اقبال کا پیغام
ہر سال 9 نومبر کا دن آتا ہے اور ہمیں اپنے قومی شاعر، فلسفی اور شاعر مشرق کے یوم پیدائش کی یاد دلاتا ہے تاکہ ہم حکیم الا مت اور ترجمان حقیقت کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔
اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افق خاور پر
بزم میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں
افق شاعری کا یہ تابندہ ستارہ 9 نومبر، 1877 کو پنجاب کے ایک گوشے سیالکوٹ میں طلوع ہوا اور اقبال نام پایا۔ اردو زبان جس شاعر پر بجا طور پر ناز کرتی ہے اور جس کو دنیا بہترین شعرا ٔ کی صف میں کھڑا کر سکتی ہے، وہ اقبال ہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے اقبال کا پیغام ہے۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
علامہ اقبال کے نزدیک نوجوان قوم کے لئے سر مایۂ افتخار اور لازمی جزو ہیں۔ عصر حاضر میں نوجوانوں کے کردار کو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں، نوجوانوں کے کردار کی ہی مرہون منت ہوا کرتی ہیں۔ وہ اپنی نوجوان نسل کو خودی مضبوط بنانے کی تلقین کرتے ہیں۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد
علامہ اقبال نے شاعری کو مجاز کی دنیا سے نکال کر حقیقت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ اپنے دل کے سوز کو شعر بنایا۔ اپنی روح کی تڑپ کو لفظوں میں ڈھالا اور اپنے آنسووں کے نم حرفوں کو لباس عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور شخصیت کو دوام نصیب ہوا۔ وہ فرماتے ہیں :۔
اوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے
عشق کے درد مندوں کا طرز کلام اور ہے
اقبال کا پیغام اسلام کا پیغام ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے لئے قرآن کے سمندر سے موتی چنے ہیں اور قرآن ایک ایسا آئین زندگی ہے جو ہر دور کے انسان کی ضرورت ہے۔ جو زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بتایا کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں روشنی قرآن سے لینی ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں :۔
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن
( اگر تم مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن کریم کو زندگی کا حصہ بنائے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ )
علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیں بتایا کہ اگر ہمیں بحیثیت قوم زندہ رہنا ہے تو ہم اپنے دلوں کو جذبہ ایمانی اور خدا پر کامل یقین کے نور سے منور کریں۔ زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ کوشش میں خلوص اور یقین کامل شامل ہو تو منزلیں خود مسافر کا استقبال کیا کرتی ہیں۔
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
آج اس دور میں ہمیں جن مختلف دشواریوں (چیلنجز) کا سامنا ہے، یہ تقاضا ماضی کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے کہ ہم اقبال کا تذکرہ صرف رسمی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ فکر اقبال کو اپنے قومی نظام تعلیم و تربیت کا عملی حصہ بنائیں،
اٹھ کہ خورشید کا سامان سفر تازہ کریں
نفس سوختہ شام و سحر تازہ کریں
ہمیں یہ اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری قوم کا شیرازہ صرف اسی وقت تک بندھا رہ سکتا ہے جب تک کہ ہم مذہب اسلام اور تہذیب اسلام کے ساتھ منسلک ہیں۔ آئیے، آج علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر اللہ تعالٰی کے حضور ہم سب مل کر اپنے وطن عزیز اور اس کے باسیوں کے لئے دعا کریں :۔
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے
رفعت میں مقاصد کو ہمدوش ثریا کر
خود داریٔ ساحل دے، آزادیٔ دریا دے
بے لوث محبت ہو، بیباک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے


