا نوجوان سیاست میں موروثیت، پیسے اور سیاستدانوں کے غلط کردار کی وجہ سے سیاست سے دور رہنے کو ترجیح دے رہا ہے جو ایک خطرناک عمل ہے۔ اس گفتگو کے بعد راقم پر ان کی شخصیت کے مزید اسرار کھلنے کے ساتھ ساتھ ان کا سیاست میں منفرد مقام سمجھ آیا اور رہ رہ کر یہ شعر یاد آیا جس کی وہ عملی تصویر تھے :

کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں گر تیرا کردار نہیں۔
تو فلاں ابن فلاں ہے یہ تو کوئی معیار نہیں!

یقینا وہ کارکن و نوجوان کی تربیت کو اصل مقصد سمجھتے تھے۔ سردار خالد ابراہیم خان کی کارکنوں کی تربیت کا راقم خود کئی موقعوں پر گواہ ہے۔ وہ غیر محسوس طور پر کارکن کی ڈریسنگ سے لے کر اس کی سیاسی تربیت پر فوکس کرتے تھے اور ہاں وہ کارکن کی عزت نفس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ایک واقعہ یاد آیا جب خالد ابراہیم خان صاحب ایک ریلی کی قیادت کر رہے تھے تو الیکشن کا دور دورہ تھا۔ کارکن جذبات میں تھے اور اچھی تعداد میں موجود تھے۔

اسی اثناء میں جب ریلی پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دفتر کے نیچے سے گزری تو ریلی میں سے کچھ کارکنوں نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سخت نعرہ بازی کرنا شروع کر دی جس کو کچھ ہی لمحوں بعد خالد ابراہیم خان صاحب کی ہدایت پر روک دیا گیا۔ ریلی کے اختتام پر جب سردار صاحب نے تقریر کی تو اپنے کارکنوں کی خوب سرزنش کی اور کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے دفتر میں بیٹھے چار لوگوں کو دیکھ کر چار سو کا مجمع نعرہ بازی کرے تو یہ کوئی بہادری نہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے اور سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی موجودگی میں ایسا واقعہ پھر دیکھنے کو نہ ملا۔ ان کے اسی کردار کی وجہ سے سیاسی حریف بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔

سردار صاحب کی طویل سیاسی زندگی عملی جدوجہد میں گزری۔ والد کا نام استعمال کرنے کا کبھی خیال بھی نہ آیا اور یقیناً انہوں نے سیاسی عمل سے سیاست میں اپنی پہچان بنائی۔ مارشل لاء کی صعوبتیں برداشت کیں، بحالی جمہوریت کی تحریک میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا، ایک درجن سے زائد دفعہ جیل میں سیاسی قیدی رہے، انتخابی سیاست میں بغیر پیسے کے پانچ بار کامیاب ہوئے، دو دفعہ اصول کی بنیاد پر ریاستی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر (جو انہی کا خاصہ ہے ) نئی روایت قائم کی، اور ستر سال کی عمر میں بھی عدالتی نظام میں بہتری لانے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔

راجہ فاروق حیدر خان کی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ میں پانچ جج میرٹ کے مغائر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر تعینات کیے تھے اور 49 کے ایوان میں ایک ہی صدا اس کے خلاف گونجی تھی۔ وہ حق کی اس لڑائی کے دوران ہی اللہ کو پیارے ہو گے لیکن اللہ حق کو ظاہر کر کے رہتا ہے اور اسی حکومت کے دوران ہی ان پانچ ججوں کی تعیناتی کالعدم اور خلاف آئین قرار دی گئی اور سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کی فتح ہوئی اور ان کے منہ سے نکلی ہر بات سچ ثابت ہوئی۔

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

آج ان کی رحلت کے تین برس گزر جانے کے بعد یہ باتیں مزید شدت سے محسوس ہو رہی ہیں۔ ہر طرف موروثیت، کرپشن، پیسہ اور اقرباء پروری عروج پر ہے اور موجودہ سیاسی جماعتیں (جماعت اسلامی کے علاوہ) کارکنوں کی اس نہج پر تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ اصول اور میرٹ پر عوام کے جذبات کی اس طرح سے نمائندگی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ موجودہ حکومت سازی کے عمل میں جو تماشا لگا اور جس طریقہ سے ریاست کے دو بڑے عہدوں کو بے توقیر کیا گیا (وزیر اعظم کے لئے وزیراعظم پاکستان کا انٹرویو لینا اور صدارت کے منصب کو قبول کرنے نہ کرنے کی کشمکش) یقیناً سردار خالد ابراہیم خان حیات ہوتے تو ریاست کی سیاست یوں بے توقیر نہ ہوتی۔

سردار خالد ابراہیم خان کو بہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام سیاسی کارکن چاہے وہ کسی بھی جماعت سے ہوں ان کے کردار اور اصولوں کو عملی طور پر اپنائیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی اور ان کے تربیت یافتہ لوگ ان کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یقیناً سردار خالد ابراہیم خان سیاست کی کربلا کے اکیلے حسین تھے اور ان کے بعد ریاست بھر کے سیاسی کارکن اصولی و باوقار تربیت گاہ سے محروم ہو چکے ہیں۔

Facebook Comments HS