آخری کال کی تیاری

موبائل فون کی گھنٹی بجی اور بجتی رہی لیکن وہ کچھ مصروفیت کی وجہ سے بات نہ کر سکیں۔ ان کے پاس مہمان بیٹھے تھے۔ دوپہر سے شام ہو گئی۔ اور واپس کال نہ ہو سکی۔ شام رات میں ڈھلنے لگی اور موسم کی خنکی گھر کے دریچوں سے کمروں میں اترنے لگی تو انھوں نے دروازے بند کر دیے۔ ہیٹر آن کیا۔ اور نماز کی ادائیگی کے لئے تیاری شروع کر دی۔
اگرچہ وہ عمر کے پچاس سال گزار چکی ہیں لیکن چاق و چوبند ہیں۔ بس ٹانگوں اور گھٹنوں نے کچھ دغا دینا شروع کر دیا ہے۔ اٹھنے بیٹھنے میں دقت محسوس کرنے لگی ہیں اور نماز کی حاضری تو بس کرسی پر ہی رہ گئی ہے۔ خیر انھوں نے پوری توجہ سے مولا سے دل کی باتیں کیں۔ اپنی حاجتیں کہیں۔ ایمان کی سلامتی مانگی۔ فاصلوں میں دور لیکن دل سے قریب اپنی اولاد کے لئے عزت، تکریم، دانائی اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے ہاتھ پھیلائے۔ اور اٹھ کر اپنے بستر پر آ گئیں۔
پاؤں پسارے اور نرم، گرم کمبل اپنی ٹانگوں پر اوڑھ لیا۔ سائیڈ ٹیبل پر پڑا فون اٹھایا اور اسی نمبر پر کال کرنے لگیں جس سے صبح سے بات نہیں کر سکیں۔ دوسری طرف جیسے وہ منتظر ہی تھی۔ چھوٹتے ہی کہنے لگی۔ کہاں تھیں آپ؟ سارا دن آپ کا نمبر ڈائل کرتی رہی (مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ) ۔ آپ کو میری پرواہ ہی نہیں ہے۔ وہ پیاری بیٹی! رکو تو، بات تو سنو، لیکن وہ سننے کے نہیں سنانے کے موڈ میں تھی۔
کہنے لگی، جب سے مجھے بیاہ دیا ہے۔ آپ تو میری طرف سے بے فکری ہی ہو گئی ہیں۔ یہاں نہ میرا دل لگتا ہے۔ نہ کوئی نخرے اٹھاتا ہے۔ آپ کی غلطی ہے، مجھے بتانا چاہیے تھا کہ شادی اتنی مشکل چیز ہے۔ اتنے سارے لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا بہت مشکل ہے۔ میری تو ملازمت کے ساتھ مت ماری گئی ہے۔ اس سے تو اچھا آپ کا گھر تھا۔ سب کچھ کیا کرایا ملتا تھا۔ امی! میری تو اچھی خاصی زندگی میں بھونچال آ گیا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے مینیج کروں؟ وغیرہ وغیرہ۔ ( درمیان میں رونا دھونا بھی ہوتا رہا) ۔
وہ چپ چاپ سنتی رہیں۔ کئی دفعہ اس کی باتیں ان کو ماضی میں لے جاتی رہیں لیکن وہ پھر حال میں اسے سننے لگتیں۔ فون سے مسلسل امی، امی کی آوازیں آ رہی تھیں لیکن انھوں نے خاموشی سے لائن کاٹ دی۔
کال بند ہو گئی۔ فون ایک طرف رکھ دیا اور انھوں نے کمبل مزید اپنے سینے تک کر لیا۔ سر کے پیچھے دو، تین تکیے ٹکا کے وہ کھڑکی کی طرف دیکھنے لگیں۔ جس کا پردہ تھوڑا ایک سائیڈ پر تھا جہاں سے رات کی تاریکی کا گہراؤ واضح تھا۔ اور شیشے پر جمی کہر ہرطرف حاوی تھی۔ بظاہر نظریں اس طرف لگی تھیں لیکن ذہن کہیں اور سفر کر رہا تھا۔ جہاں ان کی بیٹی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی۔
