سفر اور میں؟ پہلی قسط


صائمہ نفیس اپنے نام کے دوسرے حصے کی طرح خود بھی خاصی نفیس خاتون ہیں۔ نفیس تو وہ ہیں ہی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خاصی متحرک اور توانائی سے بھرپور خاتون ہیں۔ انھوں نے ادبی سرگرمیوں کے فروغ ایک ادبی تنظیم چاک ایونٹ مینجمنٹ اور ادبی فورم کے نام سے تشکیل دی ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ دل چسپ پروگرام ترتیب دیتی رہتی ہیں۔ میری اس بات کی تائید ان تمام سرگرمیوں سے ہوتی ہے جو وہ اس سال کے آغاز سے اپنی ادبی تنظیم کے بینر تلے ترتیب دیتی آئی ہیں۔

جیسے کہ ساحل سمندر پہ پکنک، سفاری پارک کی پہاڑی پہ جشن بہاراں کا مشاعرہ، فارم ہاوٴس پہ عید ملن پارٹی، مینگو پارٹی۔ ان میں سے ہر پروگرام بہترین تھا۔ اس مرتبہ انھوں نے کچھ الگ پروگرام کرنے کا سوچا۔ انھوں نے کراچی کے کچھ اہل قلم دوستوں کو جمع کیا اور پنجاب کے کچھ اہل قلم دوستوں کی دعوت پر پنجاب جانے کا پروگرام بنایا۔ کراچی کے قلم کار دوستوں کے اس گروپ کو گروپ لیڈر صائمہ نفیس نے کاروان ادب کا نام دیا۔ اس قافلے کی ایک رکن میں بھی تھی۔

گروپ لیڈر صائمہ نفیس جو بہت اچھی افسانہ نگار ہونے کے علاوہ ایک اچھی براڈکاسٹر اور موٴقر ادبی جریدے ”دنیائے ادب“ کی نائب مدیرہ بھی ہیں، ان کے علاوہ گروپ کی نائب لیڈر یاسمین یاس جو اچھی شاعرہ ہیں اور اپنے ترنم کے سبب خاصی مقبول ہیں، شبیر نازش جو بہت اچھے شاعر ہیں، ان کی بیگم ڈاکٹر سبین حشمت قاضی، ان کا ننھا منا بیٹا ثمر حسین، ڈاکٹر سبین کے والد حشمت قاضی، آئرین فرحت جو بہت اچھی شاعرہ ہیں، ان کے شوہر زیفرین صابر جو بہت اچھے گلوکار اور مصور ہیں، ان کے بچے سارنگ اور دیا، عشرت حبیب جو بہت اچھی شاعرہ ہیں، کراچی ہی کے ایک اور اچھے شاعر علی کوثر، حمیرہ راحت جنھیں لوگ ایک اچھی افسانہ نگار اور شاعرہ کے طور پہ جانتے ہیں۔

ثریا وقار بھی اس قافلے کا حصہ تھیں۔ کراچی کی ہی ایک اور اچھی شاعرہ سحر علی بھی بعد میں اس کارواں میں آ کے شال ہوئیں۔ میرا اس قافلے میں ہونا اور شہر سے باہر سفر کرنا وہ بھی گھر والوں کے بغیر، میرے لوگوں کے لیے خاصا باعث حیرت تھا کیوں کہ میں سفر کرنا قطعی پسند نہیں کرتی لیکن بعض دفعہ وہ ہوجاتا ہے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ یوں میں نے بھی غیر متوقع طور پہ سفر کر لیا۔ بچپن کے بعد یہ میرا پہلا سفر تھا۔

یہ بیس اکتوبر کی ایک زرد سی سہ پہر تھی جب کراچی کینٹ اسٹیشن پہ گروپ کے سب لوگ جمع ہوئے۔ میرے لیے اتنے وقت کے بعد پلیٹ فارم پہ قدم رکھنا بہت پرجوش کیفیت کا حامل تھا۔ مجھے ٹرین میں سفر کرنا بہت رومانوی سا لگتا ہے۔ بڑے اسٹیشن تو اپنی بناوٹ کے لحاظ سے الگ ہی ہوتے ہیں لیکن کبھی غور کیجیئے چھوٹے اسٹیشنوں کی پتھروں کی بنی ہوئی چھوٹی عمارتیں بھی اپنے اندر عجب کیفیات رکھتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے زرد پتھروں سے بنی ہوئی یہ خاموش اور کم آباد عمارتیں اپنے اندر بہت سی کہانیاں جمع کیے ہوئے ہوں۔

ان عمارتوں نے کتنے ہی مسافروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔ پلیٹ فارم پہ ٹرین کا آنا کتنا پرجوش ہوتا ہے اور جب ٹرین رخصت ہوتی ہے تو اسٹیشن پہ کیسا اداسی آمیز تاثر چھا جاتا ہے۔ کچھ مسافروں کو اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی ہوتی ہے اور کچھ کو اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا غم۔ یہ ملی جلی کیفیات زندگی کے مفہوم کی ترجمان ہیں۔ پلیٹ فارم کی بینچ پہ بیٹھے بیٹھے دوستوں کا انتظار کرتے ہوئے میں انھی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ تبھی عشرت حبیب نے مجھے پکارا۔

