کس قدر کار اذیت ہے سوالی ہونا

”صاحب جی! خدا کے واسطے میری کچھ مدد کر دیجیے۔ میرے بچے بھوکے ہیں۔“ اس نے یہ الفاظ ہچکیوں کے درمیان لیے گئے وقفوں کے درمیان بمشکل ادا کیے تھے۔
”آپ حوصلہ رکھیں اور آرام سے اپنا مسئلہ بتائیں؟“ میں نے اپنے آپ کو نارمل رکھتے ہوئے غیر جذباتی آواز میں کہا۔ کیونکہ ایسی اچانک آ جانے والی کالز زیادہ تر حقیقی ضرورت مندوں کی بجائے نوسر بازوں کی ہوتی ہیں۔
لیکن اندرونی طور پر میں ایک بار ہل کر رہ گیا تھا۔ میرا بیس سالہ پبلک ڈیلنگ کا تجربہ اور اس دوران انسانی رویوں اور ان کی آوازوں کا تجزیہ مجھے اس خاتون کی بات پر تشکیک کی حد عبور کر کے بے یقینی کی سرحد میں داخل ہونے سے روک رہا تھا۔
” صاحب جی جس دن سے یہ مولوی آئے ہیں میرے بچے بھوک سے مر رہے۔ آپ میری مدد کر دیجیے۔ میرے بچے آج روٹی کھا لیں۔ میں آپ کو بہت دعائیں دوں گی۔“ اس دوران اس کی ہچکیوں نے بھی اپنا ورد جاری رکھا ہوا تھا۔
” آپ کے خاوند کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ اور آپ خود بھی محنت مزدوری کیوں نہیں کرتیں؟“ میں نے سپاٹ لہجے میں استفسار کیا۔
” صاحب جی! میرا خاوند مریدکے جی ٹی روڈ پر پھل کی ریڑھی لگاتا تھا۔ جب سے یہ مولوی آئے ہیں انہوں نے ڈنڈے مار مارکر اسے دوڑا دیا ہے اور اس دن سے وہ بے روزگار ہے۔ خاتون کی آواز میں درد اور بے بسی گندھی ہوئی تھی۔
میری آنکھوں کے سامنے سارا منظر گھوم گیا اور مولویوں والی بات بھی سمجھ میں آ گئی۔
” ایک بے بس عورت اور اس کے چار چھوٹے چھوٹے بچوں کی فاقہ زدہ شکلیں میری آنکھوں کے سامنے آ کر ٹھہر گئیں۔ ان کے رنگ زرد تھے اور ان کے پیٹ اور گال اندر کو دھنسے ہوئے تھے۔ ان کے وجود سے زندگی جیسے رخصت ہو رہی تھی۔ ان کی آنکھوں سے نور کی جگہ بین منعکس ہو رہے تھے۔ یہ منظر میری آنکھوں سے ہوتا ہوا میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔
”آپ فون بند کر دیجیے اگلے پندرہ منٹ میں آپ کی حاجت پوری کر دی جائے گی۔“
میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی دعاؤں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
بے روزگاری، فاقہ کشی، لاچارگی، بے بسی، مایوسی، دراز ہوا ہاتھ، پھیلی ہوئی جھولی، گدلی اور بے نور آنکھیں، ، پھٹے ہوئے لرزتے ہوئے ہونٹ، پچکے گال، زرد چہرہ، اندر دھنسا ہوا پیٹ، مجروح ہوتی ہوئی روح، کپکپاتی ہوئی آواز، نامراد رہنے کا ڈر، سوالی ہونے کی تذلیل
تو کسی در پہ گیا ہو تو خبر ہو تجھ کو
کس قدر کار اذیت ہے سوالی ہونا
میرے مولا تیری اشرف تخلیق کی اتنی تذلیل!
کتنے خاندان اس عذاب میں مبتلا ہوں گے؟
میں نے خود کو رونے اور ہچکیاں لینے سے بڑی مشکل سے روکا۔
سرکار دو عالم ﷺ سفر میں تھے۔ کسی صحابی نے گھونسلے سے چڑیا کے بچے چرا لیے۔ چڑیا بے تاب ہو کر سروں پر منڈلانے لگی اور ساتھ درد بھری آواز میں چوں چوں کرنے لگی۔ رحمت اللعالمین سارا ماجرا سمجھ گئے۔ صحابی کی سرزنش فرمائی اور چڑیا کے بچے واپس گھونسلے میں رکھنے کی تاکید کی۔
میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن الخطاب ہوتا۔ ایسا بڑے اور منفرد اعزاز رکھنے والی ہستی کہہ رہی ہے ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو قیامت کے روز مجھ سے حساب ہو گا۔“ انسانی جان کی حرمت پر کیا بات کی جائے۔ ایک کلمہ گو مسلمان کی جان کی حرمت پر کیا کہا جائے۔ میرا قلم اس سے قاصر ہے۔