گھر میں خوب رونق تھی۔ ان کی بیٹی ان کی رضامندی اور اپنی چاہت سے اپنی زندگی کے نئے مرحلے کے لئے پر جوش تھی۔ بلکہ اس کے پاس ایک لمبی لسٹ تھی جو اسے پوری کرنی اور کروانی تھی۔ فلاں پارلر، وہ ڈیزائنر، اس جگہ کی ایونٹ منیجمنٹ، الیکٹرانکس، کپڑوں، جوتوں کے برانڈز، اس طرح کی تھیم پریکٹس، فوٹوگرافر ہائرنگ اور ایسی ہی بے تحاشا لوازمات۔ مطلب کہ تیاریاں عروج پر تھیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے۔ بہرحال وہ وقت آیا اور باحسن پورا ہوا۔ لیکن وہ خوشی اور سکون میسر نہ ہو سکا جس کی اس بندھن سے توقع اور تمنا تھی۔
شادی کے اگلے ہی دن سے ان کی بیٹی کے گلے شکوؤں کی لائن لگ گئی تھی۔ دن میں کئی دفعہ ایسی بے آرامی والی کالز اور باتیں کرتی تھی۔ جس سے وہ خود بھی بے کل تھی اور ان کا تو سارا دن ہی بے چین گزرتا تھا۔ کچھ ماننے کو وہ تیار نہیں تھی۔ اور ایسا حال صرف ان کی بیٹی کا نہیں تھا۔ تجربے کی آنکھ سے وہ پورا اندازہ لگا سکتی تھیں کہ ان کا داماد بھی ایسی ہی گنجلکوں کا شکار تھا۔ شادی کرنے کا چارم، شادی نبھانے میں اتر کر کوسوں دور جا پڑا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کے دل کا ملال بھی بڑھتا جاتا تھا۔
یہ احساس انھیں اندر ہی اندر کند چھری سے کاٹتا ہے کہ انھوں نے بڑی بے عقلی کی۔ دور اندیش والدین تو زندگی کے ہر دور میں اچھے سے گزرنے کے لئے اپنی اولاد کو تیار کرتے ہیں۔ اونچ، نیچ سے آگاہ کرتے ہیں۔ ضرور ان سے کوتاہی ہوئی ہے۔ سلجھے ہوئے، پسندیدہ لوگوں اور مختصر خاندان میں رخصت ہو کر ان کی پیاری بیٹی گئی تھی لیکن پھر بھی پریشان تھی۔ وہ سوچتی ہیں پڑھائی، جاب اور خریداری میں طاق ان کی جان جگر اس معاملے میں کیوں ہلکان ہے؟
پھر اکثر یہ خیال آتا ہے کہ آج کی جوان نسل جس کے پاس ڈگریاں، تعلیم، ایکسپوژر، اور خود مختاری ان کی نسل سے کہیں زیادہ ہے۔ جو اپنی زندگی میں آنے والے ہر ایونٹ کے لئے ’ا سے ے‘ تک منصوبہ بندی کرتی ہے۔ مگر نئے لوگوں اور بدلتے رشتوں کے ساتھ تعلق کی ڈور بنانے کو کچھ نہیں سوچتے۔ باہمی رفاقت کی خوش آئند طوالت اور پھر ایک سے دو کا مل کر خاندان کی بنیادیں رکھنے کا پلان ان کے تفصیلی پلاننگ میں کیسے مس ہو جاتا ہے؟
اپنی ہی سوچوں سے الجھتی، خود کو اپنے سامنے سوالوں، جوابوں کے کٹہرے میں کھڑا کیے وہ اندر ابھی تک جاگ رہی ہیں اور باہر تاریکی، گھپ اندھیرے میں بدل چکی تھی۔ ٹھنڈ سے گلے ملتی خاموشی کا راج ہے۔ ایسا سناٹا جو دل کی آنکھ کھولتا ہے۔ یک دم لیٹے لیٹے ایک سوچ سے ان کو جھرجھری آئی کہ ابھی تو ان کی بیٹی پریشانی میں انھیں کال کرتی ہے اور بار بار کرتی ہے اور وہ بھی ہر لمحہ اس کی مدد اور رہنمائی کو تیار رہتی ہیں لیکن پھر بھی ناقص تیاری کا احساس سبھی (وہ، بیٹی، داماد) کو ہوتا ہے۔ اور جب اس عارضی دنیا کے بعد آخرت کا وقت آ گیا اور اس کی بیٹی حقوق العباد اور حقوق اللہ سے متعلقہ کسی جواب پر ہچکچائی یا اٹکی تو وہ کسے فون ملائے گی؟

