مفتی منیب الرحمن! آپ کے مدارس بھی انگریزوں کی مدد سے چلتے تھے


جب حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا تو مفتی منیب الرحمن صاحب نے تحریک لبیک کے قائدین اور حکومتی ٹیم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا

” میں یہاں پر پوری قوم سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے۔“

اس کے بعد وہ کالعدم تحریک لبیک کے دھرنے میں گئے اور وہاں پر انہوں نے جو خطاب کیا وہ واضح طور پر تحریک لبیک کی فتح کا اعلان تھا۔ علاوہ ازیں اس خطاب میں انہوں نے کہا:

” اس وقت اہل سنت و الجماعت پورے پاکستان میں یورپ میں امریکہ میں افریقہ میں یہاں تک کہ انڈیا میں بھی وہ قلبی اور روحانی طور پر ہمارے ساتھ شریک ہیں۔“

اگر یہ یہ بات صحیح ہے کہ یورپ کے مسلمان بھی قلبی اور روحانی طور پر تحریک لبیک کے دھرنے کے ساتھ ہیں تو پھر پاکستان میں دھرنا دینے اور اتنے پولیس والوں کو شہید کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جس گستاخانہ مواد پر یہ احتجاج کیا جا رہا ہے وہ فرانس میں شائع ہوا تھا۔ یورپ کے ممالک میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں آباد ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں کی پانچ فیصد آبادی مسلمان اور ان کی تعداد تیس اور چالیس لاکھ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

جس طرح پاکستان میں اس تنظیم کے پانچ دس ہزار لوگوں نے بقول مفتی صاحب کہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کی ایک اہم شاہراہ کو بند کر کے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ اسی طرح با آسانی چار پانچ ہزار لوگ جو کہ حقیقت میں دل و جان سے تحریک لبیک کے حامی ہیں فرانس میں پیرس کی رنگ روڈ کو بند کر کے وہاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن کر سکتے تھے۔ بلکہ ان کو مجبور کر سکتے تھے کہ تم اپنی حکومت کو تبدیل کرو ورنہ ہم پیرس پر دھاوا بول دیں گے۔

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ گستاخانہ مواد فرانس میں شائع ہوا اور وہاں پر تحریک لبیک کے ساتھی خاموش بیٹھے رہے۔ لیکن فرانس میں شائع ہونے والے مواد کی پاداش میں پنجاب پولیس کے درجن بھر مسلمان سپاہیوں کو شہید کر دیا اور پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچا یا۔ یہ تجربہ فرانس میں کیوں نہیں کیا گیا؟ شاید اس لئے کہ وہاں کی حکومت مفاہمت کے نام پر کسی خفیہ معاہدے پر آمادہ نہیں دکھائی دے رہی تھی۔

اس کے بعد انہوں نے تحریک لبیک کے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ چمن یعنی پاکستان ”اب تمہارا نہیں رہے گا۔ ہمارا رہے گا۔ اور اپنی وراثت سے ہم غافل نہیں ہوں گے۔ اور جو بکواس کرتے تھے کہ علماء نے پاکستان کی مخالفت کی ہے۔ وہ تمہارے اجداد ہیں جنہوں نے مجاہدین آزادی کے خون کے بدلے میں جاگیریں لی ہیں۔“

یہ واضح ہے کہ بقول ان کے اس تنظیم کے لاکھوں ساتھی فرانس میں تو موجود ہیں لیکن وہ وہاں پر کوئی کارروائی نہیں کریں گے حالانکہ گستاخانہ مواد وہاں پر شائع ہوا تھا۔ لیکن اس پاداش میں کہ وہاں پر یہ مواد شائع ہوا پاکستان کے ان مسلمانوں کو جو ان کے ساتھ نہیں ہیں یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ اب یہ ملک تمہارا نہیں رہے گا کیونکہ یہ ہماری وراثت ہے۔