ان کے پیچھے یاسمین یاس تھیں۔ ان کے آنے سے سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا۔ سب دوست آچکے تھے۔ ٹرین پلیٹ فارم پہ آ کے لگی تو ہم لوگ اپنا کمپارٹمنٹ تلاش کر کے ٹرین میں سوار ہوئے اور اپنی اپنی سیٹ نمبر تلاش کر کے بیٹھ گئے۔ ٹرین کا وقت روانگی ساڑھے پانچ بجے شام تھا۔ ٹرین مقررہ وقت سے دس منٹ تاخیر سے روانہ ہوئی۔ میرے لیے یہ لمحے بہت پرجوش کیفیت کے حامل تھے کیوں کہ بچپن کے بعد اب میں نے ٹرین کا سفر اختیار کیا۔ میں سفر کرنا پسند نہیں کرتی لیکن صائمہ نفیس کے پروگرام بہت پرلطف ہوتے ہیں لہٰذا میں بھی چاک ایونٹ مینجمنٹ کے لوگوں کے ساتھ شریک سفر ہوئی۔

سفر اپنے آغاز سے ہی پرلطف رہا۔ ریل گاڑی کے چلتے ہی سب لوگ ایک دوسرے سے گپ شپ میں مصروف ہو گئے۔ سب لوگ اس سفر اور پروگرام کے حوالے سے بہت خوش اور پرجوش تھے۔ ان کے چہروں سے چھلکتی مسرت اس بات کی گواہ تھی کہ وہ اس سفر سے کتنے خوش تھے بشمول میرے۔ سفر انسان کے اندر جوش بھر دیتا ہے ایک ترنگ پیدا کر دیتا ہے۔ اس سفر سے زیادہ خوشی اس لیے بھی ہو رہی تھی کہ ہم سفر ہم مزاج دوست تھے۔ دوستوں کے ساتھ کی تو کیا ہی بات ہوتی ہے۔

سفر شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گروپ کے لوگوں نے فرط جوش میں اونچی اونچی تانیں لگانا شروع کر دیں اور پھر باقاعدہ گانے کا آغاز ہو گیا۔ کمپارٹمنٹ کے دیگر مسافر بھی اس ہلے گلے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ جب گانے سے قدرے طبیعت سیر ہوئی تو شاعری سننے کا موڈ ہو گیا۔ کیوں نہ ہوتا آخر ہمارے ساتھ اتنے اچھے شاعر تھے۔ سو سب دوستوں سے فرمائش کر کر کے ان کا کلام سنا گیا۔ اس جوش اور مستی نے دوسرے مسافروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر ہمارے پاس آئے اور ہمارے گانے اور شاعری سے لطف اندوز ہونے لگے۔

رات دو بجے ٹرین کوٹری پہنچی اور وہاں کچھ وقت ٹھہری۔ گروپ کے کچھ لوگ بیدار تھے چند غنودگی میں تھے۔ میں ایک نیند لے چکی تھی۔ سو دروازے پہ آ کے اسٹیشن کا نظارہ کیا نہ صرف نظارہ بلکہ وہاں چائے بھی پی۔ زبردست چائے تھی پی کے طبیعت خوش ہو گئی۔ رات کے پچھلے پہر سب ہی نیند کی وادی میں گم ہو گئے۔ صبح بیدار ہونے پر بھی طبیعت میں رات والی فرحت موجود تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے گروپ میں آئرین فرحت جیسی فرحت بخش شاعرہ بھی تھیں۔

لاہور ہمیں ساڑھے بارہ بجے پہنچنا تھا لیکن یہاں بھی ٹرین لیٹ ہوئی اور ہم تقریباً دو بجے لاہور اسٹیشن پر اترے۔ کچھ لوگ لاہور آمد پر بہت پرجوش تھے جن میں میں بھی شامل تھی۔ ہمارے گروپ میں چند لوگ وہ تھے جو لاہور پہلی مرتبہ آئے تھے۔ میں بھی اس سے قبل کبھی لاہور نہیں آئی تھی۔ اگرچہ ہمیں یہاں اس وقت ٹھہرنا نہیں تھا۔ آگے جانا تھا لیکن پھر بھی لاہور آنا بہت اچھا لگا۔ یہاں ہمارے بہت پیارے دوست رہتے ہیں۔ ہمیں کراچی جانے سے قبل یہاں قیام کرنا تھا سوچا تب اپنے لاہوری دوستوں سے مل لیا جائے گا۔ فی الوقت تو ہمیں پتوکی جانا تھا جہاں ہمارے میزبان ہماری آمد کے منتظر تھے۔

(جاری)

Facebook Comments HS