پاکستان اور جنوبی ایشیا میں کرپشن کی دو بڑی وجوہات

تقریباً بیس سال بعد میں اس مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔ جماعت کی امامت کرانے والے امام نے اللہ اکبر پڑھا اور میں تیز تیز مسجد کے ہال کی طرف جانے لگا۔ ناسٹلجیا کی وجہ سے میری حالت عجیب تھی۔ بیس سال پہلے میں اسی یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ دوپہر کو میں کلاس روم سے سفیدہ کے درختوں کے سائے تلے موجود ایک چھوٹی سی کینٹین پہ آتا۔ درختوں کے نیچے بچھی میز کرسیوں میں سے کسی ایک کونے کا انتخاب کرتا۔ ماما یوسف کو کہتا ”ماما! پلیٹ میں چاول چھولے کے اوپر دو سموسے رکھو۔ ساتھ پیپسی کی بوتل دو اور بعد میں ایک کپ چائے بھی پلاؤ۔ چائے پی لیتا تو ماما مجھے گولڈ لیف کا ایک سگریٹ دیتا۔ سگریٹ کے کش لگاتا۔ مسجد سے اذان کی آواز آتی اور میں نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے کینٹین چھوڑ دیتا۔
یکم نومبر 2021 کو صبح کی سیر کے بعد تنویر کے ٹھیلہ پہ کم گھی والے پراٹھے، ہاف فرائی انڈے اور چنوں کے تھوڑے سے سالن کے ساتھ ناشتہ کیا اور پھر چائے پینے بابا گجر کے ڈھابہ کی طرف چل پڑا۔ آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں جگہوں پہ بھی مثبت اور منفی انرجی کے سرکلز یا دائرے موجود ہوتے ہیں۔ کسی جگہ آپ بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ کو بے چینی سی ہو جاتی ہے کہ اٹھ کے چلا جاؤں۔ کسی جگہ کسی درخت کے نیچے آپ گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور اٹھنے کو دل نہیں کرتا۔ یہ بھی انرجی کا ایک چکر ہوتا ہے۔ خیر۔
فون آ گیا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ایک تقریب ہے آپ نے آنا ہے۔ یونیورسٹی کی گاڑی آپ کو بہاول پور پریس کلب سے ٹھیک گیارہ بجے پک کرے گی۔ کلب کے مین گیٹ کے پاس بچھی کرسی پہ بیٹھے بیٹھے کئی اخبارات پڑھ ڈالے اور انتظار طویل ہوتا گیا۔ گاڑی بارہ بجے کے بعد آئی۔ شیڈول کے مطابق تقریب ٹھیک ساڑھے بارہ بجے شروع ہونا تھی لہذا تمام مدعو لوگ ہال میں انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے تاہم مہمان خصوصی تقریباً تین بجے تشریف لائے۔
ایک بجے کے بعد میں باہر نکلا اور ایک ٹرانس کی کیفیت میں یونیورسٹی کینٹین کی طرف چل پڑا۔ پرانی کینٹین گرائی جا چکی تھی۔ اس کی جگہ نئی وسیع کینٹین بن چکی تھی۔ کہاں ہمارے دور میں پانچ دس ہزار طلباء اور اب اسی یونیورسٹی میں پینتالیس ہزار طلبا۔ (کیا ان تمام طلباء کو نوکریاں بھی مل سکیں گی؟ ظاہر ہے یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کی تعلیم تو نہیں دی جاتی کہ نوکری ملے نہ ملے بندہ سیکھے ہوئے ہنر سے برسرروزگار ہو جاتا ہے۔) خیر۔ والدین کی زیادہ تعداد تو اچھا رشتہ آنے کی آس میں اپنی بیٹیوں کو یونیورسٹی کی تعلیم دلاتے ہیں جبکہ بیس سال پہلے بہاولپور میں بیٹیوں کو یونیورسٹی میں پڑھانا بعض لوگوں میں معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ذاتی طور پہ میں نہ صرف خواتین کی اعلٰی تعلیم کا حامی ہوں بلکہ سرکاری اور غیری سرکاری ملازمتوں میں ان کے لیے پچاس فیصد کوٹہ بھی چاہتا ہوں۔ بیس سال بعد میں اس کینٹین میں داخل ہوا۔ ماما یوسف کہیں نظر نہ آیا۔ نئے لوگ نہ مجھے جانتے تھے اور نہ میں ان کو۔ بریانی کھائی۔ چائے پی اور قریب واقع مسجد میں نماز پڑھنے چلا گیا۔
جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں تقریبات میں لیٹ پہنچنا بھی تفاخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کیا جان بوجھ کر تقریبات میں لیٹ پہنچ کر دیگر لوگوں کو انتظار کی تکلیف میں ڈالنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے؟ پاکستان، اس کے ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ہمسایہ ملک اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں سرکاری اہلکار، دولت مند لوگ اور یہاں تک کہ غریب افراد اگر مالی کرپشن میں مبتلا ہوتے ہیں تو اکبر شیخ اکبر کے نزدیک اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔
امیروں میں مالی کرپشن کی وجہ اور ہے اور غریبوں میں مالی کرپشن میں مبتلا ہونے کی وجہ ان سے مختلف ہے۔ ایک شخص کو والدین سے اچھی خاصی جائیداد ملی ہے۔ اچھا بنک بیلنس ہے۔ وہ سرکاری ملازمت حاصل کرتا ہے۔ معقول تنخواہ لیتا ہے لیکن سرکاری دفتر میں مالی کرپشن کے ذریعے پیسہ کماتا ہے۔ ایک شخص اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے۔ بہت معقول تنخواہ ہے۔ روزانہ اپنی کوٹھی پہ پرائیویٹ سو ڈیڑھ سو مریض دیکھتا ہے ان سے فیس لیتا ہے لیکن جہاں مریض کے لیے تین ادویات کافی ہیں وہاں دس پندرہ ادویات لکھ دیتا ہے۔
دس پندرہ لیبارٹریوں کے غیر ضروری ٹیسٹ بھی لکھ دیتا ہے۔ پھر وہ روزانہ کی فیس سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کمانے کے باوجود فارماسوٹیکل کمپنیوں اور لیبارٹریوں سے بھی اپنا ”حصہ“ وصول کرتا ہے اور شہر میں بننے والے ہر نئے ٹاؤن میں پلاٹ خریدتا ہے۔ ایک شخص تاجر ہے۔ اس کا والد بھی بزنس مین تھا۔ اچھی خاصی رقم اور جائیداد چھوڑ کے مرا لیکن یہ تاجر کاروبار میں دونمبری کر کے ناجائز منافع خوری کرتا ہے۔ جعلی اور غیر معیاری اشیا بیچتا ہے۔
کیوں؟ دیکھنے میں آتا ہے کہ دولتمند لوگوں کی اچھی خاصی تعداد بری طرح سے مالی کرپشن میں ملوث ہوتی ہے۔ یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اصل میں ان کے اندر اپنی جائیدادوں میں اضافہ کرنے اور بنکوں میں موجود اپنی رقم بڑھانے کی ہوس ہوتی ہے اور یہی ہوس ان سے مالی کرپشن کرواتی ہے۔ اگر قانون بنا دیا جائے کہ ملک میں ہر فرد ایک طے شدہ حد تک شہری اور زرعی جائیداد رکھ سکتا ہے اور اس سے زیادہ جائیداد کی نہ تو اسے سرکاری رجسٹری اور انتقال ملے گا اور نہ ہی مالکانہ حقوق تو جب لوگوں کو پتہ ہو گا کہ جائیداد کے مالکانہ حقوق رکھنے کی ایک حد سے زیادہ ان کو قانونی ملکیت مل ہی نہیں سکتی تو پھر وہ کیوں مالی کرپشن کرتے پھریں گے۔
