شہباز شریف نے ڈینگی کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا ہوا تھا
آج کل لاہور میں ڈینگی بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ لوگ تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ رات ڈھائی بجے میو ہسپتال کے ڈینگی کاؤنٹر پر رش لگا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ بتا رہے ہیں کہ انہیں ڈینگی ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اموات کی اطلاع بھی ملی ہے۔ یہ سب لوگ معاشرے میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انصاف سے کام لیا جائے تو ڈینگی کے پھیلاؤ میں بھی مثبت پہلو موجود ہے۔
جہاں تک ڈینگی کا تعلق ہے، تو حکومت کے بغض میں مبتلا بعض افراد اسے ہڈی توڑ بخار کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسی شدید تکلیف ہوتی ہے کہ گویا ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں، لیکن دوا کے نام پر اس میں صرف پیناڈول وغیرہ کھا کر بخار اور کنٹرول کر سکتے ہیں اور بے پناہ تکلیف سہتے ہیں۔ ہم اس پر محض یہی تبصرہ کرنے پر اکتفا کریں گے کہ حکومت کو یوں بدنام مت کریں، ایک مرتبہ ہڈی تڑوا کر دیکھیں کہ اس کی تکلیف کیسی ہوتی ہے، پھر حکومت کو بدنام کریں۔
یہ افراد ڈینگی کا نام لے لے کر کہتے ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت ہوتی تو ڈینگی ایسے بے قابو نہ ہوتا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت نہایت صاف اور شفاف ہے اور شریف برادران کی حکومت نہایت کرپٹ تھی۔ اب یہی دیکھیں کہ ڈینگی ان کے زمانے میں کیوں پاکستان میں ایسے پھیلا؟ ظاہر ہے کہ ان کا مقصد یہی ہو گا کہ ڈینگی پر قابو پانے کے نام پر کمائی کی جائے۔ چونکہ موجودہ ایماندار حکومت نہ خود کمائی کرتی ہے نہ لوگوں کو کرنے دیتی ہے، اس لیے وہ ڈینگی کو مصنوعی طریقے سے روکنے کی بجائے قدرتی طریقے سے پھیلنے دے رہی ہے۔ اس پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ایسی شفاف حکومت دی۔
شہباز شریف ڈینگی پر مصنوعی طریقے سے قابو پانے کی خاطر مضر صحت کیمیکل پورے شہر میں چھڑکتے پھرتے تھے۔ جہاں ایک ڈینگی مچھر دیکھا وہاں پورے علاقے میں سپرے کروا دیا۔ یعنی ایک نہایت ماحول دشمن پالیسی تھی۔ انسان تو کیڑوں مکوڑوں کی طرح مرنے سے بچ جاتے تھے مگر کیا آپ نے سوچا ہے کہ اس سپرے کی وجہ سے بچارے کیڑے مکوڑے کس طرح مر رہے تھے؟ سارا ماحولیاتی بیلنس خراب ہو رہا تھا۔ فضا مسموم ہو رہی تھی۔ موجودہ ماحول دوست حکومت ایسا کچھ نہیں کرتی۔ بلکہ کچھ بھی نہیں کرتی۔
شہباز شریف کا ایک دعوی تھا کہ ڈینگی مچھر کوڑے پر پیدا ہوتا ہے اس لیے وہ شہر میں کوڑا جمع ہی نہیں ہونے دیتے تھے۔ انہیں کوڑا کرکٹ چننے والے غریب افراد کا رائی برابر خیال نہیں تھا کہ اس پالیسی کی وجہ سے ان کے معاشی حالات پر کتنا منفی اثر پڑ رہا تھا۔ موجودہ حکومت کی غریب پروری کا ثبوت اب لاہور کے ہر گلی محلے میں ڈھیروں ڈھیر جگمگاتا دیکھا جا سکتا ہے۔
اس حکومتی پالیسی کے نتیجے میں لوگوں میں احساس ذمہ داری بھی بڑھ رہا ہے۔ اب وہ ڈینگی پر کنٹرول کا معاملہ حکومت پر چھوڑنے کی بجائے نہایت ذمہ داری سے خود اپنی بچت کا بندوبست کرتے ہیں۔ یہی پالیسی تعلیم اور امن و امان کے سلسلے میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ لوگ ان امور کی ذمہ داری بھی خود اٹھا رہے ہیں اور ایک غریب ملک کی حکومت کو مجبور نہیں کر رہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو شہریوں کے یہ نخرے اٹھانے پر خرچ کرے۔
گزشتہ حکومت صحت کے شعبے میں بے تحاشا کرپشن کرتی تھی۔ اس وجہ سے وہ دوائیوں کی قیمت کو بھی مصنوعی طریقے سے کم رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ معاشیات کے ماس پروڈکشن کے اصول سے واجبی پڑھا لکھا شخص بھی واقف ہے کہ کسی شے کو کم قیمت پر زیادہ مقدار میں بیچا جائے تو منافع زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی وہ ادویات کی قیمت کو اس لیے کم رکھ رہے تھے کہ عوام بیمار ہونے کی صورت میں دوائیاں کھا کھا کر ان کی تجوریاں بھریں۔
موجودہ حکومت نے ادویات کی قیمتوں کو قدرتی طور پر بڑھنے دیا اور اب عوام اشد ضرورت پڑنے پر بھی دوائی استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ کھانا کھا سکیں۔ قدیم حکیم بھی یہی کہتے تھے کہ علاج بالغذا افضل ہے۔ ویسے بھی دوائیاں کھا کھا کر لوگوں نے اپنی صحت تباہ کر لی تھی اور ان میں قدرتی مدافعت کم ہو رہی تھی۔ انگریزی ادویات کے متعلق یہی بتایا جاتا ہے کہ ان کی تاثیر گرم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک میں فحاشی پھیلنے کی ایک وجہ یہ ادویات بھی ہوں گی۔
موجودہ حکومت نے ادویات کی قیمت کو قدرتی طور پر بڑھنے دے کر ان مسائل کو حل کیا ہے، اس کی تعریف کرنی چاہیے۔ اس سے صحت کے شعبے پر سے بوجھ میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور لوگ اب بیماری کی صورت میں بے شمار سائیڈ افیکٹس والی زہریلی دوائی پینے کی بجائے صبر کا گھونٹ بھر لیتے ہیں۔
موجودہ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ شہری سکون کی دولت سے جلد از جلد مالا مال ہو سکیں۔ وزیراعظم بتا بھی چکے ہیں کہ سکون کیسے ملتا ہے، اور وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ڈالر اور ڈینگی کی مصنوعی روک تھام پر پابندی اور ان کی قدرتی طریقے سے بڑھوتری بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔


