گدھے اور بھارتی ایجنٹ


معاشی زبوں حالی کے اس دور میں معیشت کے متعلق ایک مثبت خبر تواتر کے ساتھ ہم سن رہے ہیں کہ ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، غالباً گزشتہ برس پاکستان نے گدھوں کو برآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا کیونکہ موجودہ تعداد یقیناً قومی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔

گدھوں کے علاوہ اس ملک میں اگر کسی کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ ”انڈین ایجنٹ“ ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بنیادی حقوق کے نام پر ’فساد‘ پر با کرنے والوں سے کراچی میں لسانیت کی پرچار کرنے والوں تک ملک کے ہر گوشے میں پڑوسی دشمن ملک کے آلہ کار قدم جمائے بیٹھے ہیں۔ بلوچستان کا تو ذکر ہی کیا کہ وہ ’غداروں‘ اور ’ایجنٹوں‘ کی آماجگاہ ہے، ہمارے چند ’معتبر‘ حلقوں سے سند یافتہ اور انتہائی دانش مند دانشوروں نے تو چند سال پہلے پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کے زیر ملکیت شوگر ملز کے کونے کھدروں سے بھی بھارتی ایجنٹ دریافت کر لیے تھے۔

کھلم کھلا ایجنٹوں کی یہ کھیپ ان سیاستدانوں کے علاوہ ہے جو سیاسی سرگرمیوں کی آڑ میں ملک کی موجودہ محنتی، دیانتدار اور مخلص قیادت کو بار بار اپنے ’فتنہ انگیز‘ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کام کرنے سے روک رہے ہیں اور ملکی ترقی میں روڑے اٹکا کر دشمن ملک کو خوش کر رہے ہیں۔ اب آپ کے ذہن میں یقیناً سوال آئے گا کہ اگر احتجاجی مظاہرے کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے تو کیا یہ منطق موجودہ حکمرانوں پر بھی لاگو ہوگی جنہوں نے گزشتہ دور حکومت میں اپنا زیادہ تر وقت دھرنوں، احتجاجوں، ہڑتالوں میں اور سول نافرمانی کرتے گزارا، تو آپ کی تسلی کے لیے عرض ہے کہ ایسا نہیں ہے، یہ منطق موجودہ حکمرانوں پر لاگو نہیں ہوگی اور اس کی وجہ موجودہ حکومت کی وہ خاصیتیں ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا، یعنی موجودہ حکومت کا گزشتہ حکومت کے برعکس محنتی دیانتدار اور مخلص ہونا، لیکن کس کے ساتھ یہ البتہ ایک علیحدہ اور ’حساس‘ بحث ہے۔

بہرحال، ہم بات کر رہے تھے ملک میں بھارتی ایجنٹوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جس کے متعلق فواد چودھری نے گزشتہ ہفتہ ہمیں یہ اطلاع دی کہ (تاحال نیم کالعدم ) تحریک لبیک پاکستان کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں! اب کیونکہ فواد چودھری صاحب وزیر اطلاعات ہے اس لیے ان کی اطلاع کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے لیکن میں نے یہ اعلان سن کا سکھ کا سانس لیا کیونکہ اب تک گزشتہ 70 سالوں میں ہمارے ریاستی اداروں نے جتنے بھی بھارتی ایجنٹ دریافت کیے تھے ان کا تعلق دیگر تین چھوٹے صوبوں سے ہی تھا، اب اس اعلان کے بعد چھوٹے صوبوں کو کم از کم یہ شکایت نہیں ہوگی کی پنجاب کے مقابلے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے کیونکہ تحریک لبیک کی قیادت کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ اس ایک نکتہ پر کم از کم ملک میں اب مکمل طور پر صوبائی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

تاہم اس خوشگوار فضا کو ہمارا فسادی میڈیا اپنے عجیب غریب سوالات سے گدلا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر یہ گستاخانہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تحریک لبیک والے انڈین ایجنٹ ہیں تو اس باوردی اہلکار کے بارے میں کیا حکم ہے جو 2017 کی ایک ویڈیو میں اس جماعت کے کارکنوں میں پیسے تقسیم کرتے نظر آ رہا ہے۔ کچھ ناہنجار اور بے ادب تو بھارتی ایجنٹوں سے 2017 میں کیے جانے والے معاہدہ کے ضمانت کار کے متعلق بھی سوالات کرنے کی جرات کر رہے ہیں۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا ان سوالات سے ملک دشمنی اور بھارت نوازی کی بو نہیں آ رہی؟

یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ جو انڈین ایجنٹ تھے ان کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ریاست کو سمجھ آ گیا ہے کہ ’ریاست ہوتی ہے ماں جیسی‘، اور یہ تو ہم نے اپنے گھروں میں دیکھا ہے کہ بچہ جب غلطی کرتا ہے تو ماں بطور تنبیہ کہتی ہے ”یہ گندا بچہ“، اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ ماں کو بچہ واقعی گندا لگ رہا ہے بلکہ اس کا مقصد ہوتا ہے کہ بچہ اپنی غلطی کی تصحیح کر لے، اور جوں ہی وہ تصحیح کرتا ہے ماں اس کو اپنی گود میں بٹھا لیتی ہے۔

ریاست نے بھی بالکل یہی کیا، جن کو دو دن پہلے وزیر اطلاعات نے انڈین ایجنٹ اور گندے بچے قرار دیا تھا وزیر خارجہ نے دو دن بعد ان کو اچھا بچہ قرار دے دیا، ریاست نے اپنے بچے کو واپس گود میں لے لیا، لیکن چونکہ ریاست کی اپنی گود انتہائی مختصر ہے اس لیے اس کام کے لیے کراچی کے ایک کشادہ گود معروف تاجر کی خدمات حاصل کی گئی، تاہم اس معاملے سے یہ ثابت ہو گیا کہ ریاست کی کشادہ ترین گود میں بھی دیگر ایجنٹ قرار دیے جانے والوں اور حالیہ احتجاج میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

یہ تمام باتیں تو واضح ہیں، البتہ ایک بات جو مجھے پریشان کر رہی ہے وہ یہ کہ ملک میں گدھوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں کیا ان گدھوں کو بھی شمار کیا گیا ہے جو ہر دوسرے آدمی اور ہر تیسری جماعت کو انڈین ایجنٹ قرار دیتے ہیں یا نہیں۔

Facebook Comments HS