امریکہ میں ایک انسانی پناہ گاہ کی اندرونی کہانی
یہ کہانی امریکہ کی ایک ایسی انسانی پناہ گاہ کی ہے جسے ایک متوسط طبقے کا خاندان اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہا تھا۔ یہ داستان ایک ایسی انسانی پناہ گاہ کی ہے جس کی چھت کے سائے تلے گزرے چند ہفتوں اور راتوں نے کسی مجبور کی زندگی اور زندگی کے بارے اس کا نقطہ نظر ہی بدل ڈالا۔
عبدالرحمن کو زندگی ایسے موڑ پر لے آئی جہاں اسے بے رحم موسم اور بے درد زمانے سے بچنے کے لیے ایک محفوظ انسانی پناہ گاہ کی ضرورت تھی۔ یہ اس کا کسی انسانی شیلٹر ہوم میں رہنے کا پہلا تجربہ تھا۔ جہاں اسے انجان لوگوں کے ساتھ ایک چھت تلے آنے والی کئی راتیں اور دن گزارنے تھے۔ جس شام وہ شیلٹر ہوم پہنچا، اس سے بہتر گھنٹے پہلے وہ ایک حادثے سے دو چار ہوا جس نے اس سے زندگی کی تمام نعمتیں چھین لی تھیں۔ وہ بے گھر ہو گیا، اس کی روزی کا ذریعہ چھن گیا اور سب سے بڑھ کر شہر میں اس کا کوئی اپنا بھی نہیں تھا۔
وہ غریب الوطن جس شام شیلٹر ہوم پہنچا تو اس نے عجیب منظر دیکھا، ہر عمر، رنگ اور نسل کے لوگ قطار میں کھڑے شیلٹر کے اندر جانے کے منتظر تھے۔ باہر بلا کی سردی تھی اور شیلٹر کا مین گیٹ بند تھا۔ گیٹ کے اوپر جلی حروف میں اس انسانی پناہ گاہ کا نام بھی لکھا ہوا تھا جو 1910 ء میں قائم ہوئی۔ سچائی کا گھر، یہ نام تھا اس پناہ گاہ کا ۔ عبدالرحمن اس سچائی کے گھر کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کا مشتاق ہوا۔ پھر اچانک شیلٹر کا صدر دروازہ کھلا، اس میں سے دو آدمی نمودار ہوئے، ایک بوڑھا، اس کی کمر جھکی ہوئی اور دوسرا قدرے ادھیڑ عمر، جس کی سرخ داڑھی تھی۔
ان آدمیوں کو دیکھتے ہی باہر کھڑے سب لوگوں کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ ایک دوسرے سے علیک سلیک کرنے لگے۔ شاید وہ پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ ان آدمیوں نے اعلان کیا کہ جو پہلے سے رجسٹرڈ لوگ ہیں وہ اندر تشریف لائیں اور باقی باہر کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کریں۔ باہر رہ جانے والوں میں صرف عبدالرحمن ہی تھا جسے ابھی رجسٹریشن کے مرحلے گزرنا تھا۔ پھر سرخ داڑھی والا شخص اس کے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں رجسٹریشن شیٹ تھی۔ وہ عبدالرحمن سے اس کا بائیو ڈیٹا پوچھنے لگا۔ ایک مرحلے پر آ کر وہ رک گیا، جب اس نے پوچھا کہ تمہیں یہاں پناہ لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
عبدالرحمن بولا، خدا کی مرضی ایسی ہی تھی کہ مجھے یہاں پناہ لینی پڑ رہی ہے۔ سرخ داڑھی والا یہ جواب سن کر چونک گیا اور بغیر مزید بات کیے ہال کے اندر چلا گیا۔ عبدالرحمن کوایک لمحے کے لیے لگا کہ شاید اس نے سچ بول کر غلطی کر دی، وہ جلد از جلد شیلٹر کے اندر جانا چاہتا تھا کیونکہ باہر سردی سے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ سرخ داڑھی والا واپس آیا اور اب اس کے ساتھ، شیلٹر ہوم کا مینجر بھی آیا جو اس پناہ گاہ کے انتظام و انصرام کا ذمہ دار تھا۔ اس نے آتے ہی ایک پولیس والے کے انداز میں عبدالرحمن کو کہا، جناب آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ کو اس پناہ میں رہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیا آپ کو گھر سے نکال دیا گیا ہے، کیا آپ غریب ہیں، آپ کا اپنا کوئی گھر نہیں یا کوئی اور وجہ، ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے۔
عبدالرحمن نے اپنی بات دہرائی کہ اٹ از دی ول آف گاڈ۔ نہ میں گھر سے نکالا گیا ہوں اور نہ ہی میرا کوئی اپنا گھر ہے۔ مینجر نے اسے ذہنی مریض سمجھ کر کاغذ پر وہی لکھ دیا جو اس نے کہا، اٹ از دی ول آف گاڈ۔ پھر اس کی ہر زاویے سے کچھ تصویریں بنائی گئیں، ایسے ہی جیسے جیل میں جانے سے پہلے قیدیوں کے مختلف اینگلز سے فوٹو کھینچے جاتے ہیں۔ رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد عبدالرحمن کو شیلٹر کے اندر جانے کی اجازت ملی۔
جونہی وہ پناہ گاہ کے مین ہال میں داخل ہوا تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا۔ اس بڑی بلڈنگ میں ٹھنڈ سے بچنے کا سنٹر کولنگ سسٹم کا بندوبست کیا گیا تھا، ہال کے چاروں اطراف بڑے بڑے صوفے لگے ہوئے تھے جن پر میلے کچیلے لوگ بڑے مزے سے بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے، ہال کے ایک کونے میں چھوٹی سی لائیبریری، دیوار پر لگا ایک بڑی سکرین والا ٹی وی، اور وہاں کا صاف ستھرا ماحول، یہ کچھ عبدالرحمن کو اچھا لگا۔
ہال میں کسی انسان کے بڑے پوسٹر کے نیچے لکھے گئے الفاظ، قابل غور تھے۔ وی سرو ہیر ود دی پیشن آف جیزز ( ہم یہاں عیسی ؑ کے جذبے کے ساتھ خدمت کرتے ہیں ) ۔ عبدالرحمن کا فی دیر تک ان الفاظ کے معانی پر غور کرتا رہا مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اسے وہاں بیٹھے تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کہ ہال کے عقبی دروازے سے کچھ مرد، خواتین اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بچے نمودار ہوئے۔ انہوں نے سب مہمانوں کو شام کا سلام، گڈ ایوننگ کہا اور بتایا، آج وہ سب ان کے میزبان ہیں۔ انہوں نے اپنے مہمانوں کے لیے رات کے ڈنر میں بہت خاص ڈش اور سوپ تیار کی ہے۔ یہ سن کر صوفوں پر بیٹھے دن بھر کے بھوکوں کے چہروں پر رونق آ گئی۔ اس کے بعد فرنچ کٹ والا، ایک لمبا تڑنگا اور باڈی بلڈر نما شخص آگے بڑھا اور اس نے اپنی گرجدار آواز میں شیلٹر ہوم میں رہنے کے قوانین و ضوابط بآواز بلند دہرائے۔
وہ باڈی بلڈر نما شخص، اس کے ہاں پناہ لینے والے تمام بے گھروں کو بڑے سخت لہجے میں تنبیہ کر رہا تھا کہ کچھ لوگ، اس سچائی کے گھر کے ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس نے کسی کا نام لیے بغیر، لوگوں کو ان کی غلطیوں کی نشان دہی کروائی کہ کچھ لوگ رفع حاجت کے بعد اپنے کیے پر پانی نہیں پھیرتے جس سے دوسرے افراد کو بڑی تکلیف کا سامنا ہے۔ کچھ لوگ اپنے حصے کی صفائی کا کام ختم کرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسے گلہ تھا کہ کچھ حضرات کی جرابوں اور پاؤں سے بہت بدبو آتی ہے، اس لیے، اس نے انہیں خبردار کیا وہ سونے کے لیے بستر پر جانے سے پہلے اپنے پاؤں دھویا کریں اور اپنی جرابیں باہر رکھیں۔ اس نے اعلان کیا کہ اگر کسی کو ضرورت ہوتو وہ ہم سے نئی جرابیں اور کپڑے بھی لے سکتا ہے۔ اس نے نہ نہانے سے کترانے والوں کو آخری وارننگ دی کہ اگر وہ اپنی باری پر نہ نہائے تو انہیں پناہ گاہ سے بے دخل کر دیا جائے گا
باہر سے اخروٹ کی طرح سخت نظر آنے والا وہ شخص، دراصل اندر سے اتنا ہی نرم تھا۔ اس کا نام مارٹی تھا۔ مارٹی اور اس کی بیوی، اس انسانی پناہ کو کئی عرصے سے چلا رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے شہر کے وسط میں ایک بڑی بلڈنگ خریدی، جہاں بے گھر افراد کو رات سونے کے لیے چھت فراہم کی جاتی۔ شیلٹر ہوم کا انتظام چلانے کے لیے انہوں نے مستقل بنیادوں پر ایک مینجر رکھا ہوا تھا اور وہاں کے دیگر کاموں کی نگرانی کے لیے کچھ رضاکار بھی ہر وقت موجود رہتے جن میں سرخ داڑھی والا اور وہ بوڑھا شخص بھی شامل تھا۔ پناہ گاہ میں آنے والوں کو مہمان کا درجہ حاصل تھا، انہیں اپنا گیٹ کہہ کر پکارا جاتا، انہیں وہاں روزانہ گرم کھانا پیش کیا جاتا جو شہر کے مخیر حضرات اپنے گھروں سے بنا لے کر آتے۔ وہ اور ان کے ساتھ آئے ہوئے بچے، بڑے شوق سے دن بھر کے بھوکوں کو خود اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتے۔
مارٹی کی باتیں سب مہمان سر جھکا کر سن رہے تھے لیکن عبدالرحمن کو اس کا تحکمانہ لہجہ پسند نہیں آیا۔ خیر یہ اس کا پہلا دن اس لیے وہ خاموش رہا اور کچھ نہ بولا۔ مارٹی کی تقریر کے بعد ویل چئیر پر بیٹھا ایک بوڑھا آگے بڑھا اور اس نے کھانے سے پہلے کی دعا پڑھی، سب کو کہا کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کریں جس نے ان کے لیے رات سونے کے لیے گرم بستر اور پیٹ بھرنے کے لیے گرم کھانے کو بندوبست کیا۔ اس کی دعا کے بعد سب نے اونچی آواز میں امین کہا اور پھر سب کو ایک ایک کر کے ڈائننگ ہال جانے کی اجازت ملی۔
وہ ڈائننگ ہال بھی کیا زبردست قسم کی جگہ تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ آدمی کسی بڑے ریسٹورنٹ میں آ گیا ہو۔ سلیقے سے سجی میز اور کرسیاں، لش پش کرتے صاف فرش، تازہ کھانے کی خوشبو سے مہکتی ہوئی فضا اور وہاں کام کرتے ہوئے صاف ستھرے لوگ۔ جب مہمان کھانے کی گھول میز کے گرد بیٹھ گئے تو وہاں آئے ہوئے بچوں اور خواتین نے ان کے سامنے کھانا جڑنا شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ، ان کی فرشتوں بھری مسکراہٹیں، شکستہ دلوں کو تسکین کا سمان بھی میسر کر رہی تھیں۔ وہ ہر ایک کے سامنے کھانا رکھتے، ان کی طرف مسکرا کر دیکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ اپنے جیسے انسانوں کی خدمت کرنے والوں کے مسکراتے چہرے دیکھ کر شاید دنیا کے دھتکارے ہوئے اور بے گھر افراد کی ڈھارس بندھتی ہو۔ ان کے دل میں امید کی کوئی کرن جاگتی ہو۔ ان کا انسانیت پر بھروسا بڑھتا ہو۔
اس شیلٹر ہوم میں بے گھر افراد کو امید دلانے اور گھر جیسا ماحول فراہم کرنے کے لیے بچوں کو بھی شیلٹر ہوم میں کام کرنے اجازت تھی۔ بچے وہاں اپنے والدین اور خاندان والوں کے ساتھ آتے ہیں اور اس انسانی پناہ گاہ میں بے گھر افراد کو کھانا پیش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ارد گرد پیارے اور معصوم بچوں کو دیکھ کر بے گھر افراد اپنے خوبصورت ماضی میں کھو جاتے ہیں جب کبھی وہ بھی اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے بچے بھی یونہی بڑوں کے گرد منڈلاتے اور اچھلتے کودتے نظر آتے۔
بچے جب اپنے بڑوں کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہوتے ہیں تو در حقیقت، وہ انسانی رویوں کے معراج کا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر شے کی ایک معراج ہوتی ہے۔ معراج کیا ہے، وہ نقطہ جسے انسانی زبان میں نقطہ ء انتہا کہا جاتا ہے۔ وہ نقطہ جو دراصل نقطہ ء آغاز بھی کہلاتا ہے، ان دو نقاط کے درمیان سفر کو معراج کا سفر کہا جا تا ہے، ایک سفر وہ بھی ہے، جو عدم سے شروع ہو کر اور عدم پر ہی ختم ہو جا تا۔ انسان کی زندگی کا سفر بھی عدم کی دنیا کا سفر ہے۔ ہم خود اس دنیا میں نہ ہی اپنی مرضی سے آئے اور نہ یہاں سے جا نا چاہتے ہیں، ہم اپنی مرضی سے جینا مرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کیا خوب ہو گا اگر ہم اپنا یہ سفر، دوسروں کی خدمت کرنے کے ذریعے خوشگوار بناتے ہوئے اس دنیا سے چلیں جائیں اور اپنے بچوں کو بھی اس بات کی تربیت دیں۔
آج ہمارا معاشرہ انفرادیت زدہ ہوتا جا رہا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوئے اجتماعی مسائل کے حل کی طرف آگے بڑھیں۔ آج کل ہمیں ایک عجیب خارش نما معاشرتی بیماری کا سامنا ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی سے جینا چاہتا ہے۔ ضرور جئیں، ہر ایک کو اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہونا چاہیے، یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن مرضی سے جینے کی بھی کچھ حدود طے ہونی چاہئیں، وہ حدود جو انسان باہمی رضا مندی سے طے کریں، ان حدود میں رہنے کے لیے خاص قسم کے رویوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ بچوں میں دوسروں کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی خدمت کرنا جانتے ہوں، کسی انسان کی خدمت کرنے سے پہلے، انسانیت کی عظمت کا درس سیکھنا ضروری ہے، جس کا آغاز گھر کی درس گاہ اور ماں کی گود سے ہوتا ہے۔
انسان کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کہ اسے قدرت نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو انسانی مسائل اور ان کی مشکلات کا جائزہ لینا سکھانا چاہیے تاکہ بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے اور وہ اپنے رویوں میں بہتری لانے کے سفر پر کامیابی سے آگے بڑھتے رہیں۔ شیلٹر ہوم میں بھی کام کرنے والے بچے بڑے شوق سے آتے ہیں اور بہت احترام کے ساتھ بڑوں کے سامنے کھانا رکھتے ہیں، ان سے ان کی ضرورت کا پوچھتا ہیں، یہ سب بے گھر افراد کا انسانیت پر بھروسا بڑھانے کے لیے اور انہیں امید دلائے رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
خیر واپس اپنی کہانی کی طرف آتے ہیں، عبدالرحمن نے کیا دیکھا کہ کھانا سامنے آنے کے بعد دن بھر کے بھوکے، تھکن سے چور اور سردی سے نڈھال لوگ اس پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ نوالے پیٹ میں جانے کے بعد انہیں باقی دنیا کی ہوش آئی تو وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ اس ہال میں لگ بھگ چالیس لوگ موجود تھے جنہیں وہاں مہمان کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ چالیس انسان نہیں چلتی پھرتی چالیس داستانیں تھیں۔ عبدالرحمن کی طرح ہر ایک کی اپنی الگ کہانی تھی۔ کسی بوڑھے کو اس کی اولاد نے گھر سے نکلا دیا تو کسی جوان کی زندگی نشے کی عادت نے تباہ کردی۔ کوئی کسی جرم میں جیل جانے کے بعد واپس نارمل زندگی نہیں گزار سکا تو کوئی کسی جسمانی یا ذہنی بیماری کا شکار ہوا، تو کوئی بنک کرپٹ ہونے کے بعد اپنی سب نعمتوں سے محروم ہو گیا۔
اس انسانی پناہ گاہ میں گزرے دنوں کی یاد میں عبدالرحمن کو وہ وقت کبھی نہیں بھولتا، جب وہ ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے لوگوں کی باتیں سنتا، زندگی میں ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی روداد سن کر اپنے لیے نت نئے سبق سیکھتا، امریکہ کی سیاست اور نظام پر ان کی رائے جانتا، ان سے جینے کی وجہ اور مقصد معلوم کرتا۔ اس پناہ گاہ میں آنے والے اکثر لوگ دن بھر لائبریری میں اپنا وقت گزارتے، وہاں موسم کی شدت سے بچنے کے علاوہ انہیں انٹر نیٹ کی سہولت مہیا ہوتی۔ بھلے وہاں وہ پیٹ سے بھوکے ہوں لیکن کتابوں سے اپنی علم کی بھوک مٹاتے رہتے۔ شام کو ڈنر ٹیبل جب انہیں بولنے کا موقع ملتا تو وہ اول فول بکنے کی بجائے، دن بھر کی خبروں اور حالات حاضرہ پر تبصرے کرتے، کسی ناول یا افسانوی ادب پر گفتگو ہوتی، کچھ لوگوں کو تو تاریخ اور فلسفے پر اچھا خاصا عبور حاصل تھا۔
شیلٹر ہوم میں صفائی کا خیال بالکل گھر میں صفائی جیسا رکھا جاتا ہے، ہر چیز اپنی اپنی جگہ، بڑے سلیقے اور صفائی کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ صفائی کی ذمہ داری تمام افراد میں برابر تقسیم ہوتی ہے، لیکن بڑی عمر اور معذور افراد کو اس کام سے استثنا حاصل تھا۔ ہر کوئی اپنی خوشی کا کام چنتا ہے، یہاں رات کو سونے سے پہلے اور صبح کوفی پینے کے بعد صفائی کرنے کا کام شروع ہوتا ہے۔ صفائی کے کام میں لیٹرین صاف کرنے سے لے کر برتن دھونے اور میز کرسیوں کی صفائی سے لے کر فرش کی صفائی تک سب کام شامل تھے۔ شام کا کام ختم کرنے کے بعد سب مہمان کچھ دیر کے لیے اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہو جاتے ہیں۔
پناہ گاہ میں صفائی کا کام، در اصل وہاں آئے ہوئے لوگوں کو اپنے گھر کا احساس دلانے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے سونپا جاتا ہے۔ اس لیے وہاں آئے مہمانوں کو صفائی کا کوئی ناں کوئی کام ضرور کرنا پڑتا ہے۔ وہاں کاموں کی آویزاں لسٹ کے سامنے ہر کوئی اپنا نام لکھتا اور سائن کرتا ہے۔ عبدالرحمن چونکہ شیلٹر ہوم میں نیا تھا اس لیے اسے اس قاعدے کا علم نہیں تھا کہ وہاں یہ کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسے وہاں کے مینجر نے اپنے پاس بلوایا اور کہا، عبد (امریکہ میں اکثر لوگوں کو ان کے پہلے نام سے پکارا جا تا ہے ) ، تم کون سا کام کرنا پسند کر و گے، عبد نے کاموں کی لسٹ پر نظر دوڑائی اور پھر کہا یہ ٹائلٹ کی صفائی والا کام مجھے دے دیں۔
مینجر نے عبدالرحمن کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور پوچھا، تمہیں یہ کام کیوں پسند آیا۔ اس نے کہا، اس سے شاید میرے اندر پروان چڑھتے فرعون کی فرعونیت میں کچھ کمی واقع ہو اور ویسے بھی وہ ان دنوں تزکیہ نفس کی مشق اور مراحل طے کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مینجر کو اس کی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آئی۔ اس نے بوڑھے آدمی کو کہا کہ عبد کو صفائی والا سامان دیا جائے تاکہ وہ اپنا کام شروع کر سکے۔ عبدالرحمن نے واش رومز کو خوب چمکایا اور ٹائلٹ صاف کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ یہ رونا اسے اپنی ذات کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ ان ہزاروں عظیم کارکنوں کو یاد کر کے رو رہا تھا جنہیں اس کے وطن میں چوڑا کہہ کر حقارت سے پکارتا جاتا ہے۔
کھانا کھانے اور پناہ گاہ میں صفائی کا کام سرانجام دینے کے بعد اعلان ہوا کہ ہر ایک کو تھوڑی دیر باہر لان میں جانے، تازہ ہوا کھانے اور سگریٹ وغیرہ پینے کی اجازت ہے۔ کچھ مہمان باہر ہوا خوری کرنے چلے گئے، کچھ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنی پسند کا ٹاک شو دیکھنے لگے، کچھ نے لائبریری سے کتابیں اٹھائیں اور ایک کونے میں جاکر کتابوں کے اوراق میں گم ہو گئے۔ دس بجے کے قریب پھر اعلان ہوا کہ یہ سونے کا وقت ہے اور ہر کوئی برش وغیرہ کر کے اپنے بستر پر چلا جائے۔ وہاں کسی کو موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی کہ کوئی کسی کے آرام میں مخل نہ ہو۔
عجیب بات ہے کہ شیلٹر ہوم میں ٹی وی کا چینل بدلنے پر کبھی جھگڑا نہیں ہو تا کیونکہ ٹی وی کا ریموٹ نگرانی کرنے والے کسی رضا کار کے پاس رکھا جاتا ہے جن کا رویہ بعض اوقات کسی پولیس والے سے کم نہیں ہوتا تھا۔ وہ شیلٹر ہوم میں ہر قسم کے جھگڑے پر قابو پانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ شیلٹر ہوم کا نگران، ٹی وی دیکھنے کے لیے کبھی دوسروں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرتا تھا بلکہ صرف ٹی وی کے ریموٹ کو اپنے کنٹرول میں رکھتا اور وہ اکثریت کی پسند کا ٹیلی ویژن پروگرام لگا کر انہیں اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔
وہاں رت جگوں کے شوقین افراد مل کر کسی شو کو دیکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور ہر من چلا اپنی اپنی پسند کے پروگرام دیکھنے کے لیے باقاعدہ ایک کمپین چلاتا ہے۔ دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی، جب اکثریت کی رائے ایک ہو جاتی ہے تو انہی کی پسند کا پروگرام یا شو ٹی وی پر لگا دیا جاتا۔ ٹی وی کا ریموٹ اپنے کنٹرول رکھنے والا فارمولا سوشل ازم نظریے کے قریب قریب معلوم ہوتا ہے اور اس سے پبلک ایڈمنسٹریشن کے لیے بڑے کام کا سبق بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ وسائل کو اپنے قابو میں رکھ کر لوگوں کو یکجا کر دیا جائے، اس طرح لوگ ایک دوسروں کے ساتھ رہنا سیکھ جائیں گے، دستیاب مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کا سوچیں گے، اس طرح امن و امان بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے اور لوگ اپنی پسند اور نا پسند چھوڑ کر ، اکثریت کی رائے کو فالو کرنا بھی سیکھ جائیں گے۔
شیلٹر ہوم میں اکثر لوگ رات کو سونے کے لیے آتے ہیں، اس لیے وہ جلد سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ عبدالرحمن کو سونے کے لیے بیڈ نمبر نائن الاٹ ہوا۔ وہاں بنکر بیڈ لگے ہوئے تھے، تمام طاق اعداد والے بیڈز اوپر اور جفت اعداد والے نمبرز نیچے تھے۔ جفت نمبر میں بستر اکثر بوڑھے لوگوں کو الاٹ کیے جاتے تاکہ انہیں اوپر چڑھنے کی دشواری سے بچایا جا سکے۔ تاہم، عبدالرحمن کے نیچے والے بیڈ پر ایک نوجوان آدمی تھا۔ اس کی حرکتیں بھی عجیب و غریب تھیں۔ وہ ہر وقت اپنے منہ میں کچھ بڑبڑاتا رہتا۔ رات کے پچھلے پہر اس نے اٹھ کر اونچا اونچا بولنا شروع کر دیا اور رات کی ڈیوٹی پر مامور نگران کے پاس جا کر عبدالرحمن کے خراٹوں کی شکایت کی۔
نگران نے عبدالرحمن کو آ کر ہلایا جلایا اور اپنے ناک کی دو نالی بندوق پر قابو پانے کے لیے کہا۔ صبح ہوئی تو وہ نوجوان جس نے رات عبد کی شکایت کی وہ اسے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا۔ عبدالرحمن جب واش روم جانے کے لیے لائن میں لگا تو وہ شخص اس کے پاس آیا اور کہا تم اپنے ملک واپس کیوں نہیں چلے جاتے، یہاں ہمارے وسائل پر قبضہ کر کے بیٹھے ہو۔ ہماری سہولتیں استعمال کر رہے۔ ہمارا حق غصب کر رہے ہو۔ رات کو سونے بھی نہیں دیتے۔ حتی کہ اس نے اونچی اونچی آواز میں یلنگ شروع کر دی۔ اتنے میں ایک نگران ان کے پاس آیا اور اس نے اسے شٹ کال دے کر چپ کروا دیا۔
بس یہی ایک نا خوشگوار واقعہ تھا جس سے عبدالرحمن کے دل ذرا ٹھیس پہنچی ورنہ اس پناہ گاہ کا عمومی ماحول نہایت انسان دوست تھا۔ ہاں مگر عبدالرحمن کا وہاں کے سٹاف کے ساتھ ایک مکالمہ بھی بڑا دلچسپ ہے جسے اس کہانی کا حصہ بنانا ضروری ہے، ایک دن عبدالرحمن شیلٹر ہوم کے کچن کی صفائی میں مصروف تھا کہ سرخ داڑھی والا شخص اس کے پاس آیا اور اس سے اس کی فیملی کے حالات پوچھنے لگا۔ باتوں باتوں میں اس نے عبدالرحمن سے کہا کہ وہ کسی مسلمان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ عبدالرحمن نے مسکرا کر اسے جواب دیا کہ ہمت کرو اور کوئی ہم پلہ مسلمان خاتون ڈھونڈ کر اس سے شادی کر لو۔ وہ بولا، نہیں تم میری اس کام میں مدد کرو۔
عبدالرحمن نے اسے بتایا کہ کسی مسلمان لڑکی کی کسی غیر مذہب سے شادی نہیں ہو سکتی تو بولا، کیوں نہیں ہو سکتی۔ تم لوگ بھی تو عیسائی لڑکیوں سے شادی کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمن نے اس سے بحث میں الجھنے کی بجائے بس اسے اتنا کہا کہ کسی مسلمان خاتون سے شادی کرنے کے لیے اسے مسلمان ہونا پڑے گا۔ سرخ داڑھی والے کا چہرہ اور سرخ ہو گیا اور اس نے طنزاً کہا، کسی مسلمان خاتون میں ایسا کیا خاص ہوتا ہے کہ مجھے اس سے شادی کے لیے اپنا مذہب تبدیل کرنا پڑے۔
عبدالرحمن نے اپنی صفائی کا کام جاری رکھتے ہوئے جواب دیا، تمہیں کسی پاک دامن عورت سے شادی کرنے کا موقع ملے گا۔ ویسے تو سب عورتیں قابل احترام ہوتی ہیں لیکن ایک مسلمان عورت خاص طور شادی ہونے تک اپنے آپ کو اپنے شوہر کے لیے پاک دامن رکھتی ہے۔ یہ جواب سن کر اس سرخ داڑھی والے کا رنگ زرد ہو گیا اور وہ خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
اس کہانی میں انسانی پناہ گاہ کو ایک درسگاہ کے طور پر دکھا یا گیا ہے، اس شیلٹر ہوم کی دیواروں کے پیچھے کئی چھپی ہوئی کہانیاں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس کا ہر مکین اپنی ایک کہانی رکھتا ہے، ہر روز کوئی نیا سبق سیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ شیلٹر ہوم شام کے مخصوص اوقات میں کھلتا ہے اور صبح سورج نکلنے کے بعد تمام دن کے لیے بند رہتا ہے۔ شاید یہ اس لیے ہے کہ رات کو انسانی ضروریات بڑھ جاتی ہیں، ویسے بھی انسان رات کے اندھیرے میں کسی انجان خوف کا شکار رہتا ہے اور رات کے گھپ اندھیروں کے ساتھ یخ بستہ ہواؤں کے چلنے کا ستم بھی شامل ہو جائے تو انسانوں کو بقا کا مسئلہ در پیش آتا ہے اور انسان کی بقا ہی سب مقدم رکھی جانی چاہیے۔ یہ انسانی پناہ گاہ بھی اسی فلسفے کی بنیاد پر بنائی گئی۔ یہاں انسانیت کا رشتہ سب سے اول سمجھا جا تا ہے، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر مذہب کے انسان کو اس امریکی شیلٹر ہوم میں خوش آمدید کہا جا تا ہے۔
