جھوٹا بادشاہ


برسوں پہلے ایک کہانی پڑھی تھی۔ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عمر کے اس حصے میں یہ حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملک منافقستان میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ پتا نہیں کہاں سے اس کو یہ عادت لگی کہ وہ جھوٹ بہت بولتا تھا۔ نت نئے جھوٹ بولنا، حقائق کو مسخ کرنا، غربت میں گھری ہوئی قوم کو بے وقوف بنانا اور جھوٹے وعدے کرنا اس کا مشغلہ تھا۔

بادشاہ ایک دن جھوٹ بولتے بولتے تنگ آ گیا۔ اس کو اب مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اچانک اس نے سوچا کہ کیوں نہ جھوٹ بولنے کا مقابلہ کرایا جائے۔ اس نے اعلان کروا دیا کہ جو سب سے اچھا جھوٹ بولے گا، اس کو ہیرے جواہرات سے نوازا جائے گا۔

یہ اعلان سنتے ہی جوق در جوق لوگ آنے شروع ہو گئے۔ اس مقابلے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی گئی اور کافی بھاری تعداد میں لوگ مقابلے کے لیے اپنا نام لکھواتے چلے گئے۔

مقابلے کا دن تھا۔ لوگوں کی بھاری تعداد جمع تھی۔ بادشاہ بھی بہت خوش تھا اور خوش کیوں نہ ہوتا، آخر جھوٹ بولنے کا مقابلہ تھا۔ مقابلے کا آغاز ہوا۔ پہلا شخص آیا اور ایک جھوٹ بولا لیکن بادشاہ کو مزہ نہیں آیا۔

دوسرا آیا لیکن وہ بھی بادشاہ کے معیار پر پورا نہیں اترا۔ اسی طرح کئی لوگ آئے اور ناکام ثابت ہوئے۔

آخر میں ایک شخص آیا اور بولا ”بادشاہ سلامت! آپ کے والد صاحب نے کئی برس پہلے میرے والد صاحب سے سو اشرفیاں ادھار لی تھیں۔ اگر یہ سچ ہے تو مجھے سو اشرفیاں دیجئے اور اگر یہ جھوٹ ہے تو مجھے انعام و اکرام سے نوازیں۔“

بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ شخص واقعی جھوٹ بولنے میں میری طرح ماہر ہے۔ بادشاہ نے کچھ سوچا اور کہا کہ تم جیت گئے اور تمھارا جھوٹ سن کر مجھے بہت اچھا لگا۔ یقیناً تم انعام کے مستحق ہو۔

بادشاہ نے حکم دیا کہ انعام لایا جائے۔ ایک بڑا سا ڈبہ لایا گیا اور اس شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ شخص دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ بادشاہ کو بے وقوف بنا دیا لیکن جیسے ہی اس نے ڈبہ کھولا اس میں پتھر بھرے ہوئے تھے۔ اس نے بادشاہ کی طرف دیکھا۔ بادشاہ ہنستے ہوئے بولا ”ہم نے بھی جھوٹ ہی بولا تھا“ ۔

ابھی کچھ ہی دنوں پہلے یہی بادشاہ سلامت ٹی وی پر تشریف لائے تھے۔ اعداد و شمار کا الٹ پھیر بتایا، ہمیں یہ بھی بتایا کہ میں سب سے سچا انسان ہوں باقی دنیا کے آٹھ ارب لوگ چور ہیں۔ یہ الگ بات کہ سارے چور میرے ارد گرد ہی کیوں جمع ہیں۔

میں تقریر کرتا ہوں تو میرے دائیں طرف اور بائیں طرف کوئی چینی چور، کوئی گندم چور، کوئی قبضہ مافیا، کوئی تیل و پیٹرول چور، کوئی رنگ روڈ اسکینڈل چور، کوئی اسٹاک مارکیٹ چور، کوئی ذخیرہ اندوز چور وغیرہ وغیرہ ہی کیوں موجود ہوتے ہیں۔ میرے ارد گرد دبئی سے فراڈ کر کے اور دبئی میں جیل گزارے ہوئے لوگ کیوں ہوتے ہیں۔

ابھی ہم اس جھوٹے بادشاہ کا رونا رو تھے کہ ایک تصویر دیکھ کر دل پر ایک اور چھری چل گئی۔ یہ تصویر کسی نے سماجی رابطے کی سائٹ پر لگائی ہے جس میں ناروے کی کافر وزیر اعظم آٹھ سال حکومت کرنے کے بعد دو بیگ لے کر ٹرین میں واپس اپنے گھر جا رہی ہے۔ کتنی بے وقوف عورت تھی۔ نہ ہی کوئی گاڑیوں کا پروٹوکول، نہ ہی کوئی پچپن روپے لیٹر سے چلنے والا ہیلی کاپٹر، نہ ہی کوئی پہاڑی پر گھر، نہ ہی اس نے کوئی تحفے میں دی ہوئی چیزیں بیچیں اور نہ ہی اپنا غیر قانونی بنا ہوا گھر قانونی کیا۔

لیکن آپ لوگ اطمینان رکھیں۔ جائے گی یہ جہنم میں! جنت تو صرف ہم مسلمانوں کے لیے ہے۔

Facebook Comments HS