کپتان نے کروڑوں انسانوں کی جان بچا لی
کپتان نے 19 اگست 2018 کو اعلان کیا ”ہمیں ان پاکستانیوں کا سوچنا ہے جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں“ ۔ کپتان سے بغض رکھنے والے ناقد تو یہی سمجھے ہوں گے کہ یہ معمول کا سیاسی بیان ہے اور کپتان اس پر عمل نہیں کرے گا۔ بعضوں نے تو یہ نشاندہی بھی کی کہ بھلا کپتان کو کسی نے کبھی سوچتے بھی دیکھا ہے؟ وہ تو میدان عمل کا آدمی ہے، وہ کام کرتا ہے، سوچتا نہیں ہے۔ بس کام تمام کر دیتا ہے اور قوم بے ساختہ اسے داد دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اب یہی معاملہ دیکھ لیں۔ تین نومبر کو کپتان نے اعلان کیا کہ وہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج اناؤنس کرے گا۔ اور پھر تقریر کی تو کم فہم افراد یہ کہتے پائے گئے کہ اس میں ریلیف کہاں ہے؟ الٹا یہ خبر دی گئی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا۔
اور اگلے دن صبح کاذب سے بھی کہیں پہلے اعلان ہوا کہ پٹرول کی قیمت بڑھا کر 146 روپیہ کر دی گئی ہے۔ مخالفین بغلیں بجانے لگے۔ حامیوں کے ارمانوں پر گیلی اوس وغیرہ پڑ گئی۔ لیکن اہل نظر صاف دیکھ رہے تھے کہ کپتان نے واقعی قوم کو تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ریلیف پیکیج صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جو کپتان کے بغض میں اندھے نہیں ہو گئے بلکہ کپتان کے اعمال و اقوال پر عمیق غور و فکر کرتے ہیں اور ان میں حکمت اور دوراندیشی کی ایسی باتیں دریافت کر لیتے ہیں جو ایک نارمل انسان کو لاکھ کوشش کے باوجود دکھائی نہیں دیتیں۔
کپتان کے دو وقت کی روٹی والے اعلان کو اس ریلیف پیکیج سے ملا کر پڑھا جائے تو معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ اب کسی شخص کو دو وقت کی روٹی نہ ملے تو وہ کیا کرے گا؟ کچھ مدت برداشت کرے گا، اور پھر بے بس ہو کر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا۔
خودکشی کے دو تین طریقے ملک خداداد میں مقبول ہیں۔ دیہات کے باسی فصل میں رکھنے والی کیڑے مار گولیاں کھا لیتے ہیں یا نہر میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ شہری باشندوں کو یہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔ وہ خود پر تیل چھڑک کر آگ لگاتے ہیں۔
ہر قسم کی ادویات، بشمول کیڑے مار اور دل وغیرہ کے امراض کی، اتنی مہنگی ہو چکی ہیں کہ صرف وہی متمول افراد انہیں خرید سکتے ہیں جو دو کیا چار وقت کا کھانا کھانا افورڈ کرتے ہیں۔ جسے دو وقت کا کھانا میسر نہیں وہ اتنی مہنگی خودکشی بھی نہیں کر سکتا۔ اور نہر میں اب پانی کہاں ہوتا ہے۔ پاکستان خشک سالی سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ یعنی دو طریقے تو اب قابل عمل نہیں رہے۔ تیسرا پٹرول والا طریقہ ہی باقی بچا تھا۔
کپتان نے سوچا ہو گا کہ جن پاکستانیوں کو روٹی میسر نہیں کہیں وہ سستا پٹرول خرید کر خود سوزی نہ کر لیں۔ اس لیے محض ان کی جان بچانے کی خاطر حفظ ماتقدم کے طور پر تاریخ میں پہلی بار پٹرول اتنا زیادہ مہنگا کر دیا گیا اور یوں کپتان نے ایک ہی رات میں کروڑوں جانیں بچا لیں۔
تاریخ کا یہ سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیکھ کر ایک حسینہ کی ڈائری یاد آ گئی جو کسی معتبر اور نہایت سنجیدہ کتاب میں پڑھی تھی۔ اس میں بیان کیا گیا تھا کہ کیسے ڈیزی نامی حسینہ نے قربانی دے کر ایک ہی رات میں ڈیڑھ ہزار افراد کی جانیں بچا لیں۔
ڈیزی کی ڈائری
پیر: ڈیئر ڈائری، میں تفریحی کروز جہاز پر جانے کے لیے سامان باندھ چکی ہوں۔ میرے بہترین پارٹی ڈریس، بکنی اور دیگر خوشنما لباس تیار ہیں۔ یہ میرا بحری جہاز کا پہلا ٹرپ ہے۔ میں بے تابی سے اس کی منتظر ہوں۔
منگل: ڈیئر ڈائری۔ آج میں نے سارا دن سمندر کا نظارہ کرتے ہوئے گزارا۔ گہرے نیلے پانیوں میں وہیل اور ڈولفن مچھلیوں کا رقص میری یادوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔ بحری جہاز کے بہت ہینڈسم کپتان سے بھی ملاقات ہوئی۔
بدھ: آج بحری جہاز کے سوئمنگ پول پر وقت گزارا۔ کچھ واٹر سپورٹ کھیلے۔ کپتان نے سب مسافروں کو چھوڑ کر مجھے اپنی میز پر کھانے کی دعوت دی۔ کپتان بہت پرکشش ہے۔ ایسی باتیں کرتا ہے دل وہیں رہ گیا اور اب اس کے سوا کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا۔
بدھ: آج جہاز کے کسینو پر میں نے پانچ سو ڈالر جیتے۔ پول پر گئی تو سورج کی تمازت سے جلد جھلس گئی۔ پھر جہاز کے اندر ریستوران میں چلی گئی۔ تم یقین نہیں کرو گی کہ وہاں وہی ہینڈسم کپتان مجھے مل گیا۔ وہ مجھے اپنے کیبن میں کھانے پر لے گیا۔ کھانا بہت مزے کا تھا مگر اس کی باتوں سے زیادہ نہیں۔ اس نے بہت میٹھی میٹھی باتیں کیں۔ دل کر رہا تھا کہ بس وہ بولتا جائے اور میں سنتی جاؤں۔ اس نے کہا کہ وہ میرے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور ہمیں ایک ہونا ہو گا۔ میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اپنے شوہر سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
جمعرات: آج شام میں بار میں گئی تو کپتان پھر مل گیا۔ اس نے مجھے ڈرنکس کے کئی راؤنڈ خرید کر دیے۔ وہ بھی میری شخصیت سے بہت متاثر ہے۔ کہنے لگا ”ڈیزی تم مجھے نہ ملیں تو میں مر جاؤں گا۔ تم واقعی پھولوں جیسی ہو، میرا دل دکھتا ہے جب تم ایسے عام مسافروں والے کیبن میں سوتی ہو۔ پلیز آج رات میرے کیبن میں چلو۔ ورنہ میں جہاز ڈبو دوں گا“ ۔ ہینڈسم کپتان کو دیکھ دیکھ میرا دل تو ڈول رہا تھا مگر میں نے دل پر پتھر رکھ کر انکار کر دیا۔
جمعہ: آج سارا دن تفریحات میں گزرا۔ ہینڈسم کپتان نے میرے ساتھ پول اور پن بال کھیلی۔ شام کو ہم دوبارہ بار میں اکٹھے گئے۔ ڈرنکس آتے گئے اور کپتان مجھ سے محبت کا اظہار کرتا رہا۔ وہ تو بالکل ہی پاگل ہو گیا ہے۔ لیکن مجھے اس کے لفظ لفظ پر اعتبار ہے۔ اس نے مجد سے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ اس نے کہا ہے کہ میں نے اپنی ہستی اس کے سپرد نہ کی تو وہ واقعی جہاز ڈبو دے گا۔
ہفتہ: آج میں نے ایک ہی رات میں ڈیڑھ ہزار انسانوں کی جان بچا لی۔ وہ بھی تین بار۔