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اس شیلٹر ہوم کو ایک مہمان خانے کا درجہ بھی حاصل ہے، یہاں ایک رات کی پناہ حاصل کرنے کے لیے آنے والے سبھی لوگوں کو اپنا مہمان سمجھا جا تا ہے، اس مہمان خانے میں طرح طرح کے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، ہر مہمان کے سفر کی اپنی داستان ہوتی ہے، یہ ایک مکتب نما مہمان خانہ ہے جہاں ایک رات میں انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے زندگی کے کئی سبق سیکھنے کو ملتے ہیں، یہاں کھانے کی میز پر زندگی کے دلچسپ واقعات سنائے جاتے ہیں، زندگی میں گزرے حسین لمحات کا ذکر کیا جا تا ہے، اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔
وہاں، ہر مسافر اپنے سفر کی روداد بیان کرنے کے لیے بے تاب ہو تا ہے اور اچھی بات یہ کہ ہر ایک کو بات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے اور اسے سنا جا تا ہے۔ گویا، ہر مہمان کی اپنی داستان ہے اور اس شیلٹر ہوم کی چھت کے نیچے نہ جانے کتنی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ بے گھر افراد اپنے دن بھر کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہیں، ان کے دن کی پناہ گاہ کوئی ایسی پبلک پلیس ہوتی ہے جہاں سردی سے بچا جا سکتا ہو، کسی بس اڈے کی انتظار گاہ یا پھر کوئی پبلک لائیبریری، اپنی بقا کے چکر اور دن کو سر چھپانے کے لیے لائبریری میں پناہ لینے والے بعض لوگ تو ایک ہفتے میں کئی کئی کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔ شیلٹر ہوم میں رہنے والے اکثر اپنی معلومات اور مطالعہ کے حاصلات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں، گویا ایک چھت کے نیچے معلومات کا ایک ذخیرہ جمع ہو جا تا ہے۔
عبدالرحمن بھی کچھ عرصہ اس درس گاہ کا طالب علم رہا۔ وہ اس کی زندگی کے بہترین دن تھے۔ اسے وہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ یہی وہ درس گاہ تھی جہاں سے اس نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ جانا اور سیکھا۔ اسے حضرت عیسی ؑ کے سچے پیروکاروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسے لگا جیسے وہ اپنے ملک میں کسی صوفی کی درگاہ پر رہ رہا ہو جہاں محبتوں کا درس عام کیا جاتا ہے۔ جہاں سب کے رہنے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ہے۔
وہاں گدا بھی آتے ہیں اور شاہ بھی۔ وہاں سب برابر سمجھے جاتے ہیں۔ اسی درس گاہ میں رہتے ہوئے ایک رات عبدالرحمن کو زیرو کی ویلیو معلوم کرنے کے طریقے کا انکشاف ہوا جس کے ذریعے کمپیوٹر مشینوں کی سپیڈ کو کئی گنا بڑھا یا جا سکتا ہے۔ وہ ارشمیدس کی طرح ”پالیا، پالیا“ کا نعرہ لگا کر اپنے بستر سے اٹھا تو ایک نگران نے اس کے پاس آ کر کہا، چپ کر پاگل، سب سو رہے ہیں۔ عبدالرحمن نے رب کا شکر ادا کیا کہ نگران نے اسے آ کر روک لیا ورنہ شاید وہ گلیوں میں ننگا پھرتے ہوئے اپنا ”پالیا، پالیا“ کا نعرہ لگانے کے جرم میں کسی جیل میں بھیج دیا جاتا۔