مفتی صاحب نے اپنے مخالفین کو پکار کر کہا کہ تمہارے اجداد نے مجاہدین آزادی کے خون کے بدلے جاگیریں لی تھیں۔ یعنی وہ مخالفین کو رگیدتے ہوئے ان کے باپ دادوں کو بھی برا بھلا کہنے لگے۔ اور کہا کہ انہوں نے اپنوں کے خون کے بدلے انگریز حکومت سے جاگیریں لی تھیں۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ تحریک لبیک کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے اور یہ فرقہ احمد رضا خان صاحب بریلوی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ مناسب ہو گا اگر جائزہ لے لیا جائے کہ جب ہندوستان میں برطانوی حکومت قائم تھی تو اس وقت اس مسلک کے علماء نے برطانوی حکومت کے بارے میں کیا فتوے جاری کیے تھے؟ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی فتوے میں ایک ملک کو دارا الاسلام قرار دیا جائے تو پھر اس کی حکومت کے خلاف ہر گز جہاد نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر کسی ملک کو دارالحرب قرار دیا جائے تو پھر اس کی حدود میں بعض احکامات ساقط ہوتے ہیں یا بعض صورتوں میں اس کی حکومت کے خلاف جہاد کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بریلوی مسلک کے بانی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے اس وقت ایک کتاب اس موضوع پر تحریر فرمائی تھی۔ اس کتاب کا نام ”اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام“ اس نام کا ترجمہ ہے ”علم کے پہاڑوں کا اعلان کہ ہندوستان دارالاسلام ہے۔“ اس میں احمد رضا خان صاحب نے علمی دلائل سے ثابت کیا تھا کہ برطانوی حکومت کے تحت ہندوستان یقینی طور پر دارالاسلام ہے اور اسی کسی طرح ایسا ملک نہیں قرار دیا جا سکتا جس کی حکومت کے خلاف جہاد جائز ہو۔ وہ لکھتے ہیں :

”ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلکہ علماء ثلاثہ رحمۃ اللہ علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہر گز دارالحرب نہیں“ پھر انہوں نے دارالحرب کی نشانیاں لکھ کر یہ نتیجہ پیش کیا :

”مگر یہ بات بحمد اللہ یہاں قطعاً موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین و اذان و اقامت و نماز با جماعت وغیرہ شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔ فرائض نکاح رضاع، طلاق۔ عدت، رجعت، مہر، خلع، نفقات، حضانت، نسب، ہبہ، وقف، وصیت، شفعہ وغیرہ بہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غراء بیضاء کی بناء پر فیصل ہوتے ہیں کہ ان امور میں حضرات علماء سے فتویٰ لینا اور اسی پر عمل و حکم کرنا حکام انگریزی کو بھی ضروری ہوتا ہے۔“

یہ بات قابل غور ہے کہ جب انگریز یہاں پر حکمران تھا تو اس فتوے کی رو سے اس کے خلاف بغاوت جائز نہیں تھی اور اب یہ حال ہے کہ ہر کچھ عرصہ بعد پاکستان کی حکومت اور دارالحکومت کے خلاف دھاوا بولا ہوتا ہے۔ مفتی منیب صاحب نے اپنے مخالفین کو اس بات کا طعنہ دیا کہ ان کے آبا  نے انگریزوں سے جاگیریں حاصل کی تھیں۔ شاید ان کو اس بات کا علم نہ ہو کہ خود ان کے مسلک کے مذہبی مدارس بھی انگریز حکومت سے مالی مدد لے کر چلائے جاتے تھے۔ جب احمد رضا خان صاحب سے یہ سوال کیا گیا کہ ان دینی مدارس کے لئے انگریز حکومت سے مالی مدد لینے کے بارے میں کیا فتویٰ ہے تو انہوں نے یہ جواب دیے

”جب کہ وہ مدرسہ صرف دینیات کا ہے اور امداد کی بنا پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعا کوئی حرج نہیں تعلیم دینیات کو جو مدد پہنچتی تھی اس کا بند کرنا محض بے وجہ ہے۔“

” جو مدارس ہر طرح سے خالص اسلامی ہوں ان میں وہابیت نیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو، ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہے ایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ اگر اپنے پاس سے امداد کرتی لینا جائز تھا۔“

[رسائل فتاویٰ رضویہ جلد 14 رسالہ نمبر 6 ص 11 و 12 ]

مفتی منیب الرحمن صاحب اس طرف توجہ فرمائیں کہ اس پس منظر میں جبکہ انگریزوں کے دور میں یہ بھی جائز سمجھا گیا کہ انگریز حکومت کی مالی مدد سے دینی مدارس چلائے جائیں تو اب انگریز کے رخصت ہونے کے 74 سال بعد اپنے مخالفین کو یہ سنانا کہ تمہارے آبا  نے انگریزوں سے جاگیریں لی تھیں ایک بے معنی بات ہے۔

ہماری گزارش ہے کہ اگر آپ کے لاکھوں ساتھی فرانس اور یورپ میں موجود ہیں تو وہاں پر دھرنوں کا شوق پورا فرمائیں۔ بار بار کے دھرنوں سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ نہ کریں۔

Facebook Comments HS