غریب طبقہ میں مالی کرپشن کی سب سے بڑی وجہ احساس عدم تحفظ ہے۔ ”میرے مرنے کے بعد میرے بیوی بچوں کا کیا ہو گا“ ۔ بس یہ سوچ انھیں کرپشن کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ امریکہ اور یورپ خصوصاً سکینڈینیویا ممالک میں لوگوں کو حکومتوں کی طرف سے ہر طرح کا تحفظ دیا گیا۔ جرمنی میں بوڑھے افراد کو چاہے وہ سرکاری ملازم نہ بھی رہے ہوں حکومت کی طرف سے بڑھاپے کی ماہانہ پنشن ملنے کا سسٹم سال 1880 ء میں ہی آ گیا تھا۔ مغرب میں بچے پالنے کے لیے بھی حکومت والدین کو کچھ نہ کچھ ماہانہ رقم بطور امداد دیتی ہے۔
بے روزگار شخص کو جاب ملنے تک گزارہ الاؤنس دیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں تو صورتحال برعکس ہے۔ یہاں تو عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیائی ریاستیں عوام کو دیتی تو کچھ نہیں البتہ ٹیکسوں کی بھرمار کر کے اور اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھا کر عوام کا گلہ گھوٹنے کی پوری پوری کوشش کرتی ہیں۔ سارے جنوبی ایشیا میں ملکی وسائل مختلف روپ رکھنے والی ایک خاص قسم کی اشرافیہ کے عیش و عشرت کے لیے مختص ہیں اور غریب عوام اور غریب طبقہ کے لیے ان وسائل میں کوئی حصہ نہیں۔
اگر جنوبی ایشیا میں بھی حکومتیں مغرب کے سوشل ویلفیئر سسٹم کو اپنا لیں تو یہاں بھی غریب طبقہ بھی بطور سرکاری اہلکار اور دکاندار وغیرہ مالی کرپشن کی جانب مائل نہیں ہو گا۔
جنوبی ایشیا کا ایک بڑا مسئلہ لاکھوں کروڑوں افراد کا دیہاتوں سے شہروں کی جانب ہجرت کرنا ہے۔ جدید زرعی مشینری آ جانے سے اب گاؤں کے غریب لوگوں کو جاگیردار کی زمینوں پہ کام نہیں ملتا۔ پہلے وہ زمیندار کی زمینوں پہ گندم کی فصل کی کٹائی کر لیتے تھے تو تھوڑی بہت گندم مل جاتی تھی۔ اب ایک مشین آتی ہے وہ ایک گھنٹہ میں پورے ایکڑ کی گندم کی کٹائی کر کے دانے نکال کے ایک طرف رکھ دیتی ہے۔ مشین ہی مکئی کی فصل کی کٹائی کر کے اس کے دانے نکال دیتی ہے۔
روٹی اور روزگار کے لیے لوگ دیہاتوں کو مستقل چھوڑ کے شہروں کے باسی بن رہے ہیں۔ دیہات خالی ہوتے اور شہر پھیلتے جا رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے پاکستان کے وزیراعظم اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے کسان کنونشن میں آئے اور اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ پاکستان میں چھبیس ہزار خاندان ایسے ہیں جن میں سے ہر خاندان کے پاس ایک سو پچیس ایکڑ یا اس سے زیادہ زرعی رقبہ موجود ہے۔ اگر حکومت قانون بنا دے کہ کوئی بھی فرد اپنی بیوی اور غیر شادی شدہ بچوں سمیت پچاس ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ اپنی ملکیت میں نہیں رکھ سکتا تو یہ دولتمند جاگیردار اپنی اضافی زمین گاؤں کے بے زمین کسانوں کو بیچنے پہ مجبور ہو جائیں گے اور پھر دیہات کے غریب لوگوں کو اپنے گاؤں میں ہی روزگار مل جائے گا جس سے شہروں کی جانب ان کی ہجرت کم ہو جائے گی۔
ساتھ حکومتیں بین الاضلاعی سڑکوں کے کنارے دیہاتوں کے قریب سرکاری اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں کے کیمپس بنا دے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹرز سطح کے ہسپتالوں میں بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جیسی تمام سہولیات بشمول ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس مہیا کر دے۔ دیہاتی علاقوں میں ایگرو بیسڈ انڈسٹری لگوا دے تو یہ ہجرت مزید سست ہو جائے گی۔
پولیس اور انصاف کے شعبوں سے متعلق پرانے اور فرسودہ قوانین بھی جنوبی ایشیا میں عوام کے اندر احساس عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دوسروں کو تنگ اور ذلیل و رسوا کروانے کے لیے ان کے خلاف پولیس تھانوں میں جھوٹی ایف آئی آرز درج کروانے کا چلن بھی پرانا ہے۔ اب قانون پولیس کو یہ اختیار دیتا ہے کہ جس شخص کے خلاف تھانہ میں درخواست آئی ہے یا ایف آئی آر درج کی گئی ہے چاہے اس ایف آئی آر کی بنیاد جھوٹ ہے پھر بھی وہ چاہے تو مدعا علیہ کو گرفتار کر کے تھانہ کے لاک اپ میں پندرہ دن یا زیادہ دنوں تک بند رکھے۔
حکومتیں یہ کیوں نہیں کرتیں کہ کہ عادی مجرموں، پیشہ ور چوروں ڈکیتوں اور مافیا کے معاملہ سے ہٹ کے عام شہریوں کے معاملہ میں قانون بنا دیا جائے کہ چاہے ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہو جب تک ان کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے پولیس کو انھیں گرفتار کرنے کا اختیار نہ ہو بس وہ انھیں بلا کے سوال و جواب اور تفتیش کر سکتی ہو۔
اچھا، ہومیو پیتھی یہ کہتی ہے کہ جو لوگ اپنے اندر پائے جانے والے حاسدانہ اور انتقامی مزاج کی وجہ دوسروں کے خلاف تھانوں میں درخواست دیتے ہوں یا عدالتوں میں ان کے خلاف جھوٹے مقدمے دائر کرتے ہوں اور مقصد صرف دوسروں کو ذلیل و رسوا دیکھنا ہو تو درج ذیل ہومیوپیتھک ادویات ان کے اندر حسد، تشدد اور انتقام کی خواہش کو کم کر سکتی ہیں۔
1-Nitric Acid-2-Anacardium-3-Lachesis-4-Apis Mellifica-5-Syphilinum-6-Lycopodium-7-Hyoscyamus
واضح رہے کہ یہ ادویات جرمنی کی قدیم ہومیوپیتھک ادویات ساز کمپنی کی تیار کردہ ہی استعمال کی جائیں اور مدر ٹنکچر خام حالت کی بجائے صرف پوٹینسی میں اور اپنی مخصوص علامات کے مطابق لی جائیں۔ اس جرمن ہومیوپیتھک دواساز ادارے نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی نایاب اجزا سے ایک خاص دوا تیار کی جس نے حیرت انگیز نتائج دیے۔ پاکستانی کرنسی میں اس دوا کی قیمت 56 ہزار روپے فی شیشی، وائل یا چھوٹے سائز کی بوتل تھی۔
لاہور کے ایک ہومیوپیتھک دوا ساز ادارے نے اس دوا کی مقبولیت دیکھ کے کاپی تیار کی اور مارکیٹ میں 42 ہزار روپے کی لانچ کر دی لیکن اس سے جرمن دوا جیسے نتائج نہ مل سکے۔ پاکستانی ادویات ساز ادارے بھی اچھی ادویات بنا رہے ہیں لیکن ہومیو پیتھی کی دنیا میں کچھ ادویات ایسی ہیں جو اوریجنل جرمنی ساختہ ہوں تو نتائج دیتی ہیں اور اگر پاکستانی اور پاکستان کے ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ہمسایہ ملک میں بنائی گئی ہوں تو بعض اوقات ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔

